چینی فیکٹریوں سے میکسیکو کی لیبارٹریوں تک: ایک یونیورسٹی گریجویٹ کی ’فینٹینل کا بادشاہ‘ بننے کی کہانی

    • مصنف, شان یوان
    • عہدہ, بی بی سی گلوبل، چین یونٹ
    • مقام, کولیاکان، میکسیکو
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 12 منٹ

’برادر وانگ بہت اہم تھا۔ وہ نمبر ون تھا۔‘

یہ بات کہتے ہوئے اینریکے معنی خیز انداز میں مسکرا رہے تھے۔

اینریکے (فرضی نام) خود کو میکسیکو کے سینالوا کارٹیل میں ایک اعلیٰ سطح کا رابطہ کار بتاتے ہیں، جو دنیا کی طاقتور ترین جرائم پیشہ تنظیموں میں سے ایک ہے۔

ریاست سینالوا کے دار الحکومت کولیاکان کے مضافات میں، ایک گاڑی میں بیٹھے ہوئے، جہاں کوئی ان کی بات نہ سن سکے، وہ وضاحت کرتے ہیں کہ مہلک منشیات فینٹینل بنانے کے اجزا کس طرح ہزاروں میل دور چین کی فیکٹریوں سے میکسیکو کی لیباریٹریوں تک پہنچائے جاتے ہیں۔ ان کے کارٹیل کے ارکان کے مطابق یہ سپلائی چین بنانے والے برادر وانگ ہیں۔

امریکی محکمہ انصاف کے مطابق جرائم کی دنیا میں ’فینٹینل کے بادشاہ‘ کے نام سے معروف برادر وانگ دراصل 39 سالہ چینی شہری ژانگ ژی ڈونگ ہیں۔ سنہ 2024 میں میکسیکو میں گرفتار ہونے والے ژانگ بعد میں ڈرامائی انداز میں فرار ہو گئے تھے، تاہم 2025 میں دوبارہ گرفتار کیے جانے کے بعد انھیں امریکہ کے حوالے کر دیا گیا۔

فینٹانائل ایک مصنوعی اوپیئڈ (ایسی دوا جو اعصابی خلیوں پر اثر انداز ہو کر درد کو کم کرتی ہے اور سرور یا کیف کی کیفیت پیدا کرتی ہے) ہے جو ہیروئن سے 50 گنا زیادہ طاقتور ہے۔ یہ ہر سال لاکھوں افراد کی جان لیتی ہے، جن میں زیادہ تر اموات امریکہ میں ہوتی ہیں، جہاں تیار شدہ منشیات پہنچتی ہے۔ نمک کے چند دانوں جتنی معمولی مقدار بھی جان لیوا ہو سکتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فینٹینل کے تاجروں کو ’نارکو دہشت گرد‘ قرار دیا ہے، اس منشیات اور اس کے اجزا کو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے طور پر درجہ بند کیا ہے، اور فینٹینل کی تجارت کو چین، میکسیکو اور کینیڈا پر محصولات عائد کرنے کی ایک وجہ کے طور پر استعمال کیا ہے۔

سنہ 2025 میں جب ژانگ نیویارک کی عدالت میں پیش ہوئے تو اُس وقت کے ڈپٹی اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانش نے انھیں ’دنیا کے خطرناک ترین سمگلروں‘ میں سے ایک قرار دیا۔

انھوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ ژانگ ایک ایسا عالمی نیٹ ورک چلا رہے تھے جس نے امریکہ میں بڑی مقدار میں کوکین، فینٹینل اور میتھ ایمفیٹامین پہنچائی، اور منشیات سے حاصل ہونے والی لاکھوں ڈالر کی رقم غیر قانونی طریقے سے منتقل کی۔

ژانگ نے خود کو بے قصور قرار دیا ہے اور اب اپنے مقدمے کے انتظار میں ہیں۔ ہم نے ان کے وکیل سے رابطہ کیا، تاہم جاری مقدمے کے باعث انھوں نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

