زیر تعمیر عمارت سے خاتون کی لاش کے ٹکڑے برآمد، شوہر سمیت سسرالی رشتے دار گرفتار

ریبیکا پہاڑن

،تصویر کا ذریعہANAND DUTTA

،تصویر کا کیپشنریبیکا پہاڑن کا تعلق جھارکھنڈ کی قبائلی برادری سے تھا
    • مصنف, آنند دت
    • عہدہ, بی بی سی ہندی کے لیے
  • وقت اشاعت

انڈیا کی مشرقی ریاست جھارکھنڈ کے صاحب گنج ضلعے میں ایک خاتون کے قتل کا معاملہ طول پکڑتا جا رہا ہے۔ مقامی پولیس کے مطابق اب تک لاش کے کل 18 ٹکڑے برآمد کیے جا چکے ہیں۔

اس معاملے کی بازگشت کچھ دن پہلے پارلیمنٹ میں بھی سنائی دی جب حکمران جماعت بی جے پی کے اراکین پارلیمان نے یہ معاملہ زور و شور سے اٹھایا۔

اس خاتون کی شناخت ریبیکا کے نام سے ہوئی ہے جن کا تعلق قبائلی برادری سے ہے۔ ان کی شادی ایک ماہ قبل ایک مسلمان نوجوان دلدار انصاری سے ہوئی تھی۔ دونوں نے گھر سے بھاگ کر شادی کر لی تھی۔ یہ دلدار کی دوسری شادی تھی۔

ریبیکا پہاڑیہ قبیلے سے تعلق رکھتی تھیں۔ ان کی ایک پانچ سالہ بیٹی ہے جو راجیو مالتو نامی نوجوان کے ساتھ لِو-اِن ریلیشن شپ کے دوران پیدا ہوئی تھی۔ اس معاملے میں پولیس نے دلدار سمیت کل 10 لوگوں کو پوچھ گچھ کے بعد جیل بھیج دیا ہے۔

صاحب گنج کے ڈی آئی جی سدرشن منڈل نے دعویٰ کیا ہے کہ ’ریبیکا کا قتل 16 دسمبر کی رات کیا گیا تھا۔ پہلی نظر میں اس میں شوہر دلدار کا ملوث ہونا نظر آ رہا ہے۔ تاہم کچھ دن پہلے وہ اپنی بیوی کے لاپتہ ہونے کی رپورٹ درج کروانے کے لیے مقامی بوریو پولیس سٹیشن آیا تھا۔‘

شیلا پہاڑن

،تصویر کا ذریعہANAND DUTTA

،تصویر کا کیپشنمقتول ریبیکا کی بہن شیلا پہاڑن اور ماں چاندی پہاڑن سوگ میں ہیں

بیٹی ماں کی منتظر

انھوں نے مزید کہا کہ ’ریبیکا کا قتل ایک سازش کے تحت کیا گیا ہے۔ قتل کرنے کے بعد لاش کے اعضاء قریبی آنگن واڑی سینٹر میں پھینک دیے گئے تھے۔‘

فی الحال اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ایس پی انورنجن کسپوٹا کی قیادت میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی گئی ہے اور پولیس کی تحقیقات جاری ہیں۔

ریبیکا کا گاؤں گوڈا پہاڑ ریاستی دارالحکومت رانچی سے تقریباً 403 کلومیٹر اور بوریو تھانے سے 13 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ تقریباً تین کلومیٹر پہاڑ پر چڑھنے کے بعد ہم نے گاؤں کے لوگوں، رشتہ داروں اور عورتوں کو ان کے گھر کے صحن میں بیٹھا دیکھا۔

پہاڑیہ زبان میں وہ سب کچھ بڑبڑا رہی تھیں اور رو رہی تھیں۔ ریبیکا کی پانچ سالہ بیٹی ریا اپنی نانی چاندی پہاڑن اور خالہ شیلا پہاڑن کو روتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔

شیلا پہاڑن نے کہا کہ 'میری ماں نہ تو ہندی بولتی ہے اور نہ ہی جانتی ہے، میں بات کروں گی۔'

