بنیامن نیتن یاہو کے دوبارہ اسرائیل کے وزیراعظم بننے کی راہ ہموار

،تصویر کا ذریعہSHUTTERSTOCK
سابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو کی ڈرامائی طور پر اقتدار میں واپسی کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ اب تک کہ انتخابی نتائج کے مطابق نیتن یاہو کو انتہائی دائیں بازو کی جماعت کی مدد سے اکثریت حاصل ہو جائے گی۔
اب تک 84 فیصد ووٹوں کی گنتی ہو چکی ہے اور بنیامن نیتن یاہو کے انتخابات اتحاد کو 120 نشستوں میں سے 65 نشستیں حاصل ہو جائیں گی۔
’انھوں نے یروشلم میں اپنے پرجوش حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’ہم ایک بڑی جیت کے قریب ہیں۔‘ تاہم انھیں انتہائی دائیں بازو کی قوم پرست مذہبی جماعت کی حمایت درکار ہو گی۔
اس جماعت کے رہنما اطامر بین گویر اور بیزالل سموٹرچ اپنی عرب مخالف تقاریر کی وجہ سے مشہور ہیں۔ یہ دونوں شخصیات ایسے اسرائیلی عرب سیاستدانوں کو ملک سے نکال دینے کی وکالت کرتے ہیں جنھیں وہ ’غدار‘ کہتے ہیں۔
بین گویر ایک واضح طور پر نسل پرست اور انتہائی قوم پرست رہنما مرحوم مائر کھین کے پیروکار رہ چکے ہیں۔ مائر کھین کی تنظیم پر اسرائیل میں پابندی لگا دی گئی تھی اور اسے امریکہ نے دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔
بین گویر کو خود بھی نسل پرستانہ جذبات ابھارنے اور دہشت گرد تنظیم کی حمایت کرنے کا مجرم قرار دیا جا چکا ہے۔
گزشتہ مہینے بین گویر اس وقت شہہ سرخیوں میں آئے جب انھوں نے مقبوضہ بیت المقدس میں ایک عرب آبادی والے علاقے کے دورے کے موقع پر اپنی بندوق نکال لی تھی۔ اس موقع پر ان پر فلسطینیوں نے پتھر پھینکے تھے۔ جس کے بعد بین گویر نے غصے میں آ کر بندوق نکال لی اور پولیس اہلکاروں سے کہا کہ وہ فلسطینیوں پر گولی چلائیں۔
بدھ کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انھوں نے وعدہ کیا کہ وہ پورے اسرائیل کے لیے کام کریں گے، ’ان کے لیے بھی جو مجھ سے نفرت کرتے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسری جانب بنیامن نیتن یاہو اپنی اہلیہ سارہ کے ہمراہ اپنی لیکوڈ پارٹی کے الیکشن دفتر میں آئے جہاں ان کے پرجوش حامیوں نے تالیوں اور نعرہ سے ان کا استقبال کیا۔ ’انھوں نے اپنے انتہائی خوش حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’ ہمیں اسرائیلی عوام نے زبردست طریقے سے اعتماد کا ووٹ دیا ہے۔‘
دوسری جانب تل ابیب میں موجودہ وزیراعظم یائر لیپڈ نے اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ابھی کچھ طے نہیں ہوا ہے اور ان کی جماعت حتمی نتائج کا انتظار کرے گی۔
بنیامن نیتن یاہو اسرائیل کے سب سے متنازع سیاستدان ہیں جن سے سینٹر اور لیفٹ کے نظریات رکھنے والے اکثر لوگ نفرت کرتے ہیں جبکہ لیکوڈ پارٹی کے کارکن ان سے محبت کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سابق وزیراعظم نیتن یاہو غربِ اردن میں یہودی بستیوں کے قیام کے زبردست حامی ہیں۔ سنہ 1967 میں جنگ کے بعد سے غربِ اردن پر اسرائیل کا قبضہ ہے۔ بین الاقوامی قانون کے مطابق اس علاقے میں یہودی بستیاں غیر قانونی سمجھی جاتی ہیں۔ تاہم اسرائیل اس قانون کو متنازع سمجھتا ہے۔
بنیامن نیتن یاہو اسرائیل فلسطین تنازع کے حل کے طور پر غزہ کی پٹی اور غربِ اردن میں ایک فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت کرتے ہیں۔ بین الاقوامی برادری کی اکثریت اسی فارمولے کی حمایت کرتی ہے۔ امریکہ میں صدر بائیڈن کی انتظامیہ بھی اسی حل کی حامی ہے۔























