لمز میں مذہبی رواداری پر تقریب جس میں احمدی سکالر کو شامل ہونے سے روک دیا گیا

لمز

،تصویر کا ذریعہLUMS LAHORE

    • مصنف, ترہب اصغر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور
  • وقت اشاعت

’جس رواداری پر ہم بات کرنا چاہتے تھے اس کا یہ عالم ہے کہ لمز جیسے ادارے بھی پریشر میں آ کر ہمیں بات کرنے سے بھی روک دیتے ہیں۔‘

یہ احمدی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر مرزا سلطان کے الفاظ ہیں جن کو گذشتہ دنوں لاہور کی لمز یونیورسٹی میں مذہبی رواداری کی تقریب میں بطور سپیکر مدعو کیا گیا لیکن پھر اچانک ان کو بتایا گیا کہ وہ اس تقریب میں شرکت نہیں کر سکتے۔

بی بی سی نے اس واقعے سے جڑے تمام کرداروں سے اس کی وجوہات جاننے کی کوشش کی ہے تاہم لمز یونیورسٹی کی انتظامیہ کی جانب سے جواب نہیں دیا گیا۔

واضح رہے کہ ڈاکٹر مرزا سلطان کو چھ دسمبر کو ہونے والی اس تقریب میں شرکت اور بطور مہمان گفتگو کی دعوت ایمنسٹی انٹرنیشنل لمز چیپٹر نے دی تھی جن کا دعویٰ ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے ان کو پیغام بھجوایا گیا کہ ان پر دباؤ ہے کہ احمدی کمیونٹی کے نمائندے کو تقریب میں شریک نہ کیا جائے۔

اس تقریب میں مختلف اقلیتی گروہوں، ہندو، مسیحی، سکھ اور دیگر مذاہب کے نمائندوں کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم احمدی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر مرزا سلطان کے بجائے اُن کی خالی کرسی سٹیج پر رکھی گئی۔

جب ڈاکٹر مرزا سلطان کو بات کرنےسے روکا گیا تو تقریب کے منتظمین لمز ایمنسٹی کی جانب سے ٹوئٹر پر ایک بیان جاری کیا گیا۔

اس بیان میں کہا گیا کہ ’چھ دسمبر 2022 کو ایمنسٹی انٹرنیشنل لمز چیپٹر نے پاکستان میں رواداری پر ایک مذاکرے کی میزبانی کرنے کا ارادہ کیا۔‘

’بدقسمتی سے، ہمیں اچانک کہا گیا کہ جس احمدی نمائندے کو ہم نے کل رات بات کرنے کے لیے بلایا تھا، اسے چھوڑ دیں۔‘

انھوں نے مزید لکھا کہ ’اس بات کا ذکر کرنے کا مقصد لمز پر تنقید کرنا نہیں بلکہ ان لوگوں کو سمجھانا ہے جو آنے والے مہمان کے منتظر تھے کہ وہ آج وہاں کیوں نہیں ہوں گے۔‘

’تمام مہمانوں کی لسٹ کچھ دن پہلے منظور ہوئی، لیکن یونیورسٹی کے او ایس اے نے ہمارے مہمانوں کے پروفائلز کو دوبارہ چیک کرنے کا فیصلہ کیا، جس کے بعد انھوں نے ہمیں بتایا کہ ہمارے احمدی سپیکر نہیں آ سکتے۔‘

’جب ہم نے پوچھا تو ہمیں بیرونی مداخلت کے بارے میں بتایا گیا۔ جس پر ہم نے کہا کہ لمز جیسے ادارے کا یہ سب کرنا حیران کن ہے۔ ہمیں یہ کہا گیا کہ کوئی بات نہیں اگر وہ نہیں آ رہے، کیونکہ دوسری اقلیتوں کے نمائندے اب بھی آ رہے ہیں۔‘

اس معاملے پر بی بی سی کی جانب سے لمز یونیورسٹی کی انتظامیہ سے ان کا موقف لینے کے لیے رابطہ کیا گیا اور چند سوالات کے جوابات بھی مانگے گئے لیکن ان کی جانب سے کسی قسم کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

پاکستان

،تصویر کا ذریعہLUMS AMNESTY

’احمدی کمیونٹی کے ساتھ ایسا سلوک عام سی بات ہے‘

اس معاملے پر بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے احمد کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر مرزا سلطان کا کہنا تھا کہ مجھے کئی دن پہلے اس تقریب کی دعوت دی گئی تھی جسے میں نے قبول کیا۔