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ 'دلدار نے انھیں فون پر ان کی بہن کی گمشدگی کی اطلاع دی تھی، اسی دن یعنی 17 دسمبر کی شام کو تھانے سے بھی فون آیا کہ ایک لاش ملی ہے، شناخت کے لیے آؤ۔ اس رات پولیس نے لاش کی ویڈیو اور تصویر بھیجی، ہم نے دائیں ہاتھ کی انگلی دیکھ کر پہچان لیا، پھر اگلے دن جب ہم تھانے گئے تو کپڑے دیکھ کر یقین ہو گیا کہ یہ میری بہن ہی ہے۔'

وہ کہتی ہیں کہ 'اس کی راجیو مالتو سے شادی نہیں ہوئی تھی، دونوں صرف ساتھ رہتے تھے۔ ایک ساتھ رہتے ہوئے ایک بیٹی پیدا ہوئی تھی۔ لیکن اس کی پیدائش کے کچھ دن بعد ہی وہ میری بہن کو چھوڑ کر چلا گیا۔ اب اس کی ماں بھی چلی گئی ہے۔ میں مستقبل میں اس کی پرورش کیسے کروں گی اور اس کی تعلیم کیسے ہو گی؟

شیلا پہاڑن

،تصویر کا ذریعہANAND DUTTA

،تصویر کا کیپشنشیلا پہاڑن کو اپنی مقتول بہن کی بٹی کا خیال ہے

خاتون کے خاندان کی دیگر مشکلات

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

کیا آپ کی بہن دلدار کے گھر والوں سے جھگڑے کے بارے میں بتایا کرتی تھی؟ اس کے جواب میں شیلا کہتی ہیں: 'نہیں، اس نے جھگڑے کے بارے میں کبھی نہیں بتایا، بلکہ وہ کہتی تھی کہ وہ اسے بہت اچھی طرح رکھ رہا ہے۔'

ریبیکا پہاڑن چھ بہن بھائیوں میں سے تیسرے نمبر پر تھیں۔ ان کے خاندان کے افراد انصاف چاہتے ہیں۔ چھوٹے بھائی ارسن مالتو کا کہنا ہے کہ جن لوگوں نے مل کر بہن کو قتل کیا ان سب کو پھانسی دی جائے۔

اس خاندان کی مشکلات ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔ ریبیکا کی دو بہنیں، پرمیلا پہاڑن اور دولیلی پہاڑن نابالغوں کے اصلاحی گھر میں قید ہیں۔ مقامی اخبارات میں شائع خبر کے مطابق گذشتہ 13 دسمبر کو بوریو میں پولیس نے جسم فروشی کے شبے میں ایک ہوٹل پر چھاپہ مارا۔ وہاں دو لڑکیوں کے علاوہ ایک لڑکا بھی موجود تھا۔ تینوں کو چائلڈ ریفارم ہوم بھیج دیا گیا۔

شیلا بتاتی ہیں کہ ان کی دو بہنوں کو چائلڈ ریفارم ہوم بھیج دیا گیا ہے۔ اس گفتگو کے درمیان ریبیکا کی ایک خالہ روتی ہوئی آئیں جنھیں دیکھ کر صحن میں موجود باقی تمام خواتین بھی رونے لگیں۔

یہاں سے واپس جاتے ہوئے ہم جنگل میں کچھ دور ہی گئے تھے کہ سابق وزیر اور بی جے پی کی رہنما ڈاکٹر لوئس مرانڈی اپنے وفد کے ساتھ نظر آئیں۔ شیلا نے ایک بار پھر ان کے سامنے ساری بات دہرائی۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے چائلڈ ریفارم ہوم میں بند اپنی دو بہنوں کی رہائی کی التجا بھی کی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر لوئس مرانڈی نے کہا کہ 'ربیکا کی بیٹی کا کیا قصور ہے؟ کیا عورت ہونا بذات خود ایک جرم ہے؟ حال ہی میں دمکا ضلع میں انکیتا کماری کو پیٹرول چھڑک کر جلا دیا گیا تھا۔ ماروتی کماری کو جرمنڈی میں پیٹرول چھڑک کر جلا دیا گیا تھا۔ ایک اور قبائلی لڑکی دمکا میں ہی درخت سے لٹکا کر مار دی گئی۔'

آرسن مالتو

،تصویر کا ذریعہANAND DUTTA

،تصویر کا کیپشنمقتول ریبیکا کا بھائی آرسن مالتوقصور وار کو پھانسی دیے جانے کے حق میں ہے

