’کیک میں چھپکلی‘: وائرل ویڈیو کے بعد فوڈ اتھارٹی نے اسلام آباد میں بیکری سیل کر دی

اسلام آباد فوڈ اتھارٹی

،تصویر کا ذریعہIslamabad Food Authority

    • مصنف, اعظم خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

ابھی سوشل میڈیا پر کیک میں سے چھپکلی نکلنے کی مبینہ ویڈیو پر بحث جاری تھی کہ اسلام آباد فوڈ اتھارٹی نے ’لیئرز بیکری‘ کی ایک برانچ پر چھاپہ مار کر اسے سیل کر دیا۔

فوڈ اتھارٹی کے حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ اتوار کو چھاپے کے دوران معلوم ہوا کہ بلیو ایریا میں واقع اس بیکری پر زائد المعیاد اشیا خورد و نوش اور صفائی کے ناقص انتظامات پائے گئے، جس وجہ سے اسے عارضی طور پر سیل کیا گیا ہے۔

اسلام آباد میں فوڈ اتھارٹی کی ڈپٹی ڈائریکٹر آپریشنز ڈاکٹر طاہرہ صدیق نے واضح کیا ہے کہ وفاقی دارالحکومت کے شہریوں کی صحت اور فوڈ سیفٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

اس سے قبل لیئرز بیکری نے ایک پیغام میں سوشل میڈیا پر ان تصاویر اور ویڈیوز کی سختی سے تردید کی ہے جن میں ان کے کیک سے چھپکلی نکلنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔

Bakers

،تصویر کا ذریعہIslamabad Food Authority

پاکستانی سوشل میڈیا پر گذشتہ کئی دنوں سے کیک سے چھپکلی نکلنے کی تصاویر اور ویڈیوز گردش کر رہی ہیں جن کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ اگرچہ سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ ویڈیو فیصل آباد کی ہے۔

تو کیا انہی مناظر کو دیکھ کر اسلام آباد فوڈ اتھارٹی نے لیئرز بیکری پر چھاپہ مارا؟ اس کے جواب میں ڈاکٹر طاہرہ صدیق کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں ہے بلکہ فوڈ اتھارٹی اس طرح کی کارروائی معمول میں عمل میں لاتی ہے جبکہ عوامی شکایات پر بھی ایسی کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔

فوڈ اتھارٹی کے حکام کے مطابق بیکری کی انتظامیہ کو یہ بتایا گیا ہے کہ ان کی تیار کردہ اشیا پر پروڈکشن یونٹ کا ریکارڈ دستیاب نہیں ہے۔ یعنی یہ نہیں معلوم کہ وہ پروڈکشن یونٹ یا فیکٹری کہاں پر واقع ہے جہاں سے یہ اشیا تیار ہو کر آتی ہیں۔

حکام کے مطابق ان اشیا پر مینوفیکچرنگ کی تاریخ اور ایکسپائری کی مدت درج نہیں۔

ڈاکٹر طاہرہ کے مطابق ان کی سربراہی میں فوڈ اتھارٹی کی ٹیم نے اتوار کو جس بیکری پر چھاپہ مارا وہ ایک خاص برانڈ کی آؤٹ لٹ ہے، جس کے ساتھ ایک چھوٹا سا سٹوریج روم بھی ہے۔

فیصل آباد کا واقعہ بے بنیاد، اسلام آباد میں کچھ کوتاہی ضرور ہوئی: لیئرز کا مؤقف

Food

،تصویر کا ذریعہFood Authortiy Islamabad

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

لیئرز کے ایک ترجمان فہد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی ملک بھر میں 23 برانچز ہیں اور پنجاب سمیت فوڈ اتھارٹیز معمول میں ان برانچز کا معائنہ کرتی ہیں اور اس دوران اسلام آباد کے ایف ٹین سیکٹر میں اسلام آباد فوڈ اتھارٹی نے کچھ کوتاہیوں کی نشاندہی کی اور اسے عارضی بنیاد پر سیل کیا۔

ترجمان نے بتایا کہ ایک مین میڈ سٹکر نہ ہٹانے یا اسے چپکا رہنے دینے والی بھی منیجر کی غلطی تھی، جسے ہیومن ایرر سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق لیئرز اتھارٹی کی بتائی ہوئی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے اس برانچ کو جلد سے جلد دوبارہ آپریشنل کرانے کی کوشش کرے گی۔

ان کے مطابق سیل کردہ برانچ پر عملے سے کچھ کوتاہیاں ضرور ہوئیں مگر اب لیئرز انھیں آگاہی دی ہے کہ وہ کیسے اس معیار کو یقینی بنائیں جو لیئرز کی دوسری برانچز میں برقرار رکھا جاتاہے۔

ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے فیصل آباد میں لیئرز کی سول لائنز میں واقع بیکری سے متعلق سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پلان کے تحت جب ایک صارف نے لیئرز کے خلاف یہ ٹویٹ کی کہ کیک کے اندر سے چھپکلی نکل آئی ہے تو اس کی تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ ویڈیو محض ایک بے بنیاد پروپیگنڈہ کا حصہ تھی۔

ترجمان کے مطابق لیئرز کی تمام چیزیں بالکل تازہ تیار ہوتی ہیں اور اتھارٹیز مختلف جگہوں پر کمپنی کے پروڈکشن یونٹس کے بھی معمول کے مطابق معائنے کر چکی ہیں۔ فہد خان کے مطابق لیئرز صفائی کے معیار کا بھی خاص خیال رکھتی ہے اور اس مقصد کے لیے ہر برانچ میں ملازمین بھرتی کیے ہوئے ہیں۔

فہد خان نے مزید بتایا کہ کمپنی کے کیک ڈیڑھ سو سینٹی گریڈ پر بیک ہوتے ہیں اور کیک کی تیاری کے اس پورے عمل میں یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ کوئی باہر سے چیز گر جائے اور اگر ایسا ہو بھی تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اس کی ہیئت سلامت رہ جائے۔

ان کے مطابق جس صارف نے پلانٹڈ ٹویٹ کی ہے اس نے جمعے والی رات اپنی ٹویٹ کے تقریبا آدھے گھنٹے بعد لیئرز کی برانچ سے کیک خریدا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک ٹریپ تھا اور اب پیر سے اس بے بنیاد مہم میں ملوث ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

لیئرز بیکری

،تصویر کا ذریعہLayers

یہ بھی پڑھیے

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی لیئرز بیکری کی انتظامیہ نے جمعے کی رات سے سوشل میڈیا پر وائرل اس ویڈیو پر وضاحت جاری کی تھی۔

اپنے اس وضاحتی بیان میں لیئرز انتظامیہ نے کہا تھا کہ ’ہم ذمہ داروں کے خلاف سائبر کرائم کے تحت قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔‘

لیئرز انتظامیہ نے وضاحت کی کہ ’ہماری فیکٹری صفائی کے اعلیٰ معیار کو اختیار کیے ہوئے ہے اور ایسے میں باہر سے کسی شے یا مبینہ چھپکلی کا کیک سے نکلنا ناممکن ہے۔‘