’پورا جزیرہ بخارات بن کر اڑ گیا‘: آتش فشاں پھٹنے سے ہونے والا دھماکہ، جس کی آواز پانچ ہزار کلومیٹر دور تک سنی گئی

آتش فشاں پھٹنے کی علامتی تصویر

،تصویر کا ذریعہHulton Archive/Getty Images

،تصویر کا کیپشنکراکاٹوا آتش فشاں پھٹنے سے 36 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے
    • مصنف, ڈیزی سٹیفنز
    • عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

سنہ 1883 میں انڈونیشیا کے کراکاٹوا آتش فشاں میں ایک دھماکہ ہوا تھا، جس کا شمار ریکارڈ شدہ تاریخ کے دوسرے مہلک ترین دھماکوں میں کیا جاتا ہے۔

اس واقعے میں 48 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں 36 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک اور 165 دیہات ملیامیٹ ہو گئے تھے۔

1883 میں آتش فشاں پھٹنے سے دھماکے کی وہ آواز آئی جسے ریکارڈ شدہ انسانی تاریخ کی سب سے خوفناک آواز سمجھا جاتا ہے۔ یہ ہزاروں میل دور تک سنی گئی، جبکہ اس کے نتیجے میں اڑنے والی راکھ نے کئی سال تک دنیا بھر کے درجہ حرارت کو کم کیا۔

بی بی سی تاریخ کی بد ترین قدرتی آفات میں سے ایک پر نظر ڈال رہا ہے۔

’آپ اپنے سامنے اپنا ہاتھ بھی نہیں دیکھ سکتے تھے‘

امریکی نیشنل سینٹرز فار انوائرنمنٹل انفارمیشن (این سی ای آئی) کے مطابق اس تباہی کی ابتدائی علامات مئی 1883 میں ظاہر ہوئیں۔

ایک جرمن جنگی جہاز کے کپتان نے کراکاٹوا کے قریب سے گزرتے ہوئے دیکھا کہ جزیرے سے راکھ اور گرد کے بادل اٹھ رہے ہیں۔

اس وقت تک یہ آتش فشاں تقریباً 200 سال سے خاموش تھا۔

اگلے چند ماہ کے دوران تجارتی اور دیگر بحری جہازوں نے بھی یہی مشاہدہ کرنے کی اطلاع دی۔

پھر 26 اگست سے یہ آتش فشاں تباہ کن طریقے سے پھٹنا شروع ہوا۔

پہلی بار آتش فشاں پھٹنے سے لاوا اور راکھ بہتے ہوئے سمندر میں جا گرے، جس سے ایک سمندری طوفانی لہر پیدا ہوئی جو شمال کی جانب بڑھی اور ہزاروں افراد کی جان لے گئی۔

ایک گھنٹے کے اندر اندر راکھ کا ستون 48 کلومیٹر کی بلندی تک پہنچ گیا اور ہر سمت پھیلنے لگا۔

این سی ای آئی کے مطابق بڑھتے بڑھتے راکھ کا یہ ستون 80 کلومیٹر تک فضا میں بلند ہوا اور اس نے تین لاکھ مربع میل علاقے کو دو دن تک تاریکی سے ڈھانپے رکھا۔

آتش فشاں پھٹنے کی ایک علامتی تصویر

،تصویر کا ذریعہDEA / BIBLIOTECA AMBROSIANA / Contributor via Getty Images

،تصویر کا کیپشنراکھ کا ستون 80 کلومیٹر تک فضا میں بلند ہوا اور اس نے تین لاکھ مربع میل علاقے کو دو دن تک تاریکی سے ڈھانپے رکھا
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

راکھ کا بادل اپنے عروج پر 50 میل بلند تھا اور اس نے دو دن تک علاقے میں سورج کی روشنی کو روک دیا تھا۔

بچپن میں اپنے والد کی کشتی سے یہ دھماکہ دیکھنے والے سڈنی بیکر نے اپنی زندگی کے آخری حصے میں اُس لمحے کو یاد کیا۔

انھوں نے 1946 میں بی بی سی کو بتایا: ’فضا گرد و غبار سے اس قدر بھری ہوئی محسوس ہو رہی تھی کہ ہمیں دم گھٹنے کا خوف پیدا ہو گیا تھا۔

’اتنا اندھیرا ہو گیا تھا کہ آپ اپنے سامنے اپنا ہاتھ بھی نہیں دیکھ سکتے تھے۔ راکھ جہاز پر، پانی میں اور ہر جگہ گر رہی تھی اور شاید پورا جہاز چھ یا سات انچ راکھ سے ڈھک گیا تھا۔‘

انھوں نے دھماکوں کی آواز کو ’نا قابلِ یقین‘ قرار دیا اور کہا ’ان آوازوں اور ہنگامے کو بیان کرنے کے لیے الفاظ کافی نہیں۔‘

کتاب ’کراکاٹوا: جس روز دنیا پھٹ گئی‘ کے مصنف سائمن ونچیسٹر کے مطابق 27 اگست کو کئی دھماکے ہوئے اور پھر صبح 10 بج کر دو منٹ پر ایک ’بہت بڑا دھماکہ‘ ہوا۔

