سفری پابندیوں میں نرمی کا اعلان ہوتے ہی چین میں ٹریول ویب سائٹس پر لوگوں کا تانتا بندھ گیا

    • مصنف, فرانسز ماؤ اور فان وانگ
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • وقت اشاعت

بیجنگ کی جانب سے اگلے ماہ ملک کی سرحدیں کھولنے کے اعلان کے بعد چینی افراد فوری طور پر بین الاقوامی سفر کی بکنگز کروا رہے ہیں۔ 

بین الاقوامی سفر کے خواہشمند چینی آٹھ جنوری سے پاسپورٹ کی درخواست دے سکیں گے۔ 

اس سے قبل پیر کو چین نے اعلان کیا تھا کہ وہ ملک میں آنے والے مسافروں کے لیے قرنطینہ کی شرط ختم کر رہا ہے۔ 

چین کے اس اعلان کے بعد ٹریول ویب سائٹس پر بے انتہا ٹریفک دیکھنے میں آ رہی ہے۔ 

مگر چینی مسافر ہر ملک میں بلا روک ٹوک نہیں آ جا سکیں گے۔ 

چینیوں کے سب سے پسندیدہ سیاحتی ملک جاپان نے اعلان کیا ہے کہ چین سے آنے والے تمام مسافروں کو وہاں جانے پر کووڈ کا منفی ٹیسٹ دکھانا ہو گا یا پھر سات روز کے لیے قرنطینہ میں رہنا ہو گا کیونکہ چین میں کووڈ کیسز کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ 

انڈیا نے بھی کہا ہے کہ چین (اور چند دیگر ممالک) سے آنے والے مسافروں کو یہاں آمد پر کووڈ کا منفی ٹیسٹ دکھانا ہو گا تاہم یہ اعلان بیجنگ کی جانب سے پابندیوں میں نرمی سے پہلے کیا گیا تھا۔ 

مارکیٹنگ کمپنی ڈریگن ٹیلز انٹرنیشنل کے مطابق منگل کے روز ہونے والے اس اعلان سے پہلے لوگوں کو بین الاقوامی سفر کرنے سے روکا جا رہا تھا اور گروپ اور ٹریول پیکج کی فروخت پر پابندی تھی۔ 

ضوابط میں نرمی کے اعلان کے آدھے گھنٹے بعد ٹرپ ڈاٹ کام پر مشہور سیاحتی مقامات کے حوالے سے سرچز میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ 

اس کے علاوہ چائنہ ڈیلی کے مطابق چینی ٹریول ایجنسی قونار کی ویب سائٹ پر اس اعلان کے 15 منٹ کے اندر فلائٹس کے متعلق معلومات سرچ کرنے میں سات گنا اضافہ ہوا۔ 

عالمی وبا سے قبل چین سے 2019 میں 15 کروڑ 50 لاکھ افراد غیر ملکی سفر پر گئے تھے مگر 2020 میں یہ تعداد گھٹ کر صرف دو کروڑ تک رہ گئی۔ 

’چین کے ہسپتالوں میں گنجائش ختم‘

چین کی جانب سے سفری پابندیوں میں نرمی کا یہ اعلان ایک ایسے موقع پر ہوا ہے جب چین پابندیوں کے خاتمے کے بعد سے وائرس کے تیز پھیلاؤ سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق وہاں ہسپتالوں میں گنجائش ختم ہو چکی ہے کیونکہ عمر رسیدہ افراد تیزی سے کورونا وائرس کے باعث ہلاک ہو رہے ہیں۔

اس وقت ملک میں نئے کیسز اور اموات کے درست اعداد و شمار نامعلوم ہیں کیونکہ سرکاری سطح پر کووڈ کے اعداد و شمار شائع نہیں کیے جا رہے۔

یہ بھی پڑھیے

بیجنگ کی جانب سے گذشتہ ہفتے ہر روز چار ہزار سے زیادہ نئے کیسز اور چند اموات رپورٹ کی گئی تھیں۔

اتوار کو چین کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ وہ کیسز کی تعداد شائع نہیں کریں گے۔

تاہم خبر رساں ادارے روئٹرز نے رپورٹ کیا کہ صحت سے متعلق اعداد و شمار شائع کرنے والی کمپنی ایئرفنیٹی کے اندازے کے مطابق چین میں ہر روز پانچ لاکھ سے زیادہ کیسز اور پانچ ہزار سے زیادہ اموات ریکارڈ کی جا رہی ہیں۔

