یورینس کی نئی حیرت انگیز تصویر جس میں اس کے روشن رنگز پر ’جگمگاتی انگوٹھیوں‘ کا گمان ہوتا ہے

،تصویر کا ذریعہNASA
- مصنف, ڈرافٹنگ
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے نظام شمسی کے ساتویں سیارے یورینس کی نئی تصویر جاری کی ہے جسے جیمز ویب سپیس ٹیلی سکوپ سے بنایا گیا ہے۔
ہمارے نظام شمسی میں موجود اس سیارے کے گرد موجود کبھی یہ دائرے اتنے واضح نہیں دکھائی دیے جتنے اس حالیہ تصویر میں نظر آ رہے ہیں۔
امریکی خلائی ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق انفراریڈ ویوز اور جیمز ویب ٹیلی سکوپ باریک بینی سے سیارے کے ماحول میں موجود شاندار دائروں اور دلچسپ ڈیٹا کو سامنے لے کر آئے ہیں۔
اس سے قبل جب سنہ 1986 میں ’وائر 2‘ خلائی جہاز نے یورینس کے پاس سے اڑان بھری تھی تو اس کے کیمرے نے تقریباً بغیر کسی واضخ خدوخال کے یورینس کو نیلے سبز رنگ کی گیند جیسا دکھایا تھا۔
یورینس نظام شمسی میں موجود سیاروں میں منفرد خصوصیات کا حامل سیارہ ہے۔ یہ وہ واحد سیارہ ہے جو اپنے مدار میں تقریباً 90 ڈگری کے زاویے پر اپنے اطراف گھومتا ہے۔
یورینس کے اس طرح گھومنے سے سیارے کے قطب سالہا سال مسلسل سورج کی روشنی کا سامنا کرتے ہیں اور اس کے بعد اتنے ہی سال وہاں گھپ اندھیرا رہتا ہے۔
سیارے کا اس طرح گردش کرنا وہاں موسموں کی شدت کا سبب بھی بنتا ہے۔
یورینس پر ایک دن 17 گھنٹے اور 14 منٹ کے دورانیے کا ہوتا ہے جس میں وہ اپنے آپ کو ترچھے انداز میں اپنے مدار میں گھماتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم سورج کے گرد اپنا چکر مکمل کرنے میں اسے جو ایک سال کا وقت لگتا ہے وہ ہماری زمین کے 84 سال کے برابر ہے یعنی زمین کے 30 ہزار 687 دن کے برابر یورینس کا ایک سال ہوتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہNASA
یورینس کے 13 کل معلوم رنگز(دائرے ) ہیں اور جن میں سے 11 اس ناسا کی حالیہ ویب امیج میں دکھائی دے رہے ہیں۔
کچھ رنگز اتنے روشن نظر آتے ہیں کہ گویا بڑی سی روشن انگوٹھی ہو۔ یورینس کے اب کے دریافت شدہ 13 دائرے ہیں اور ان میں سے 11 اس ویب امیج میں دکھائی دے رہے ہیں۔ کچھ رنگز اتنے روشن نظر آتے ہیں کہ وہ ایک بڑی انگوٹھی دکھائی دیتے ہیں۔
یہ تصویر یورینس کے 27 ’معلوم‘ چاند کو بھی ظاہر کرتی ہے، ان میں سے بیشتر بہت چھوٹے سائز کے ہیں۔
آئس جائنٹ پر موجود پولر کیپ کیا ہے
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
یورینس کی ٹھوس سطح پر زیادہ تر مائع برف موجود ہے۔ برف سے ڈھکے ہونے کے باعث نیپچون اور یورینس کو ’آئس جائنٹ‘ بھی کہا جاتا ہے۔
سیارے کی حالیہ امیج میں نیلے رنگ کا ایک ہالا دکھائی دے رہا ہے جو دو فلٹرز سے حاصل کیے گئے ڈیٹا کو ملا کر بنایا گیا ہے۔
جیمز ویب ٹیلی سکوپ کے نیئر انفرا ریڈ کیمرے نے یورینس کے رنگوں کو ظاہر کیا ہے۔ تصویر میں سیارے کے دائیں جانب کے حصے کو پولر کیپ ( قطبی ٹوپی) کہا جاتا ہے جو سورج کی جانب قطب پر جگمگاتا دکھائی دے رہا ہے۔
یہ بات ابھی تک ایک معمہ ہے کہ اس سیارے میں یہ قطبی حصہ گرمیوں میں نمودار ہو کر سردیوں میں غائب کیوں ہو جاتا ہے اور یہ پولر کیپ کس طریقہ کار کے ذریعے پیدا ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے:
تصویر میں سیارے کے دائیں جانب کے حصے کو پولر کیپ ( قطبی ٹوپی) کہا جاتا ہے جو سورج کی جانب قطب پر جگمگاتا دکھائی دے رہا ہے ۔
یہ بات ابھی تک ایک معمہ ہے کہ اس سیارے میں یہ قطبی حصہ گرمیوں میں نمودار ہوکر سردیوں میں غائب کیوں ہو جاتا ہے اور یہ پولر کیپ کس طریقہ کار کے ذریعے پیدا ہوتی ہے۔
پولر کیپ کے کنارے پر ایک روشن بادل(کلاوڈ) موجود ہے جبکہ کرہ ارض کے بالکل بائیں جانب ایک دوسرا روشن بادل ہے اور دونوں بادلوں کا تعلق شاید وہاں کے طوفان کو ظاہر کر رہا ہے۔ اس تصویر کو کھینچنے کے لیے جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کو 12 منٹ لگے تھے۔
ناسا کے مطابق جیمز ویب دوربین سیارے کے بارے میں جو کچھ ظاہر کر سکتی ہے یہ تصویر اس کی محض ایک جھلک ہے۔


























