’نویں جماعت میں امریکہ چھٹیاں منانے جانے والے خود کو مڈل کلاس کیسے کہہ سکتے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’اے لیول میں آپ کو سکول چھوڑنے کون سی گاڑی آتی تھی؟‘
’کورولا تھی۔ لیکن ہمارے پاس ایک ہی گاڑی تھی۔‘
’ایک بچہ لمز میں، ایک بیکن ہاؤس میں پڑھ رہا ہو، تو آپ مڈل کلاس تو نہ ہوئے۔ کیا آپ مڈل کلاس ہیں یا اپر کلاس ہیں؟‘
’جب میں بڑا ہو رہا تھا تو ہم مڈل کلاس تھے۔‘
’آپ کتنی بار امریکہ گئے؟‘
’پہلی دفعہ میں نویں کلاس میں امریکہ گیا۔ اس سے پہلے میں زندگی میں کبھی پاکستان سے باہر نہیں گیا۔‘
’اتنی محنت کیسے کی آپ نے زندگی میں؟‘
پاکستان کے معاشی حالات کے تناظر میں دو نوجوانوں کے درمیان اس دلچسپ سوال و جواب نے سوشل میڈیا پر اس بحث کو جنم دیا ہے کہ نویں کلاس میں امریکہ جانے اور مہنگے تعلیمی اداروں میں پڑھائی کرنے والے کیا واقعی مڈل کلاس ہوتے ہیں۔ اور یہ بھی پاکستان کے معاشی حالات کو دیکھتے ہوئے مڈل کلاس کی تعریف آخر ہے کیا؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ گفتگو شہزاد غیاث شیخ اور مزمل حسن زیدی کے درمیان ’دی پاکستان ایکسپیریئنس پوڈ کاسٹ‘ پر 30 نومبر کو بظاہر ہلکے پھلکے انداز میں ہو رہی تھی جس میں شہزاد مزمل کو یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ وہ خود بھی ایک ایلیٹ طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہTHE PAKISTAN EXPERIENCE
تاہم سوشل میڈیا پر اس گفتگو پر مزید تبصرے ہوئے جس میں اس بات پر حیرانی کا اظہار کیا گیا کہ لمز اور بیکن ہاوس جیسے مہنگے سکولوں میں پڑھنے والے، کورولا گاڑی رکھنے والے اور نویں جماعت میں امریکہ چھٹیاں منانے جانے والے خود کو مڈل کلاس کیسے کہہ سکتے ہیں۔ کچھ نے سوال کیا کہ مڈل کلاس کی اصل تعریف کیا ہے؟
ایسے میں بہت سے لوگوں نے میمز بھی شیئر کیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
ایک صارف نے لکھا کہ ’دو برگر اپنے آپ کو محنتی مڈل کلاس ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
شاہ رخ نامی صارف نے لکھا کہ ’مڈل کلاس دس پندرہ سال پہلے بھی بیکن ہاوس یا لمز میں نہیں پڑھ سکتی تھی۔‘
عائشہ اعجاز خان نے لکھا کہ ’کیا پاکستان میں کورولا ہونا مڈل کلاس کی نشانی ہے؟ قطعی نہیں، اگر آپ اوسط آمدن کو دیکھیں تو۔‘ انھوں نے لکھا کہ ’دوسری جانب لندن جیسے شہر میں لاکھوں کمانے والے کچھ ایسے لوگ ہیں جو اپنی ذاتی گاڑی نہیں رکھتے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
ہارون نامی صارف نے لکھا کہ ’پاکستان میں مڈل کلاس سے زیادہ مشکل زندگی کسی کی نہیں ہوتی، ان کی زندگی امید کا قبرستان ہوتی ہے، جس میں بہت سے ادھورے خواب، مسلسل ذہنی دباؤ اور پریشانیاں ہوتی ہیں کہ وہ اپنے گھر والوں کے لیے سب کچھ نہیں کر سکے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 3
یہ بھی پڑھیے
شہزاد غیاث نے بعد میں ٹوئٹر پر واضح کیا کہ ’اس گفتگو کی وجہ مزمل کی ایک پوسٹ بنی جس میں انھوں نے لکھا تھا کہ غیاث کو ڈی ایچ اے کراچی کے ایلیٹ غبارے سے باہر نکل کر دیکھنا چاہیے کہ امیر لمز طلبا کو جو پڑھایا جا رہا ہے اس سے ہٹ کر کیا مسائل ہیں۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 4
انھوں نے لکھا کہ ’جب لوگ ہمارا مذاق اڑانا چھوڑ دیں گے تو میں امید کرتا ہوں کہ وہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ یہ دو لوگوں کے درمیان اختلافات طے کرنے کی کوشش تھی۔‘
مگر اسی بحث کے دوران بہت سے صارفین یہ سنجیدہ کوشش کرتے نظر آئے کہ وہ بتا سکیں کہ پاکستان کے حالات کو دیکھتے ہوئے آج مڈل کلاس کی تعریف کیا ہو سکتی ہے۔
مڈل کلاس کون؟
پاکستان میں متوسط طبقہ اور اس کی آمدنی کے بارے میں سابق وزیر خزانہ اور ماہر معیشت ڈاکٹر حفیظ پاشا نے صحافی تنویر ملک کو بتایا کہ پاکستان کی معاشی صورتحال اور بین الاقوامی سطح پر غربت اور آمدنی کے اصولوں کو دیکھا جائے تو اس وقت ملک میں متوسط طبقہ پچاس ہزار سے اسی ہزار کے درمیان ماہانہ آمدنی والے افراد پر مشتمل ہے۔
انھوں نے کہا کہ اسی ہزار سے زائد ماہانہ آمدنی والے افراد اپر مڈل کلاس میں شاملِ ہوں گے۔
ڈاکٹر پاشا نے کہا پاکستان میں متوسط طبقہ کی جو آمدن ہونی چاہیے وہ ملک میں مہنگائی کی شرح اور ان کے اخراجات پر مشتمل اعداد و شمار اور عالمی سطح پر غربت کے پیرا میٹرز کو مد نظر رکھ کر کی جاتی ہے جو تمام ممالک کے لیے یکساں نہیں ہوتی۔

























