رام مندر کے افتتاح سے قبل ’جلد بازی میں بنائے گئے‘ کروڑوں کے ترقیاتی منصوبے کیسے بارش کی نذر ہوئے؟

،تصویر کا ذریعہGAURAV GULMOHAR/ BBC
- مصنف, گورو گل مہر
- عہدہ, ایودھیا سے بی بی سی ہندی کے لیے
- وقت اشاعت
یہ انڈیا میں ہندوؤں کا مقدس شہر ایودھیا ہے۔ صبح کے سات بجے ہیں، آسمان پر بادل ہیں اور ہلکی ہلکی بوندا باندی ہو رہی ہے۔ چند ماہ قبل تیار ہونے والی سڑک رام پتھ خالی خالی سی ہے۔
رواں سال افتتاح ہونے والے رام مندر کی زیارت کے لیے آنے والے چند زائرین ادھر ادھر آتے جاتے نظر آ رہے ہیں۔ شہر کے مشہور سول لائنز بس سٹینڈ پر ای رکشہ ڈرائیور صبح کی چائے پی رہے ہیں اور ایودھیا میں دھنستی ہوئی سڑکوں پر مباحثے میں مشغول ہیں۔
اسی دوران ہماری ملاقات ای رکشہ ڈرائیور ببلو سے ہوتی ہے۔ 13 کلومیٹر طویل سڑک رام پتھ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں: ’صاحب، یہ سڑک ہے ہی نہیں۔ یہاں جتنے بھی گڑھے بن رہے ہیں، وہ افتتاح بازی (افتتاح کی جلدی) کا نتیجہ ہیں۔'
وہ مزید کہتے ہیں: ’22 جنوری کو رام مندر کی عظیم تقریب کے لیے تعمیراتی کام جلد بازی میں کیا گیا تھا۔ کون جانتا ہے کہ اس میں کون سا اور کتنا مواد استعمال کیا گیا؟‘
انھوں نے کہا کہ سیاہ تارکول سے بنی اس سڑک کو بنانے کے لیے ’ہمارے مکانات گرائے گئے اور ہمیں پورا معاوضہ بھی نہیں ملا، یہی وجہ تھی کہ بی جے پی یہاں سے ہار گئی۔‘
22 جون کو ہونے والی بارش کے بعد ایودھیا میں سعادت گنج سے نیا گھاٹ تک رام پتھ نامی سڑک متعدد مقامات پر دھنس گئی ہے۔ اس سے سڑک کے درمیان میں کئی گہرے اور سرنگ نما گڑھے پڑ گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGAURAV GULMOHAR/ BBC
سڑک پر کروڑوں کی لاگت آئی ہے
رام پتھ کوریڈور روان سال 22 جنوری کو رام مندر کے افتتاح سے ٹھیک پہلے تعمیر کی گئی تھی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس سڑک کی تعمیر پر تقریباً 624 کروڑ روپے کے اخراجات آئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
افتتاح سے پہلے ایودھیا کی ترقی کے لیے ہزاروں کروڑ روپے خرچ کرنے کے دعوے کیے گئے تھے، لیکن پانی بھرنے اور سڑکوں کے دھنس جانے نے ان تعمیرات پر سوال کھڑے کر دیے ہیں۔
بہت سے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ رام مندر کے افتتاح کے لیے ترقیاتی کام مکمل کرنے میں جلد بازی کی وجہ سے سڑکیں معیار کے مطابق نہیں بن پائیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایودھیا کے ترقیاتی ماڈل پر سوال
اہم سوال یہ ہے کہ کیا مرکزی حکومت کی سودیش درشن (اپنے ملک کی سیر کی) سکیم کے تحت ایودھیا کو خوبصورت بنانے اور عظیم الشان ترقی کے منصوبے کو ترقی کا طویل مدتی اور پائیدار ماڈل کہا جا سکتا ہے؟
ایودھیا میں رام مندر کے افتتاح سے پہلے جہاں ڈرل مشینوں اور بلڈوزر کی آوازیں پورے شہر میں گونج رہی تھیں وہیں رام مندر کی تقدیس کے بعد پہلی بارش میں گھروں میں جمع پانی کو نکالنے کے لیے سڑک کے کنارے پمپنگ سیٹ لگائے گئے ہیں اور اب ان کی آوازیں آ رہی ہیں۔
23 سے 28 جون تک ہونے والی بارش کے بعد ایودھیا میں رام مندر کے مرکزی دروازے پر پانی بھرا ہوا دیکھا گیا ہے۔