پولیس کیا کہہ اور کر رہی ہے؟

خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ریبیکا کو آپسی رنجش کی وجہ سے قتل کیا گیا ہے۔ فی الحال لاش کے ٹکڑوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے رانچی کے آر آئی ایم ایس ہسپتال بھیج دیا گیا ہے۔ مزید تحقیق جاری ہے۔

درج ایف آئی آر کے مطابق دلدار انصاری (27 سال)، معین الحق (53 سال)، مہتاب انصاری (22 سال)، زرینہ خاتون (48 سال)، سریجا خاتون (25 سال)، گلیرا خاتون (29 سال)، امیر حسین (23 سال)، مستقیم انصاری (60 سال)، مریم نیشا (55 سال) اور سحر بانو خاتون کو اس معاملے میں ملزم ٹھہرایا گیا ہے۔ ان سب کو سوموار کی شام گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا تھا۔

ایف آئی آر کے مطابق دلدار انصاری کے بھائی عامر انصاری نے پولیس کو بتایا ہے کہ دلدار کی پہلی شادی سریجا خاتون سے ہوئی تھی۔ دو سال قبل اس نے ریبیکا پہاڑن سے شادی کی تھی لیکن گھر والوں کو یہ بات پسند نہیں آئی۔ اس کے بعد دلدار اسے لے کر بنگلور چلا گیا۔

ریبیکا کی بہن شیلا پہاڑن کہتی ہیں 'بنگلور سے واپس آنے کے بعد جب دلدار کے گھر میں اختلاف بڑھنے لگا، تو میرے والد سورجا پہاڑیہ اسے اپنے گھر لے آئے۔ لیکن ہاٹ بازار جانے کے دوران دونوں کی ملاقاتیں ہونے لگیں اور پھر دلدار اسے اپنے گھر لے گیا۔'

ایف آئی آر کے مطابق 'دلدار اپنے گھر کے بجائے بوریو میں کرائے کے مکان میں رہنے لگا۔ واقعے سے 15-20 دن پہلے دلدار ریبیکا کے ساتھ گھر آیا تھا۔ جس کے بعد گھر میں جھگڑا بڑھ گیا۔'

یہ بھی پڑھیے

پولیس کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر کے مطابق دلدار کی والدہ مریم نیشا نے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ریبیکا کو راستے سے ہٹانے کے لیے اسے اپنے بھائی معینل انصاری کے گھر چھوڑ آئی، اس کے ساتھ ہی لاش کو غائب کرنے کے لیے اپنے بھائی کو 20 ہزار روپے ایڈوانس بھی دیے۔ معینل کا گھر ملحقہ علاقے فاضل ٹولہ میں ہے۔

ریبیکا کو معینل کے گھر پہنچانے کے بعد، مریم نے یہ افواہ پھیلائی کہ ریبیکا کہیں غائب ہو گئی ہے۔ 17 دسمبر کو شام پانچ پینتالیس پر پولیس کو اطلاع ملی کہ بوریا سنتالی محلے میں زیر تعمیر آنگن واڑی سینٹر کے پاس کچھ کتے آپس میں لڑ رہے ہیں، جہاں ایک لاش ہونے کا خدشہ ہے۔ وہاں پہنچ کر لاش کے بہت سے ٹکڑے نظر آئے۔

اس کے بعد جب دلدار انصاری کو بلا کر شناخت کروائی گئی تو اس نے انگلیوں اور پاؤں پر نیل پالش دیکھ کر لاش کی شناخت کی۔

ریبیکا کی لاش کے کچھ حصے قریبی علاقے مومن ٹولے سے ملے ہیں۔ وہاں دلدار کے ماموں معینل کا گھر ہے۔ پولیس کو اس گھر سے خون آلود کپڑے برآمد ہوئے ہیں۔ وہاں بھی پولیس کا پہرہ لگا دیا گیا ہے۔

لوئس مرانڈی

،تصویر کا ذریعہANAND DUTTA

،تصویر کا کیپشنسابق ریاستی وزیر اور بی جے پی کی رہنما لوئس مرانڈی

محلے میں پھیلا سناٹا

بیل ٹولہ میں دلدار کے گھر پر کوئی نہیں ہے۔ آٹھ پولیس اہلکار پہرہ دے رہے ہیں۔ ان کے گھر کے عین سامنے کسٹمر سروس سینٹر کی ایک دکان ہے۔