این سی ای آئی کے مطابق اس کی آواز 4600 کلومیٹر دور آسٹریلیا اور جزیرہ ماریشیئس تک سنی گئی۔

انھوں نے سنہ 2010 میں بی بی سی کی وٹنس ہسٹری پوڈکاسٹ کو بتایا: ’پورا جزیرہ، تقریباً چھ مکعب میل چٹانوں سمیت، ایک دھماکے میں بخارات بن کر اڑ گیا، پتھر اور راکھ فضا میں 17 سے 18 میل تک بلند ہوئے اور یہ جزیرہ نظروں سے اوجھل ہو گیا۔

’چند لمحوں کے لیے سمندر میں ایک بہت بڑا خلا پیدا ہوا، جو بعد میں کھربوں ٹن پانی سے بھر گیا۔ نیچے شدید گرمی کے باعث وہ پانی فوری طور پر بھاپ میں تبدیل ہوا اور اس سے بہت بڑے سمندری طوفان (سونامی) کا سلسلہ پیدا ہوا۔‘

سونامیوں کے اس سلسلے نے سب سے زیادہ تباہی مچائی، 36 ہزار میں سے تقریباً 34 ہزار اموات اس وجہ سے ہوئیں۔

سڈنی بیکر یاد کرتے ہیں کہ کیسے وہ اور ان کے والد انڈونیشیا کے صوبے بنتن کے مغربی ساحل پر واقع انجر شہر کی جانب گئے۔

انھوں نے کہا: ’شہر مکمل طور پر پانی میں ڈوب چکا تھا۔ میرے والد کہا کرتے تھے کہ جس ہوٹل میں وہ ٹھہرے تھے، وہ پانی میں اس قدر ڈوب گیا تھا کہ وہ اپنی کشتی کو اس کے اوپر سے گزار سکتے تھے اور لنگر اس کی چمنی میں ڈال سکتے تھے۔‘

کچھ لوگ سونامی سے بچ کر پہاڑی علاقوں میں پہنچ گئے۔

تاہم پانی سے محفوظ ہونے کے باوجود وہ بعد میں آنے والے پائروکلاسٹک فلو سے محفوظ نہ رہ سکے۔ یعنی وہ تودے جو گرم آتش فشانی گیس، راکھ اور چٹانی ٹکڑوں پر مشتمل تھے۔

یہ اثرات ان 48 گھنٹوں تک محدود نہیں رہے۔ راکھ دنیا بھر میں پھیل گئی، این سی ای آئی کے مطابق اس کے نتیجے میں عالمی درجہ حرارت میں تقریباً 0.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک کمی آئی اور اسے معمول پر آنے میں پانچ سال لگ گئے۔

فضا میں موجود ذرات کی وجہ سے طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے وقت آسمان سرخ ہو جایا کرتا تھا کیوں کہ وہ ذرات روشنی کو معمول سے مختلف انداز میں منتشر کرتے تھے۔

یہ بات اس دور کی کئی پینٹنگز میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ ایڈورڈ منک کی مشہور پینٹنگ دا سکریم میں دکھایا گیا سرخ آسمان بھی اسی سے متاثر تھا۔

سرخ آسمان اور چلاتے ہوئے شخص کی تصویر

،تصویر کا ذریعہDidier Lebrun / Photonews via Getty Images

،تصویر کا کیپشنبعض ماہرین کا خیال ہے کہ ایڈورڈ منک کی مشہور پینٹنگ دا سکریم میں دکھایا گیا سرخ آسمان بھی آتش فشاں کے اثرات دکھا رہا ہے

اس تمام تباہی کے باوجود اس دھماکے نے ہمیں اپنے سیارے کے بارے میں ایک بنیادی سبق سکھایا۔

دھماکے سے پہلے کسی کو جیٹ سٹریمز کے بارے میں علم نہیں تھا، یعنی فضا کی بالائی تہوں میں تیزی سے بہنے والی ہوائی لہریں جو موسم پر اہم اثر ڈالتی ہیں۔ کراکاٹوا کے عالمی اثرات نے اس حقیقت کو واضح کیا۔

سائمن ونچیسٹر کے مطابق: ’یہ پہلا واقعہ تھا جس نے سائنسی شعور رکھنے والی انسانیت کو یہ احساس دلایا کہ کسی ایک جگہ پیش آنے والا واقعہ پوری دنیا کو متاثر کر سکتا ہے۔

’یہیں سے یہ ادراک پیدا ہوا کہ پوری دنیا آپس میں جڑی ہوئی ہے اور آج جن چیزوں کو ہم معمول سمجھتے ہیں، جیسے عالمی حدت اور سمندر کی سطح میں اضافے کا تصور، ان کی جڑیں اسی احساس میں ہیں کہ دنیا ایک باہم مربوط نظام ہے۔ یہ شعور کراکاٹوا کے دھماکے کے ساتھ پیدا ہوا تھا۔‘