اس کے علاوہ جلوان پور، صنعتی علاقہ گدو پور، کارسیوک پورم اور سول لائنز میں بھی کئی مقامات زیر آب آگئے ہیں۔ لوگوں کے گھروں کے علاوہ کئی سرکاری دفاتر بھی زیر آب آگئے۔
تاہم مقامی لوگوں کے مطابق دریائے سریو کے کنارے واقع علاقوں کو چھوڑ کر ایودھیا اور فیض آباد دونوں شہروں میں بارش کا پانی جمع ہونے کا اتنا بڑا واقعہ پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGAURAV GULMOHAR/ BBC
رام مندر کے پجاری نے کیا کہا؟
ایسی خبریں آئی تھیں کہ 22 جون 2024 کو عام بارش کے بعد ہی رام مندر کے چیف پجاری ستیندر داس نے مندر کے مقدس مقام کی چھت سے پانی ٹپکنے کی بات کہی تھی۔
جب ہم ستیندر داس سے ان کی گوکل مندر رہائش گاہ پر ملے تو انھوں نے کہا: ’میں اس پر بولنے کے لیے مناسب شخص نہیں ہوں۔ اس وقت یہاں بولنے کے لیے کوئی مناسب ماحول نہیں ہے۔ ہم ترقی کے بارے میں کیا کہہ سکتے ہیں؟ پہلی بارش میں ہی سڑکیں دھنس گئی ہیں۔‘
تاہم رام مندر کی تعمیر کے کام کی نگرانی کرنے والے ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری چمپت رائے نے سوشل میڈیا پر رام مندر میں پانی کے رساؤ کے دعوے کی تردید کی ہے۔
انھوں نے لکھا: ’جس معبد میں بھگوان رام للا بیٹھے ہیں، وہاں کی چھت سے پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں ٹپکا ہے اور نہ ہی کہیں سے کوئی پانی اس جگہ داخل ہوا ہے۔'
لیکن جہاں تک کئی جگہوں پر نئی تعمیر شدہ سڑکوں کے دھنسنے کی بات ہے تو ایودھیا ضلع کی مقامی انتظامیہ کا بھی ماننا ہے کہ سڑکوں پر گڑھے بن گئے ہیں جو نہیں ہونے چاہیے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGAURAV GULMOHAR/ BBC
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ریاست کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی سے وابستہ شہر کے میئر مہنت گریش پتی ترپاٹھی نے بی بی سی کو بتایا: 'رام پتھ بلاشبہ ایودھیا کے لیے ایک بڑی چیز ہے۔ اس سڑک میں انجینئرنگ کے کچھ مسائل تھے، اس لیے کچھ گڑھے بھی آئے، لیکن مجھے لگتا ہے کہ وہ بھی نہیں آنے چاہیے تھے۔ ہو سکتا ہے کہ تعمیر میں کچھ تکنیکی خامیاں رہی ہوں جس کی وجہ سے کچھ گڑھے پڑ گئے ہوں۔'
انھوں نے مزید کہا: '22 جنوری کو ہونے والے پروگرام کے پیش نظر یہاں دنیا بھر سے عقیدت مندوں کے آنے کی امید تھی۔ پوری دنیا کی نظریں ایودھیا کی طرف تھیں۔ یہاں ایک جدید تکنیک سے بنی روڈ کی ضرورت تھی۔
'ممکن ہے کہ جلد بازی کی وجہ سے کچھ تکنیکی خرابی رہی ہو، جس کی وجہ سے وہ گڑھے ابتدائی بارش میں نظر آئے ہیں، لیکن ہمیں یقین ہے کہ یوگی حکومت کے تحت ہم ان کوتاہیوں کو دور کریں گے۔ آنے والے دنوں میں شدید بارش سے نمٹنے کے لیے ایودھیا میونسپل کارپوریشن تیار ہے۔'
پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ (پی ڈبلیو ڈی) میں ایڈیشنل انجینیئر اوم پرکاش ورما نے میڈیا کو بتایا: 'رام پتھ ڈیفیکٹ لایبلٹی پیریڈ میں ہے۔ اگر اس مدت کے دوران کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو تعمیراتی کام صرف ایجنسی ہی کرے گی۔ آئندہ مون سون کے دوران پی ڈبلیو ڈی کے افسران، ملازمین اور متعلقہ تعمیراتی ایجنسی کی طرف سے مسلسل نگرانی کی جائے گی۔‘

،تصویر کا ذریعہGAURAV GULMOHAR/ BBC