چین دنیا کی وہ آخری بڑی معیشت ہے جس نے تین سال کے لاک ڈاؤنز، سرحدوں کی بندش، قرنطینہ کی شرط کے بعد بالآخر ’کووڈ کے ساتھ زندگی گزارنے‘ کی پالیسی اپنائی ہے۔

اس نام نہاد زیرو کووڈ پالیسی نے معیشت پر برے اثرات بھی ڈالے اور شہری ان پابندیوں اور بار بار کیے گئے ٹیسٹوں سے خاصے پریشان ہو گئے تھے۔

اس پالیسی کے بعد صدر شی جن پنگ کے خلاف نومبر میں مظاہرے ہونا شروع ہو گئے تھے جس کے بعد حکام نے کووڈ سے متعلق قواعد میں اگلے ہی ہفتے نرمی کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

 سرحدوں کی بندشیں بھی اس حوالے سے سب سے بڑی پابندی تصور کی جا رہی تھی۔

مارچ 2020 سے جو بھی مسافر چین میں داخل ہوا، اس کے لیے سرکاری قرنطینہ مراکز میں زیادہ سے زیادہ تین ہفتے تک وقت گزارنا لازم قرار دیا گیا تھا۔ حال ہی میں اس میعاد کو کم کر کے پانچ دن کر دیا گیا تھا۔

تاہم پیر کو قومی ہیلتھ کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ کووڈ کو آٹھ جنوری کو متعدی بیماریوں کی درجہ بندی میں کلاس بی میں ڈاؤن گریڈ کر دیا جائے گا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ قرنطینہ کی شرط بھی ختم کر دی جائے تاہم ملک میں آنے والوں کو پی سی آر ٹیسٹ دینا ہو گا۔ تاہم ایک دن میں چین میں آنے والی پروازوں کی مجموعی تعداد میں کمی لائی گئی ہے۔

حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ ایسے غیرملکیوں کو ویزا مراحل میں ’ترجیح‘ دیں گے جو چین میں کام اور پڑھائی کے سلسلے میں آنا چاہتے ہیں یا گھر والوں سے ملنے ملک واپس آ رہے ہیں۔

فی الحال یہ معلوم نہیں ہے کہ اس کا مطلب سیاحوں کو دیے گئے ویزا بھی ہیں تاہم حکام کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی بحری جہازوں کے لیے پائلٹ پروگرام دوبارہ شروع کیا جائے گا۔

چینی شہریوں کی جانب سے ان نئے احکامات کو خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے اور اس سے اکثر شہریوں کو ملک سے باہر جانے میں بھی آسانی ہو گی۔ ملک کی بڑی ٹریول ایجنسی نے اس فیصلے کے بعد لوگوں کی جانب سے درخواستوں میں اضافے کی اطلاع بھی دی ہے۔

کچھ لوگوں نے اس حوالے سے غصے کا بھی اظہار کیا ہے کہ انھیں کئی سال تک پابندیوں میں زندگی گزارنی پڑی۔ شنگھائی کی ریچل لیو نے کہا کہ ’میں خوش لیکن میرے پاس الفاظ بھی نہیں ہیں۔ اگر ہم اتنی آسانی سے دوبارہ سب کھول رہے ہیں تو مجھے اس سال روز کووڈ ٹیسٹ اور لاک ڈاؤنز کی صعوبتیں کیوں برداشت کرنی پڑیں۔‘

انھوں نے کہا کہ انھوں نے اپریل کے بعد تین ماہ تک لاک ڈاؤنز کا سامنا کیا لیکن حالیہ ہفتوں میں ان کے خاندان کے تمام افراد کووڈ سے متاثر ہو چکے ہیں۔

ادھر پاکستان میں قومی ادارہ صحت کے مطابق کورونا وائرس کی نئی اقسام کی نگرانی کے لیے ایئر پورٹس اور دیگر داخلی راستوں پر نگرانی بڑھا دی گئی۔

گذشتہ روز اسلام آباد میں این ڈی ایم اے کے اجلاس میں کووڈ کی نئی اقسام سے نمٹنے کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا تھا۔

قومی ادارہ صحت کی بریفنگ میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان کی 90 فیصد آبادی کو کورونا ویکسین لگ چکی ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ کورونا وائرس کی نئی اقسام کی نگرانی کے لیے ایئر پورٹس اور ملکی انٹری پوائنٹس پر نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