آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کراچی میں ہجوم کے ہاتھوں نوجوانوں کا قتل: ’بچوں سے غلطی ہوگئی ہے، انھیں معاف کیا جائے‘
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
سیاہ برقعوں میں ملبوس خواتین نے تین دریاں بچھائیں اور اس پر بیٹھ کر قرآن خوانی کا آغاز کردیا۔ یہ وہی مقام تھا جہاں 28 اکتوبر جمعے کی صبح ٹیلی کام کمپنی کے دو ملازمین کو ہجوم نے تشدد کر کے ہلاک کردیا تھا۔
اس واقعے کے بعد سے پولیس کے مسلسل چھاپے جاری ہیں جس میں درجنوں لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے اور دو ملزمان کا انسداد دہشت گردی کی عدالت سے ریمانڈ لیا گیا ہے۔
ہلاک ہونے والے انجینیئر ایمن جاوید کا تعلق ٹھٹہ اور ڈرائیور اسحاق پنہور کا تعلق نوشہرو فیروز سے تھا۔ اس واقعے کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔
’خواتین کی بات کون سنتا‘
مچھر کالونی بنگالی محلے میں یہ واقعہ کس طرح پیش آیا، اس بارے میں ابھی تک ابہام موجود ہے۔ جس گھر کے باہر یہ واقعہ پیش آیا اس کی رہائشی خاتون نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ گھر میں اکیلی تھیں۔ باہر شور کی آواز آ رہی تھی تاہم وہ باہر نہیں نکلیں، دروازہ بند تھا۔ ’میں نے کھڑکی کی طرف اشارہ کر کے پوچھا کہ یہاں سے نظر آیا ہوگا تو انھوں نے بتایا کہ نہیں، انھوں نے وہاں سے نہیں دیکھا تھا۔‘
میں نے اس خاتون سے پوچھا کہ آپ نے بچانے کی کوشش کیوں نہیں کی؟ تو اس نے کہا کہ ’ہم لیڈیز کی آواز کون سنتا ہے۔‘
پروین نامی عورت نے بتایا کہ وہ سندھی ہیں اور ان کا شوہر بنگالی ہے۔ ان کی شادی کو بارہ تیرہ سال ہوچکے ہیں ۔اس وارادت کے بعد پولیس ان کے شوہر کو گرفتار کر کے لے گئی ہے۔
گھروں میں صرف خواتین ہیں
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ذولفقار علی بھٹو کے نام سے اس سڑک پر موجود دو، تین دکانیں بند تھیں جبکہ گھروں میں مرد نہیں صرف خواتین موجود ہیں۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ پولیس اور رینجرز کے چھاپوں کی وجہ سے کچھ لوگ گھر چھوڑ گئے ہیں یا پھر گرفتار کیے گئے ہیں۔
الہی مسجد کے خدمت گار فقیر بنگالی نے بتایا کہ ان کے تین بیٹے اور ایک داماد نورالسلام ، ابو صدیق، یوسف اور مناف کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ واقعے کے وقت وہ فشری میں موجود تھے۔ ’ان کا واقعے سے کوئی تعلق نہیں ہے، جو قصور وار ہے اس کو بالکل سزا ملنی چاہیے۔‘
ثمینہ نامی عورت کا کہنا تھا کہ پانچ راتوں سے وہ سو نہیں پائی ہیں کیونکہ ہر وقت چھاپے کا ڈر لگا رہتا ہے۔ ’اب بچوں سے غلطی ہوگئی ہے، انھیں معاف کیا جائے، ان کی ایصال ثواب کے لیے وہ قرآن خوانی کر رہی ہیں اور گھروں میں بھی قرآن پڑھے جارہے ہیں، ہماری کئی بنگالی لڑکیاں سندھی گھرانوں میں بیاہی گئی ہیں۔‘
مسجد کے مولوی کا کردار
آئی جی سندھ پولیس غلام نبی میمن کا کہنا ہے کہ مسجد کے مولوی کا کردار مثبت رہا ہے۔ ان کی معلومات کے مطابق مولوی خلیل نے دونوں (ایمن جاوید اور اسحاق پنہور) کو بچانے کی بھی کوشش کی تھی۔