پریشان حال شہری
ایودھیا دھام سٹیشن روڈ پر آن لائن بینکنگ کا کام کرنے والے رجنیش کمار کے گھر کے سامنے زیر تعمیر نالہ ایک ماہ سے ادھورا پڑا ہے۔ بارش کا پانی جمع ہونے سے رجنیش کے گھر اور دکان میں دراڑیں پڑ گئی ہیں۔
پمپنگ سیٹ سے پانی نکالتے ہوئے وہ کافی مایوس دکھائی دے رہے تھے۔
بظاہر ابھی مون سون شروع بھی نہیں ہوا ہے اور اسی وجہ سے ان کے گھر والے خوفزدہ ہیں۔
رجنیش کمار نے بتایا: 'ایکیوزیشن کے دوران گھر کا آدھا حصہ منہدم ہو گیا، جو بچا ہے وہ ڈوب رہا ہے۔ اس گھر میں ہمارے پانچ افراد کا خاندان رہتا ہے۔ ٹھیکیدار نے آدھا نالہ چھوڑ دیا اور یہ بھی نہیں دیکھا کہ یہاں کوئی رہتا بھی ہے۔ ایک گھر کو توڑنے کے لیے تو ہر کوئی آتا ہے لیکن بنانے کوئی کیوں نہیں آتا؟'
ایودھیا کے سٹیشن روڈ پر ایک بلڈنگ مٹیریئل کی دکان چلانے والے برج کشور کہتے ہیں: ’یہاں ایک ماہ قبل نالہ کھودا گیا تھا اور اسے ادھورا چھوڑ دیا گیا ہے۔ دکان کے سامنے پانی بھر جاتا ہے اور دکان کی مٹی اکھڑ کر پانی کے اندر جا رہی ہے۔‘
'دکان کسی بھی وقت بھی دھنس سکتی ہے۔ وزیر اعلیٰ کے پورٹل پر شکایت کرنے کے بعد بھی کوئی شنوائی نہیں ہو رہی۔ پہلے کبھی یہاں پانی جمع نہیں ہوا تھا لیکن صرف دو گھنٹے کی بارش کے بعد صورتحال ابتر ہے۔'
شہر کے سماجی کارکن غفران صدیقی کہتے ہیں: 'فیض آباد شہر کبھی اودھ کا دارالحکومت تھا، جہاں پرانا فن تعمیر اور روایتی ترقی کا نمونہ اب بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
’میری یاد میں یہ پہلا موقع ہے جب ایودھیا اور فیض آباد شہر میں اس قدر پانی جمع ہوا ہے۔ یہ سب میڈیا میں چمک دمک اور شہر کو شاندار دکھانے کا نتیجہ ہے۔ ورنہ تین ماہ پہلے جو کام مکمل ہوا اس میں ہر کلومیٹر میں پانچ گڑھے کیسے ہو سکتے ہیں؟‘

،تصویر کا ذریعہGAURAV GULMOHAR/ BBC
میونسپل کارپوریشن کے دفتر میں پانی داخل
سڑکوں پر گہرے گڑھوں کے علاوہ رام مندر کمپلیکس کے مین گیٹ پر پانی جمع دیکھا گیا۔ لوگوں کو میونسپل کارپوریشن کے ایودھیا دفتر، مندر کے ساتھ قریبی دکانوں اور مکانات میں پانی بھرنے سے جدوجہد کرتے ہوئے دیکھا جا رہا ہے۔
ایودھیا میونسپل کارپوریشن کے ملازم کملیش کمار دفتر میں پمپنگ سیٹ سے پانی نکال رہے تھے۔ ان کے مطابق: ’اس سے قبل بارش کے دوران کارپوریشن کے دفتر میں کبھی پانی جمع نہیں ہوا تھا۔'
انھوں نے بی بی سی کو بتایا: 'آر این سی کمپنی جو سڑک بنا رہی تھی اس نے پرانے نالے پر مٹی ڈال کر بند کر دیا۔ نئی رام پتھ سڑک کے بیچوں بیچ ایک نالہ بچھایا گیا ہے لیکن دفتر کے نالے کو اس سے نہیں جوڑا گیا ہے۔ اس کی وجہ سے ہلکی سی بارش سے بھی پانی جمع ہو گیا۔
'ہم کہتے رہے کہ دفتر کے نالے کو مین ڈرین سے جوڑ دیا جائے، لیکن انھوں نے کسی کی بات نہیں مانی اور من مانی کرکے اپنے کام میں لگے رہے۔'
رام مندر سے سو میٹر دور جلوان پور کا علاقہ اس سے پہلے بھی بارشوں میں مشکل وقت کا سامنا کرتا رہا ہے لیکن کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ پہلی ہی بارش میں لوگوں کو پانی بھر جانے سے شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
جلوان پور میں کرن کرائے کے مکان میں دکان چلاتی ہیں۔ یہاں تک کہ ان کی دکان میں بھی پانی بھر گیا ہے۔