کارٹیل کے ارکان اور سابق ساتھیوں نے بی بی سی سے بات کرنے پر آمادگی ظاہر کی تاکہ اس بات کی ایک نایاب جھلک پیش کی جا سکے کہ ان کے خیال میں چین کی سب سے ممتاز یونیورسٹی کے ایک گریجویٹ ژانگ کس طرح مبینہ طور پر کیمیکل ساز چینی اداروں اور میکسیکو کی منشیات کی لیباریٹریوں کے درمیان ایک اہم کڑی بن گئے۔

ژانگ کون تھے؟

ژانگ نے سنہ 2010 میں بیجنگ کی پیکنگ یونیورسٹی سے ہسپانوی زبان میں ڈگری حاصل کی اور ایک سال بعد میکسیکو میں لوہے کی کان کنی کرنے والی ایک کمپنی میں گئے جو ایک چینی شہری کی ملکیت تھی۔ جلد ہی انھیں ایک اعلیٰ عہدہ مل گیا۔

اس وقت انھیں جاننے والوں کے نزدیک وہ ایک ذہین نوجوان پروفیشنل تھے جنھیں بیرون ملک زندگی کا شوق تھا۔

ایلکس (فرضی نام) کہتے ہیں: ’وہ لوگوں سے بات چیت اور مذاکرات کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے اور ہر قسم کے ماحول کے مطابق خود کو ڈھال سکتے تھے۔‘

ایلکس نے اسی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی اور بعد میں میکسیکو میں اسی کان کنی کمپنی میں ژانگ کے ساتھ کام کیا۔

ان کے مطابق ژانگ ہسپانوی زبان بہترین بولتے تھے اور ہر قسم کے لوگوں سے بات چیت کر سکتے تھے، اگرچہ ان کے لہجے میں بیجنگ کی جھلک نمایاں رہتی تھی۔

ایلکس کے مطابق میکسیکو میں کاروبار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ بعض اوقات جرائم کی دنیا، بشمول ملک کے اہم حصوں پر کنٹرول رکھنے والے کارٹیلز سے بھی واسطہ پڑتا تھا۔ ان کے بقول ژانگ نے ’مقامی طور پر اہم ہر سرکاری اور غیر سرکاری شخص کے ساتھ تعلقات قائم کر لیے تھے۔‘

ایلکس کے مطابق ژانگ کو میکسیکو کا یہی پہلو پسند تھا، اور وہ انھیں خطرہ مول لینے اور لاپروائی کی طرف مائل شخص کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ انھیں یاد ہے کہ ژانگ نے ایک بار اپنے باس کی گاڑی کہیں مار دی تھی لیکن نتائج کی پروا نہیں کی، اور ایک رات انھیں شہر سے باہر لے جا کر ویران شاہراہ پر سڑک کنارے لگے اشاروں پر پستول سے فائرنگ کی تھی۔

سنہ 2013 میں کان کنی کی کمپنی بند ہو گئی اور ایلکس چین واپس چلے گئے، مگر ژانگ میکسیکو میں ہی رہے۔

ایلکس کا کہنا ہے کہ ایک دو سال بعد ژانگ نے پیکنگ یونیورسٹی کے ہسپانوی زبان کے سابق طلبہ کے وی چیٹ گروپ میں پیغامات بھیجنا شروع کیے۔ وہ بہتر شرح پر ڈالر تبدیل کرنے کی پیشکش کیا کرتے تھے۔ ایلکس کا خیال ہے کہ وہ منی لانڈرنگ کر رہے تھے۔

اس کے علاوہ، کارٹیل رکن اینریکے کا کہنا ہے کہ ژانگ منشیات کے کاروبار میں بھی شامل ہو گئے تھے۔ امریکہ میں عدالت میں جمع کرائی گئی دستاویزات کے مطابق ژانگ پر جون 2016 سے ’منشیات سمگلنگ اور منی لانڈرنگ کی ایک بڑی تنظیم‘ چلانے کا الزام ہے۔

