انڈیا میں ہجوم کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے ظہیر: ’کسی نے کہا کل ان کا تہوار ہے، ان کو آج ہی ختم کر دو‘

،تصویر کا ذریعہVISHNU NARAYAN/BBC
- مصنف, وشنو نارائن
- عہدہ, بی بی سی انڈیا
- وقت اشاعت
ظہیرالدین کی عمر 55 برس تھی۔ جسمانی معذوری کے باوجود وہ ٹرک چلانے پر مجبور تھے۔ ظہیرالدین کی موت کے بعد ان کا خاندان بکھر گیا ہے۔ ان کی والدہ لیلیٰ خاتون کی عمر 75 برس ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے ہمیں اپنے بیٹے کے بارے میں بتایا: ’کلکتہ میں ایک بار گاڑی کے ایکسیڈنٹ میں اس کے پاؤں میں نقص آ گیا تھا، تب سے وہ لنگڑا کر چلتا تھا۔ اس واقعے میں سب بھاگے، وہ بھاگ نہ سکا۔‘
انھوں نے غم سے بوجھل آواز میں بتایا: ’وہ مجھے تھوڑے سے پیسے دیتا تھا تو میں اپنی کمر کا علاج کرواتی تھی۔ اب میرے بیٹے کے ساتھ میرے علاج کی امید بھی دم توڑ گئی۔ اس کے بچے تو ابھی اپنے پیروں پر کھڑے بھی نہیں ہوئے۔‘
لیلیٰ خاتون مزید کہتی ہیں کہ یہ کاروبار ان کے لیے کوئی نئی چیز نہیں ہے اور نہ ہی علاقے کے لیے۔
’پہلے جانوروں کی ہڈیاں بیل گاڑیوں اور ریل گاڑیوں پر لاد کر کانپور اور دوسری جگہ لے جائی جاتی۔ میرے سسر بھی یہ کام کیا کرتے تھے۔ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا، لیکن نہ جانے اس دن کیا ہوا کہ لوگوں نے میرے بے بس بیٹے کو مار ڈالا۔‘

،تصویر کا ذریعہVISHNU NARAYAN/BBC
’کسی نے آ کر شیشہ توڑا تو کسی نے چھری دکھائی، کوئی آیا تو اس ٹائر کی ہوا نکال دی، کسی نے کہا کہ کل ان لوگوں کا تہوار (بقرعید) ہے ان کو آج ہی ختم کر دو۔ اس کے بعد پولیس آگئی، اینٹ پتھر اور بھگدڑ دیکھ کر پولیس بھی بھاگنے پر مجبور ہو گئی۔ ایسے میں ظہیرالدین کو کون بچاتا؟ ظہیر معذور تھے۔ ان کے ساتھ انتہائی بے رحمی کا سلوک کیا گیا۔ ہم کسی طرح بھاگ کر اپنی جان بچانے میں کامیاب ہو گئے۔‘
55 سالہ ظہیر الدین کی ہجوم کے ہاتھوں ہلاکت کی یہ درد ناک تفصیلات بی بی سی کو قیوم خان نے بتائیں جو 28 جون کو اسی چھوٹے ٹرک میں سوار تھے جس کو انڈیا کی ریاست بہار کے ضلع چھپرا میں جلال پور تھانے کی حدود میں پرتشدد ہجوم نے آگ لگا دی تھی اوراس کے ڈرائیور ظہیر الدین کو سