وہ عورتیں جن کی زندگی صرف پانی بھرنے میں گزر جاتی ہے

    • مصنف, عنقا پاٹھک
    • عہدہ, بی بی سی مراٹھی
  • وقت اشاعت

’یہ بہت اذیت ناک ہے، گرمی سے چکر آتے ہیں اور سر درد سے پھٹنے لگتا ہے۔ اکثر اوقات پانی لانے کے لیے بہت دور چل کر جانا پڑتا ہے، لیکن اس کے علاوہ کوئی اور چارہ بھی نہیں۔‘

یہ الفاظ سنیتا بائی کی اس گفتگو کا حصہ ہیں جس میں ہمیں وہ اپنے روز مرّہ کے کاموں کے دوران پانی بھرنے اور اسے گھر تک لانے کی زمہ داری اور مشکلات بتا رہی تھیں۔

ان کی کہانی سننے سے پہلے یہ جان لیں کہ انڈیا کی ریاست مہاراشٹر کے اس گاؤں میں خواتین پانی کیسے بھرتی ہیں۔

پانی بھرنے کے لیے خواتین گاؤں کے قریب واقع ڈیم کے کناروں پر ہاتھوں سے چھوٹے چھوٹے گڑھے کھودتی ہیں اور اس طرح جو پانی نکلتا ہے اسے ہاتھوں سے بھر کر برتنوں میں جمع کرتی ہیں۔

ایک گڑھا کھود کر اسے بھرنے میں کم از کم ڈیڑھ گھنٹہ لگتا ہے جس سے یہ ایک یا دو ہاتھ ہی بھر پاتا ہے۔ خواتین کو پانی کے لیے کم از کم چار بار یہ عمل دہرانا ہوتا ہے۔

سنیتا بائی نے پانی کے حصول کے لیے اپنی مشکلات کے حوالے سے مزید ہمیں بتاتے ہوئے کہا کہ ’آپ کو پتہ ہے کہ پانی لانے میں کتنا وقت لگ جاتا ہے؟ پانی گھر تک لانے میں دن میں ہمارے چار گھنٹے سے زیادہ لگ جاتے ہیں۔ دن میں تین چار بار جانا پڑتا ہے اور گھر آنے تک کسی چیز کی ہمت نہیں رہتی۔‘

پانی کے حصول کے لیے موسم کی سختی کو پس پشت ڈال کر روزانہ میلوں پیدل چلنا اور پھر پانی لے کر واپس گھر آنا یہ صرف ایک سنیتا بائی کی کہانی نہیں بلکہ ہر قطرہ پانی کے حصول کے لیے مسلسل جدوجہد سے روزآنہ انڈیا کی لاکھوں خواتین گز رہی ہیں۔

روزانہ پورے خاندان کے لیے دور دراز سے ایک برتن پانی بھر کر لانے کی قیمت ایک خاتون کو کس طرح چُکانی پڑتی ہے اور اس کا ملکی معیشت پر اس کا کیا اثر ہوتا ہے۔ ہم نے انھی حالات کو جاننے کے لیے سب سے پہلے رخ کیا ضلع ناسک کے ترنگل واڑی گاؤں کا اور یہاں خواتین سے بات کرتے ہوئے ہمیں سنیتا بائی ملیں جن کے مطابق زیادہ تر یہاں خواتین کا دن صرف پانی لانے میں گزرتا ہے۔

اس دوران ان کی تعلیم، صحت ، ذہنی سکون سمیت اور روزمرّہ کی زندگی خوشیوں اور آرام سمیت ہر چیز پانی بھرنے کے لیے داؤ پر لگ جاتی ہے۔

پانی بھرنے کے لیے چار گھنٹے پیدل چلنا

انڈیا کی ریاست مہاراشٹر کا گاؤں ترنگل واڑی درحقیقت ترنگل واڑی ڈیم کے قریب واقع ہے لیکن اس کا کا حال چھوٹے دیہاتوں جیسا ہی ہے جہاں ڈیم کے پانی پر گاؤں والوں کا کوئی حق نہیں اور وہ پانی قریبی شہر کے لوگوں کے لیے مخصوص ہے۔

یہ ڈیم ابھی خالی ہے۔ باقی ماندہ صاف پانی ٹینکرز استعمال کر رہے ہیں۔

گاؤں میں ہماری ملاقات سنیتا بائی بھرواڑے سے ہوئی۔ وہ روز صبح سویرے پانی بھر کر مسالہ پیسنے کے کام پر جاتی ہیں۔

ہم نے ان سے بات کرنے کی درخواست کی تو اسی دوران وہاں مزید خواتین بھی آئیں اور شور بڑھ گیا۔

سنیتا بائی نے کہا، ’پانی بھرنے کے لیے آنے جانے میں ہی چار گھنٹے سے زیادہ لگ جاتے ہیں۔ دور ہونے کے باوجود یہاں سے پانی لانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔‘

پانی سے بھرے برتن سر پر اٹھانے کی وجہ سے صحت سے متعلق کئی مسائل جنم لیتے ہیں۔ صرف سنیتا بائی ہی نہیں، گاؤں کی بہت سی دوسری خواتین بھی کسی نہ کسی طریقے سے مشکلات کا شکار ہیں۔ کسی کے اعضا میں درد ہے، کسی کی کمر میں۔

سنیتا بائی نے اس ذمہ داری کی اذیّت اور تکلیف سے آگاہ کیا تو ہم نےان سے پوچھا گیا کہ آپ کوئی دوا لے رہی ہیں یا نہیں، تو انھوں نے کہا، ’’یہاں گاؤں میں دوائی کہاں ملتی ہے! اگر ہم میں سے کسی ایک یا دو کو دوائیاں مل بھی جائیں تو وہ بہتر ہو جائیں گی باقی مسلسل کام کریں گی۔

پانی بھرنا صرف عورت کی ذمہ داری کیوں؟

ہم یہ دیکھنے گئے کہ یہ عورتیں کہاں سے پانی لاتی ہیں۔ ترنگل واڑی ڈیم کا پانی تقریباً ختم ہو چکا تھا۔ اس کے بیچ میں جا کر بیٹھنا ممکن تھا۔ جو پانی بچا تھا وہ مکمل طور پر آلودہ تھا۔ یہ پینے کے قابل نہیں تھا۔

چنانچہ یہ خواتین ڈیم کے کناروں پر چھوٹے چھوٹے گڑھے کھود کر دستیاب پانی سے اسے بھرتی ہیں۔ مٹی قدرتی فلٹریشن کے طور پر کام کرتی ہے، لیکن اس میں کافی وقت لگتا ہے۔

ایک گڑھا کھود کر اسے بھرنے میں ڈیڑھ گھنٹہ لگتا ہے۔ یہ ایک یا دو ہاتھ بھرتا ہے۔ خواتین کو پانی کے لیے کم از کم چار ایسے چکر لگانے پڑتے ہیں۔

یہ خواتین پانی لانے کے لیے روزانہ جتنی زیادہ چلتی ہیں، ان کے روزگار کے خواب اتنے ہی دور ہوتے جاتے ہیں۔ خواتین کی زندگیاں اس میں ڈوب جاتی ہیں۔

سنیتا بائی نے ایک آہ بھرتے ہوئے بتایا کہ ’ پانی بھرتے ہوئے ہی دن کے بارہ بج جاتے ہیں۔ اب مسالہ پیسنے کا کام مجھے کون دے گا؟ کام پر جائیں گے تو گھر کے لیے پانی نہیں ملے گا۔ ہم ادھر ادھر بھاگیں تو بھی پانی نہیں ملتا۔ روز کی روٹی میسر نہیں ایسے میں اورکیا کریں۔‘

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اور یونیسیف کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق دنیا میں 18 لاکھ سے ذیادہ افراد کو پینے کا پانی طویل فاصلے سے لانا پڑتا ہے اور ان میں سے 70 فیصد گھرانوں میں خواتین اور لڑکیاں پانی لانے اور بھرنے کی ذمہ دار ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انڈیا میں تقریباً 25 فیصد گھرانوں میں صرف خواتین ہی دور سے پانی لانے کی ذمہ دار ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایک عورت پانی لانے میں دن میں اوسطاً 15 سے 20 منٹ صرف کرتی ہے، جب کہ دیہی علاقوں میں یہ زیادہ سے زیادہ 40 منٹ تک ہوسکتا ہے، لیکن مرد یہ کام صرف پانچ منٹ میں کرسکتے ہیں۔

’خواتین لاکھوں گھنٹے پانی بھرنے میں گزارتی ہیں‘

سیما کلکرنی ایک رضا کار تنظیم ’مہیلا کسان ادھیکار منچ‘ کی رکن ہیں۔ وہ دیہی خواتین اور ان کی زندگیوں کا مطالعہ کرتی ہیں۔

اس معاملے پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’نیشنل سروے آف ٹائم یوز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خواتین روزانہ ساڑھے چار گھنٹے پانی لانے، چارہ لانے، لکڑیاں جمع کرنے اور دیگر کاموں میں صرف کرتی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ان کے پاس ملازمت کے لیے صرف آدھا دن باقی ہے۔ بس پانچ چھ گھنٹے۔ اس دوران وہ مزدوری، یا پیسے کمانے کے لیے کوئی کام کر سکتی ہیں۔‘

اقوام متحدہ کے مطابق دنیا بھر میں خواتین 20 کروڑ گھنٹے یومیہ پانی لانے میں صرف کرتی ہیں۔ انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ انٹرپرائز کے اعداد و شمار کے مطابق، انڈیا میں ہر سال 15 کروڑ خواتین کے کام کے دن پانی لانے اور بھرنے میں صرف ہوتے ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ جو وقت وہ روزگار حاصل کر کے کما سکتی ہیں وہ اس طرح کے گھر کے کاموں میں صرف ہوتا ہے۔ اس سے نہ صرف خواتین کی معاشی خودمختاری بلکہ ملک کی معیشت بھی متاثر ہوتی ہے۔