آئی جی کے مطابق ان کے پاس ایسی کوئی معلومات نہیں کہ مولوی اپنے گھر پر موبائل ٹاور لگوانا چاہتا تھا اور اس کی وجہ سے کمپنی سے ناراض تھا۔
دوسری جانب بنگالی محلے میں مسجد کے مولوی کے اس واقعے میں کردار کے بارے میں متضاد بیانات موجود ہیں۔ پروین کا کہنا تھا کہ مولوی نے مقتولین کو مدرسے کے اندر آنے کو کہا تھا تاکہ وہ اپنی شناخت کرائیں لیکن وہ اندر نہیں گئے۔
کچھی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے نوجوان کا کہنا ہے کہ انجینیئر مولوی صاحب سے بات کر رہے تھے کہ ایک عورت نے پتھر مارا اور چِلائی کہ ’یہ بچہ چور ہیں‘ جس کے بعد لوگ جمع ہوگئے اور انھوں نے پھر کسی کی بات نہیں سنی۔ جبکہ ایک اور عورت نے بتایا کہ ان کے بچوں کو دراصل ’مولوی نے ہی بھڑکایا تھا۔‘
پائیوڈین یا بے ہوشی کی دوا
بنگالی محلہ یا آس پاس کی گلیوں میں سے کوئی بچہ لاپتہ یا اغوا نہیں ہے اور نہ ہی ماضی قریب میں ہوا ہے۔
تاہم بعض حواتین نے بتایا کہ مدنی چوک سے ایک بچے کو اغوا کرنے کی کوشش کی گئی جس کی ویڈیو انھوں نے دیکھی تھی اور دو بچیوں کی لاشیں ملنے کا بھی سنا تھا جس کی وجہ سے بچوں اور ان کے والدین میں خوف تھا۔
آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے بھی واضح کیا ہے کہ علاقے سے بچوں کی گمشدگی کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ تاہم سندھ کابینہ کو دی گئی بریفنگ میں انھوں نے بتایا ہے کہ نجی ٹیلی کام کمپنی کا ایک انجینیئر اور اس کا سٹاف موبائل فون کے ٹاور کو چیک کر رہے تھے، انجینیئر کی گاڑی میں میڈیکل کٹ موجود تھی جس میں پائیوڈین (اینٹی سیپٹک محلول) شامل تھی۔ لوگ سمجھے کہ اس سے بچوں کو بیہوش کر کے اغوا کیا جاتا ہے۔
سندھ کابینہ نے دونوں مقتولین کے لواحیقن کے لیے پچاس، پچاس لاکھ روپے معاوضے کا اعلان کیا۔ وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ مچھر کالونی جیسے واقعات ناقابل معافی اور برداشت ہیں۔
15 ملزمان گرفتار
مچھر کالونی میں دو افراد کی ہلاکت کا سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس احمد علی شیخ نے از خود نوٹس لیا تھا۔ آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے منگل کو ان کے چیمبر میں پیشرفت کے بارے میں رپورٹ پیش کی۔
آئی جی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ مقدمے میں پندرہ ملزمان نامزد تھے جن سب کو گرفتار کرلیا۔ اس میں سے چار ملزمان کی شناخت پریڈ بھی ہوچکی ہے جبکہ دیگر ملزمان کی اگلے ایک دو روز میں شناخت پریڈ کرالی جائے گی۔ ’جن کو گرفتار کیا گیا ہے ان کا تعلق روہنگیا نسل سے ہے لیکن ان کے پاس پاکستان کا شناختی کارڈ موجود ہے۔‘
پولیس کے دعوے کے برعکس بنگالی محلہ کے لوگوں کا کہنا ہے کہ پولیس اور رینجرز نے ان کے درجنوں لوگوں کو شک کی بنیاد پر حراست میں لیا ہے جن سے ملاقات بھی نہیں کرائی جا رہی ہے۔
مچھر کالونی میں نوجوانوں کی ہلاکت کے خلاف کراچی میں سندھی قوم پرست جماعتوں کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا تھا۔
ان کا الزام تھا کہ دونوں کو شناختی کارڈ دیکھ کر ٹارگٹ بنا کر قتل کیا گیا ہے۔