اینریکے کا خیال ہے کہ ژانگ نے کارٹیل کے ایک رہنما کی خاتون رشتہ دار کے ساتھ رومانوی تعلق قائم کیا اور ان کے بقول اسی سے انھیں تنظیم کے اندرونی حلقے تک رسائی ملی۔

سپلائی چین

کارٹیل کے ایک اور رکن لوئس (فرضی نام) جو تنظیم کے لیے مختلف کام انجام دیتے تھے، سنہ 2019 کی ایک گرم دوپہر کو یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ان کے باس نے انھیں ایسی ملاقات کے دوران پہرا دینے کا کہا جہاں ژانگ ’اپنی مصنوعات پیش کرنے آئے تھے۔‘

لوئس کے مطابق یہ مصنوعات دراصل پریکرسرز تھیں، یعنی وہ کیمیائی اجزا جن سے فینٹینل تیار کی جاتی ہے۔ لوئس ژانگ کو وہ شخص سمجھتے ہیں جس نے عملی طور پر انھیں فینٹنل سے متعارف کرایا اور گروپ کے اس کاروبار کی بنیاد رکھی۔

لوئس کا کہنا ہے کہ وہ جلد ہی ایک فینٹینل کُک بن گئے، یعنی خفیہ لیباریٹری میں یہ منشیات تیار کرنے لگے۔ ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے کم از کم پانچ دوسرے منشیات بنانے والوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے مرتے دیکھا ہے، اور ان کے خیال میں ایسا اس لیے ہوا کہ فینٹینل کی تیاری کے لیے وہ جو مادے استعمال کر رہے تھے وہ حفاظتی لباس کی درزوں سے اندر سرایت کر گئے تھے۔

وہ کہتے ہیں: ’کبھی کبھی لوگ اچانک بے ہوش ہو جاتے اور ہمیں انھیں کمرے سے اٹھا کر باہر لے جانا پڑتا۔‘

اینریکے بتاتے ہیں کہ پریکرسرز کے آرڈر کیسے ژانگ کو دیے جاتے تھے، جو ان کے بقول چین میں اپنے رابطوں کے ذریعے یہ کیمیکلز حاصل کرتے تھے۔

اینریکے کے مطابق پھر یہ اجزا ہوائی یا بحری راستے سے میکسیکو پہنچائے جاتے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کے بعد ان کا اپنا نیٹ ورک انھیں سینالوا کی خفیہ لیباریٹریوں میں موجود فینٹینل تیار کرنے والوں، جیسے لوئس، تک پہنچاتا تھا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اتنی ہلاکتوں کا سبب بننے والی صنعت میں شامل ہونے پر انھیں جرم کا احساس ہوتا ہے تو اینریکے نے کہا کہ ان کے ایک عزیز کی موت فینٹینل کی زیادہ مقدار لینے سے ہوئی تھی۔

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ آپ کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیتا ہے،‘ لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں: ’کام تو کام ہے اور ہمیں روزی کمانے کا کوئی اور طریقہ نہیں معلوم۔‘

اسی سوال کے جواب میں لوئس کہتے ہیں کہ انھوں نے ایک بار لیباریٹری میں کام چھوڑنے کی کوشش کی تھی، مگر ان کے باس نے کہا کہ متبادل یہ ہے کہ: ’تم باہر جا کر لڑو، یا پھر کُک کے طور پر کام کرو۔‘

میکسیکو کی سکیورٹی ایجنسیوں کے مطابق ژانگ کی غیر قانونی کارروائیوں کا دائرہ امریکہ کے برِّاعظموں سے لے کر یورپ، چین اور جاپان تک پھیلا ہوا تھا۔

تھنک ٹینک اِن سائٹ کرائم سے وابستہ محقق وکٹوریہ ڈِٹمار کئی برسوں سے میکسیکو میں پریکرسر کیمیکلز کی آمد کا جائزہ لے رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بروکرز، خیال کیا جاتا ہے کہ ژانگ یہی کردار ادا کرتے تھے، کیمیکل تیار کرنے والوں اور کارٹیلز کے درمیان انتہائی اہم مقام پر ہوتے ہیں۔