پروفیسر اشونی دیشپانڈے ایک ماہر اقتصادیات اور اشوکا یونیورسٹی، دہلی میں شعبہ اقتصادیات کے سربراہ ہیں۔

وہ کہتے ہیں ’خواتین کا زیادہ تر وقت پانی اور ایندھن کے انتظام میں صرف ہوتا ہے۔ پانی لانے کا کام خواتین کو کرنا پڑتا ہے۔ تو وہ پابند ہو جاتے ہیں۔ وہ اور کچھ نہیں کر سکتے۔ دوسری نوکری کر کے پیسے بھی نہیں کما سکتے۔‘

پروفیسر دیش پانڈے نے خواتین کی بلا معاوضہ مزدوری کا مسئلہ بھی اٹھایا۔

ان کے مطابق یہ کام شمار نہیں ہوتا۔ اس لیے خواتین معاشی طور پر بااختیار بنانے کے معاملے میں پیچھے رہ جاتی ہیں۔

وہ کہتے ہیں ’میکرو اکنامکس کے بارے میں بات کرتے ہوئے ہمیں دو پہلووں کو سمجھنا ہوگا۔ ایک یہ کہ جہاں کام میسر ہو وہاں خواتین کام نہیں کر سکتیں، کیونکہ انھیں گھر کا کام کرنا ہوتا ہے، لیکن بہت سی خواتین ایسی ہیں جو گھر کا کام کرکے بھی روزگار حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ دیہی علاقوں میں ان کے لیے ایسا کوئی کام دستیاب نہیں ہوتا۔

حکومتی عدم تعاون اور خواتین کی بلا معاوضہ مزدوری میں اضافہ

انڈیا کی معیشت میں روپے 22.7 لاکھ کروڑ، جو جی ڈی پی کا ساڑھے سات فیصد ہے۔

ماہرین نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ خواتین کی بلا معاوضہ مزدوری بڑھ رہی ہے اور اس کا معیشت پر اثر پڑ سکتا ہے۔

سیما کلکرنی کہتی ہیں ’پیریوڈک لیبر سروے میں 2017-18 کے جاری سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بلا معاوضہ مزدوری میں خواتین کا تناسب 31 فیصد تھا اور 2022-23 کے اعداد و شمار کے مطابق یہ بڑھ کر 37 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔‘

ان کے مطابق ’ یہ اضافہ حکومتی تعاون کی کمی کی وجہ سے ہوا ہے۔ اس لیے خواتین کو پانی لانے، کھانے کی حفاظت اور خاندان کی دیکھ بھال کے لیے کافی وقت صرف کرنا پڑتا ہے۔ وہ ایسا کام نہیں کر سکتے جو مالی طور پر ادائیگی کرتا ہو اور اس سے معیشت متاثر ہو۔‘

دوسری جانب حکومت کا دعویٰ ہے کہ جنوری 2024 تک ملک کے 73 فیصد دیہی گھرانوں کو پائپ کے ذریعے پانی کا کنکشن دے دیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے خواتین اور لڑکیوں کو پانی لانے میں درپیش مشکلات اور وقت میں کمی آئی ہے

’اس وقت سے یہ کام کر رہی ہوں جب سے میں نے ہوش سنبھالا‘

تاہم، ان تمام اعداد و شمار اور بحثوں سے ہٹ کر سنیتا بائی کی زندگی صرف پانی لانے میں گزر رہی ہے۔ اگر ایک دن پانی نہ لانا ہو اور ان کے پاس بہت وقت ہو تو وہ کیا کریں؟

سنیتا بائی اس سوال کا فوری جواب نہیں دے سکتیں۔

میں اس وقت سے یہ کام کر رہی ہوں جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے۔ ‘

سنیتا بائی ہنستے ہوئے بولیں۔ ’دیہی خواتین کی زندگیوں کے بارے میں بات کریں تو عورت کی زندگی پانی بھرنے میں گزر جاتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ بوڑھیی ہو کر مر نہ جائے۔‘

انھیں پچھلے ایک ماہ سے اپنی دوست سے ملنے کا وقت بھی نہیں ملا۔

’وہ گاؤں کے ایک سرے پر رہتی ہے اور میں دوسرے سرے پر۔ صرف پانی بھرنا ہی تو کافی نہیں۔ گذشتہ ماہ گاؤں میں ایک مذہبی تقریب میں ملاقات ہوئی اس کے بعد وہ مجھے آج ملی ہے اور وہ بھی آپ کی وجہ سے۔‘

جب سنیتا بائی نے یہ کہا تب ان کی سہیلی نے تائید میں سر ہلایا۔

میں نے پھر پوچھا کہ جب آپ کے پاس فارغ وقت ہو تو کیا کریں؟

’جب بھی مجھے فارغ وقت ملتا ہے، میں گانے گانا پسند کرتی ہوں۔‘

لیکن کیا کیجیے کہ ان کے گانوں میں بھی ہمیں پانی کی جدوجہد کا ہی ذکر ملا۔