دکاندار اور دلدار کے پڑوسی مظفر انصاری نے بی بی سی کو بتایا 'قبائلی لڑکی کے آنے کے بعد گھر میں کافی لڑائی ہونے لگی تھی۔ جہاں تک اس واقعے کا تعلق ہے ہم نے سامنے رہتے ہوئے نہ کچھ سنا نہ کچھ دیکھا۔'

گوڈا سے بی جے پی کے ایم پی نشی کانت دوبے نے سوموار کو پارلیمنٹ کے رواں سرمائی اجلاس میں یہ مسئلہ اٹھایا۔ انھوں نے کہا 'بنگلہ دیش کے دراندازوں نے ہمارے علاقے پر قبضہ کر لیا ہے اور یہ جھارکھنڈ حکومت کے تعاون سے ہو رہا ہے۔ انھوں نے پہاڑیہ قبیلے کی ایک لڑکی سے زبردستی شادی کر لی۔ اس کے بعد انھوں نے اس کے 50 ٹکڑے کر دیے۔'

انھوں نے کہا کہ 'اگر یہ دہلی، کلکتہ یا بمبئی میں ہوا ہوتا تو پورا ملک کا میڈیا اس پر ٹوٹ پڑتا، لیکن (اس معاملے میں) ایسا نہیں ہو رہا۔'

اور جھارکھنڈ اسمبلی میں وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے اس معاملے پر میڈیا سے بات کی۔ انھوں نے کہا کہ 'ریبیکا پہاڑن قتل کیس پر صاحب گنج کی بات کیوں کریں؟ کیا دہلی، ایم پی اور یو پی میں ایسے واقعات نہیں ہوتے؟ یقینی طور پر معاشرے میں اس طرح کا بگاڑ پھیل رہا ہے اور یہ ہر معاشرے کے لیے تشویشناک ہے۔ جمہوریت میں ایسی چیزوں کی کوئی جگہ نہیں، اسے کیسے حل کیا جائے، یہ غور طلب معاملہ ہے۔'

علاقے کے ایم ایل اے (بوریو اسمبلی) لوبن ہیمبرم نے اس پورے معاملے پر کہا '(اسمبلی کا) اجلاس جاری ہے، اس لیے میں متاثرہ خاندان سے نہیں مل سکا، یہ انتہائی دردناک اور شرمناک واقعہ ہے، یہ برداشت سے باہر ہے۔'

دوسری جانب بی جے پی کی لوئس مرانڈی کا دعویٰ ہے کہ 'پہاڑوں پر رہنے کی وجہ سے سنتھال پرگنہ علاقے میں غربت اور ناخواندگی ہے۔ لیکن اس طرح کے واقعات کے پیچھے ایک بڑا ریکٹ کام کرتا ہے۔ تجارت کے ذریعے لوگ ان علاقوں تک پہنچتے ہیں اور چکنی چپڑی باتوں سے انھیں جال میں پھانسنے کی کوشش کرتے ہیں۔ خاص طور پر ان کی زمین پر لوگوں کی نظر ہوتی ہے۔'

دوسری جانب مقامی ایم ایل اے لوبن ہیمبرم کا خیال ہے کہ 'شرپسند جرائم پیشہ لوگ قبائلی معاشرے کی لڑکیوں کا استحصال کرتے ہیں۔ معاشرے کو اسے سنجیدگی سے لینا چاہیے۔'

قدیم پہاڑیہ قبائل کی تین اقسام ہیں۔ ایک پہاڑیہ، دوسرا مال پہاڑیہ اور تیسرا سوریہ پہاڑیہ۔ مال پہاڑیہ عموماً پہاڑوں کے دامن میں رہتے ہیں۔ جبکہ سوریہ پہاڑیہ زیادہ تر پہاڑ کی چوٹی پر رہتے ہیں۔ یہ بنیادی طور پر جھارکھنڈ کے پاکور، صاحب گنج، دمکا اور گوڈا اضلاع میں آباد ہیں۔

پاکوڑ کے ایک صحافی رمیش بھگت کہتے ہیں 'پہاڑیہ برادری کے لوگ عادتاً دوسرے قبائل کے مقابلے میں زیادہ ملنسار ہیں۔ غیر قبائلیوں سے ان کا رابطہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ان کی آبادی کم ہے۔ چونکہ وہ مشتعل نہیں ہوتے ہیں اس لیے شاید اس پورے واقعے پر وہ شدید مخالفت نہیں کر رہے ہیں۔'