کرن نے بتایا کہ پہلے ان کی چائے ناشتے کی دکان رام مندر کے ساتھ ہی رام پتھ پر تھی لیکن سڑک کو چوڑا کرنے کے دوران 60 فٹ لمبی اور 13 فٹ چوڑی دکان کو منہدم کر دیا گیا۔
وہ کہتی ہیں: 'پورا علاقہ پانی میں ڈوب گیا ہے۔ میری دکان میں ایک فٹ تک پانی بھر گیا ہے۔ ہم کھانا کیسے پکائیں، سامان لینے کیسے جائیں؟ کوئی راستہ نہیں بچا۔ انتظامیہ کی طرف سے کوئی شنوائی نہیں ہے۔'
پدماوتی جلوان پور کی دوسری گلی میں اپنے تین منزلہ مکان میں ایک دھرم شالہ چلاتی ہیں۔ پدماوتی دروازے پر مسافروں کے انتظار میں کھڑی ہیں۔
مجھے گندے کالے پانی سے بھری گلی میں دور سے آتا دیکھ کر پدماوتی نے سوچا کہ شاید میں زائرین میں سے ہوں اور کرائے پر کمرہ ڈھونڈ رہا ہوں۔
لیکن جب انھیں پتا چلا کہ میں زیارت کے لیے نہیں آیا ہوں تو انھیں مایوسی ہوئی۔
پدماوتی نے کہا: 'اس سال دو بار بارش ہوئی۔ دونوں بار گھروں میں پانی بھر گیا۔ دھرم شالہ آنے والے مسافر چلے گئے۔ اس کے بعد کوئی اور مسافر نہیں آیا۔ ہماری پوری دھرم شالہ خالی پڑی ہے۔'
وہ کہتی ہیں: 'گندے پانی کے جمع ہونے کی وجہ سے گھروں میں گیلا پن آ گیا ہے جس سے مچھر اور بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ رام مندر کی ترقی کے نام پر یہاں پانی کی ترقی ہوئی ہے۔ ہمیں شہر میں ہر جگہ صرف پانی ہی پانی نظر آ رہا ہے۔'
رام مندر کی تعمیر سے خوشی کے سوال پر پدماوتی کہتی ہیں: 'رام مندر عقیدت کا مرکز ہے، مندر کے نام پر ہر کوئی خوش ہے، لیکن ہم صرف اتنا چاہیے کہ ہماری نالی بن جائے اور پانی نکل جائے۔'

،تصویر کا ذریعہGAURAV GULMOHAR/ BBC
سی اے جی نے بھی پروجیکٹ پر سوالات اٹھائے
فی الحال کسی کے لیے بھی یہ کہنا آسان نہیں ہے کہ ایودھیا کی پورے ترقیاتی منصوبے میں کوئی بہت بڑی تکنیکی غلطی ہے یا یہ صرف بارش کا اثر ہے۔
جہاں حکمران جماعت بارش کے بعد پیدا ہونے والے افراتفری کو لمحاتی سمجھ رہی ہے وہیں اپوزیشن اسے بہت بڑی غلطی قرار دے رہی ہے۔
سماج وادی پارٹی کے ضلعی صدر پارس ناتھ یادو نے بی بی سی کو بتایا: 'ہندو مذہب میں لکھا ہے کہ کسی بھی نامکمل مندر میں بھگوان کی مورتی نہیں لگنی چاہیے، لیکن لوک سبھا انتخابات سے قبل سیاسی فائدہ اٹھانے کے لیے مورتی کی تنصیب کی گئی اور افتتاح کیا گیا۔'
وہ کہتے ہیں: 'سب چیزوں کو دوسرے نمبر پر رکھا گیا۔ سڑکیں پھٹ رہی ہیں، سیور ٹوٹ رہے ہیں، دیواریں گر رہی ہیں۔ یہ سب اسی کا نتیجہ ہے۔'
ایودھیا میں رہنے والے پروفیسر انیل کمار سنگھ سڑک کی خستہ حالی اور پانی جمع ہونے کی بڑی وجہ جلد بازی اور ناقص انجینیئرنگ کو قرار دیتے ہیں۔
پروفیسر انیل کمار سنگھ کہتے ہیں: 'یہ سب اس لیے ہو رہا ہے کہ اس کے لیے کسی ماہر کی مدد نہیں لی گئی ہے اور کام جلد بازی میں کیا گیا ہے۔ چونکہ مندر کا افتتاح 22 جنوری کو ہونا تھا اس لیے بہت سارے کام بس کام چلاؤ انداز میں کیے گئے۔'
گذشتہ سال مانسون اجلاس میں لوک سبھا میں پیش کی گئی کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) کی رپورٹ میں بھی ایودھیا میں شروع کیے گئے کئی پروجیکٹوں پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔


