ان کے مطابق ژانگ جیسے وسیع رابطوں کے حامل لوگ ’بہت منفرد‘ ہوتے ہیں اور ’سپلائی چین کے لیے کلیدی اہمیت رکھتے ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں: ’ژانگ ایک ایسے بروکر تھے جو میکسیکو کی سمگلنگ تنظیموں کو پریکرسر کیمیکلز کے چینی سپلائرز سے جوڑتے تھے‘، اور ان کے مطابق یہ ایسی دنیا ہے جس میں باہر کے لوگوں کے لیے راستہ بنانا مشکل ہوتا ہے۔

وہ مزید کہتی ہیں: ’امریکہ میں بھی ان کے وسیع پیمانے پر رابطے تھے۔ ایسا کم ہی دیکھنے میں آتا ہے، ایک ہی شخص جو تین خطوں کو آپس میں جوڑ سکے۔‘

میکسیکو کے حکام کے مطابق ژانگ ایک ہزار کلوگرام سے زیادہ کوکین، 1800 کلوگرام فینٹینل اور 600 کلوگرام میتھ ایمفیٹامین برآمد اور تقسیم کرنے کے ذمہ دار تھے۔ ان پر 150 ملین ڈالر سالانہ سے زیادہ منشیات کی آمدنی سنبھالنے کا الزام بھی عائد کیا گیا۔

سنہ 2025 میں امریکی محکمہ انصاف نے ایک پریس ریلیز کے ذریعے ژانگ کے خلاف فردِ جرم کی تفصیلات جاری کیں۔ منشیات کی سمگلنگ کے الزامات کے علاوہ، اس میں کہا گیا کہ انھوں نے 100 سے زائد شیل کمپنیوں کی جانب سے بینک اکاؤنٹس کھلوانے کے لیے لوگوں کو بھرتی کیا۔

بیان کے مطابق یہ لوگ امریکہ کے مختلف مقامات سے رقم جمع کرتے، اسے شیل کمپنیوں کے بینک اکاؤنٹس میں جمع کراتے اور پھر فنڈز کو دوسرے اکاؤنٹس میں منتقل کرتے تاکہ انھیں غیر قانونی طریقے سے امریکہ سے باہر لے جایا جا سکے۔

ژانگ کے مبینہ نیٹ ورک کا دوسرا سرا چین میں ہے۔ سنہ 2025 کی امریکی محکمہ خارجہ کی ایک رپورٹ کے مطابق چین منشیات بنانے میں استعمال ہونے والے پریکرسر کیمیکلز بنانے اور برآمد کرنے والے دنیا کے بڑے ممالک میں شامل ہے۔

رپورٹ کے مطابق چین کی کیمیکل صنعت ’بہت وسیع‘ ہے، جس میں ایک لاکھ 60 ہزار کمپنیاں شامل ہیں۔ اگرچہ حکام نے نگرانی کے اقدامات کیے ہیں، لیکن نگرانی کے نظام میں عملہ اور وسائل نا کافی ہیں۔

واشنگٹن میں چینی سفارت خانے نے بی بی سی کو بتایا کہ چین ’انسداد منشیات کے حوالے سے دنیا کے سخت ترین ممالک میں سے ایک‘ ہے۔

سفارت خانے نے نشاندہی کی کہ 2019 میں فینٹینل سے متعلق تمام مادوں کو ضابطے کے تحت لایا گیا تھا، جس کا مطلب ہے کہ ان پر حکومت کا سخت کنٹرول ہے۔ ان پر پابندی عائد نہیں کی گئی کیونکہ بعض مادے مختلف جائز صنعتوں میں بھی استعمال ہوتے ہیں۔

فرار اور گرفتاری

ژانگ کی منشیات کی مبینہ تجارت اچانک اس وقت رک گئی جب انھیں 31 اکتوبر 2024 کو میکسیکو میں گرفتار کر لیا گیا۔

ایک جج نے انھیں گھر پر نظر بند کرنے کا متنازع فیصلہ کیا، لیکن ژانگ مبینہ طور پر دیوار میں موجود ایک سوراخ کے ذریعے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے اور نجی طیارے کے ذریعے کیوبا اور پھر روس پہنچ گئے۔