’لیکن ایک رات پہلے مجھے ایک میسج کر دیا گیا کہ آپ اس تقریب کا حصہ نہیں بن سکتے ہیں۔‘

انھوں نے منتظمین کی جانب سے کیے گئے میسج کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ جن طلبا نے مجھے مدعو کیا تھا انھوں نے یہ میسیج کیا کہ میرے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اور میں آپ سے بہت معذرت خواہ ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، احمدی کمیونٹی کے ساتھ پاکستان میں ایسا سلوک ایک عام سی بات ہے۔‘

’جس روادای پر ہم بات کرنا چاہتے تھے اس کا یہ عالم ہے کہ لمز جیسے ادارے بھی پریشر میں آ کر ہمیں بات کرنے سے بھی روک دیتے ہیں۔‘

’میں پانچ کتابوں کا مصنف ہوں اور کئی سو تحریریں احمدیوں کے خلاف ہونے والے مظالم پر لکھ چکا ہوں۔ مجھ سے بہتر اس بارے میں کون بات کر سکتا تھا۔‘

پاکستان

،تصویر کا ذریعہAMNESTY LUMS

’ہمیں یہ بھی برداشت نہیں کہ وہ کہیں جا کر اپنے بارے میں بات بھی کر سکیں‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اس واقعے پر مزيد بات کرتے ہوئے اس تقریب کے موڈریٹر تیمور رحمان کا کہنا تھا کہ ’میں شہر سے باہر تھا، جب میں اس تقریب کے لیے لاہور آیا تو ایمنسٹی لمز کی صدر نے بتایا کہ ہمیں انتظامیہ کی جانب سے بلایا گیا اور کہا گیا کہ آپ ڈاکٹر سلطان مرزا کو نہیں بلائیں گے۔‘

’انھوں نے مزید وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں کال موصول ہوئی ہے اور انھیں نہ بلانے کے لیے ہم پر دباؤ ہے۔‘

’تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ کال کہاں سے موصول ہوئی ہے اور کس کی طرف سے دباؤ ہے۔‘

ان کا مزيد کہنا تھا کہ ’اس تقریب کا انعقاد ہی اس لیے کیا گیا تھا کہ ہم ہاکستان میں پائی جانے والی مذہبی عدم برداشت کے بارے میں بات کر سکیں اور اقلیتوں کے مسائل پر بات کر سکیں۔‘

’لیکن جس مقصد کے لیے یہ تقریب رکھی گئی تھی اس کو ہی پورا نہیں ہونے دیا گیا۔ پینل میں شریک سکالر جاويد احمد غامدی صاحب نے بھی اس واقعے کی مذمت کی۔‘

’یہ تو حقیقت ہے کہ پاکستان میں احمدی کمیونٹی محفوظ نہیں ہے۔ اگر ہم انھیں بطور پاکستانی ان کو اقلیت نہیں سمجھتے تو پھر وہ ہیں کیا؟‘

انھوں نے کہا کہ ’تعلیم کے حق کے محروم کرنا، ان کی جان غیر محفوظ ہونا، ان کے ساتھ کاروبار نہ کرنا، کسی حکومتی یا بڑے عہدے پر انھیں قبول نہ کرنا۔۔۔ یہ سب ہوتا آ رہا اور اب تک ہو رہا ہے بلکہ گزرتے دنوں کے ساتھ یہ رویے بڑھتے جا رہے ہیں۔‘

’اب نوبت یہاں تک آ گئی ہے کہ ہمیں یہ بھی برداشت نہیں ہے کہ وہ کہیں جا کر اپنے بارے میں بات بھی کر سکیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’لمز جیسے ادارے کی جانب سے ایسا رویہ سامنے آنا افسوسناک ہے کیونکہ لمز کو ایک ایسا ادارہ سمجھا جاتا جہاں ہر قسم کی بات کرنے کی آزادی ہے۔‘

’اگر احمدیوں کے لیے ایسے پلیٹ فارم بھی بند کر دیے گئے ہیں تو وہاں کہاں جائیں گے۔‘

’یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مذہب سے پہلے وہ انسان ہیں اور وہ پاکستانی بھی ہیں۔ جبکہ احمدی کمیونٹی کے بنیادی حقوق کی حفاظت کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے جو ہمیں کہیں نظر نہیں آتی۔‘