عراق اور شام میں کرد شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر ترکی کے حملے

ترک فضائیہ کا لڑاکا طیارہ

،تصویر کا ذریعہTURKISH DEFENCE MINISTRY

وقت اشاعت

ترکی نے استنبول میں ہونے والے بم دھماکے کے ایک ہفتے بعد عراق اور شام میں کردوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔ ترکی دھماکے کا الزام کرد عسکریت پسندوں پر عائد کرتا ہے۔

وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں، جنھیں ’آپریشن کلا-سورڈ‘ کا نام دیا گیا ہے، کردوں کے ان ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا جو ترکی پر حملوں کے لیے استعمال کیے جا رہے تھے۔

شام میں ایک کرد ترجمان نے بتایا کہ اندرونی طور پر بے گھر ہونے والے افراد کی آبادی والے دو دیہات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

کالعدم کرد پی کے کے گروپ استنبول میں دھماکہ کرنے کی تردید کرتا ہے۔

جیسے ہی فضائی حملے شروع ہوئے، تو ترکی کی وزارت دفاع نے ٹویٹ کیا کہ ’حساب کی گھڑی‘ آن پہنچی ہے، اس کے ساتھ ہی ایک لڑاکا طیارے کی پرواز کی تصویر اور دھماکے کی فوٹیج بھی ہے۔

ترکی کے وزیر دفاع ہولوسی آکار کا کہنا ہے کہ ’دہشت گردوں کی پناہ گاہیں، بنکر، غار، سرنگیں اور گودام کامیابی سے تباہ کر دیے گئے ہیں۔‘ بعد ازاں ترک وزارت دفاع نے کہا کہ شمالی شام اور شمالی عراق میں کرد عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر کیے گئے حملوں میں 89 اہداف تباہ ہوئے۔

شام میں کردوں کی زیر قیادت فورسز نے جوابی کارروائی کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ کوبانی شہر کے ساتھ ساتھ دو گنجان آباد دیہات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

برطانیہ میں قائم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق صرف شمالی شام میں کم سے کم 31 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

یہ واضح نہیں ہے کہ عراق میں کون سے اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

یہ حملے استنبول کی مصروف ترین سڑکوں میں سے ایک پر ہونے والے بم دھماکے کے ایک ہفتے بعد کیے گئے ہیں جس میں چھ افراد ہلاک اور 80 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔

ترک حکام نے اس حملے کا الزام کرد عسکریت پسند گروپ پی کے کے پر عائد کیا تھا جسے ترکی، یورپی یونین اور امریکہ ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہیں۔

تاہم، پی کے کے نے کہا کہ وہ "شہریوں کو براہ راست نشانہ نہیں بناتا‘، اور ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا۔

حکام نے اس دھماکے کے سلسلے میں درجنوں افراد کو گرفتار کیا ہے جن میں ایک شامی خاتون بھی شامل ہے جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اس نے بم نصب کیا تھا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بلغاریہ میں بھی اس حملے میں پانچ افراد پر فرد جرم عائد کی گئی ہے۔

کرد عسکریت پسند جنوب مشرقی ترکی میں کردوں کی خود مختاری کے حصول کے لیے کئی دہائیوں سے جدوجہد کر رہے ہیں۔

حالیہ برسوں میں ترکی نے شمالی عراق اور شام میں مقیم کرد گروہوں کو نشانہ بناتے ہوئے سرحد پار سے متعدد کارروائیاں کی ہیں جن کا مقصد ترک سرزمین پر حملوں کو روکنا ہے۔