روس کے سرحدی حکام کو معلوم ہو گیا کہ ان کے سفری کاغذات جعلی ہیں جس کے بعد انھیں واپس کیوبا بھیج دیا گیا۔ کیوبا نے انھیں میکسیکو کے حوالے کیا، جہاں سے بعد میں انھیں امریکہ کے سپرد کر دیا گیا۔

ان کی گرفتاری دنیا بھر میں سرخیوں کا حصہ بنی۔ بیجنگ کی پیکنگ یونیورسٹی کے سابق طلبہ کا نیٹ ورک، جہاں ژانگ نے ہسپانوی زبان کی تعلیم حاصل کی تھی، حیران رہ گیا۔

ایلکس کہتے ہیں: ’سب لوگ اسی بارے میں بات کر رہے تھے۔ یہ ایک انتہائی حیران کن کہانی تھی اور شاید وہ پیکنگ یونیورسٹی کی مشہور ترین شخصیات میں سے ایک ہیں۔‘

’بلی اور چوہا‘

کولیاکان میں کارٹیل کے ارکان کا کہنا ہے کہ ژانگ کی عدم موجودگی کا اثر فوراً محسوس کیا گیا۔

لوئس کا کہنا ہے کہ ’پریکرسرز حاصل کرنا واقعی بہت مشکل ہو گیا تھا۔‘

اینریکے کہتے ہیں: ’وہ اُس آدمی کو لے گئے اور اس سے افراتفری پیدا ہو گئی۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ژانگ ’وہ شخص تھے جن کے پاس روابط تھے‘ اور کارٹیلز کو ’سب کچھ نئے سرے سے شروع کرنا پڑا اور ایک نیا راستہ بنانا پڑا۔‘

تقریباً اسی دوران، امریکہ کی ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن کو سراغ ملا کہ اب آنے والے فینٹانائل اتنی خالص نہیں رہی، جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ ’ان اشاروں سے مطابقت رکھتا ہے کہ میکسیکو میں فینٹینل تیار کرنے والے بہت سے افراد کو بعض اہم پریکرسر کیمیکلز حاصل کرنے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔‘

لیکن منشیات کی سپلائی چین میں خلل عموماً عارضی ہوتا ہے، جسے ڈِٹمار ’بلی اور چوہے کے مسلسل کھیل‘ سے تعبیر کرتی ہیں۔

ان کی تحقیق نے یہ معلوم کیا ہے کہ جب بروکرز کو ہٹا دیا جاتا ہے یا اہم کیمیکلز کو کنٹرول میں لایا جاتا ہے تو فینٹینل بنانے والے متبادل تلاش کر کے اور نئے طریقہ کار سیکھ کر خود کو حالات کے مطابق ڈھال لیتے ہیں۔

سپلائی چین میں شامل افراد کو بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ حتیٰ کہ، کارٹیل ارکان کے مطابق ایسے افراد کو بھی، جن کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ان کے روابط ژانگ کی طرح گہرے اور وسیع تھے۔

اینریکے کا کہنا ہے کہ پہلے ہی ایک شخص منظر میں موجود ہے، ایک اور چینی شخص، لیکن وہ کہتے ہیں کہ ’اپنی حفاظت کے لیے‘ وہ اس سے زیادہ کچھ نہیں بتا سکتے۔

کارٹیل کے ایک اور رکن، جو خود کو کارٹیل کے اندر سامان اور افرادی قوت کی نقل و حرکت کا ذمہ دار رابطہ کار بتاتے ہیں، کہتے ہیں کہ اگرچہ ’یہ سب کچھ انھی کی وجہ سے شروع ہوا تھا [برادر وانگ]، اگر وہ چلے گئے ہیں تو کوئی اور ان کی جگہ لے لے گا۔ کاروبار نہیں رکے گا۔‘

اضافی رپورٹنگ: روتھ ایونز اور میگوئل اینجل ویگا۔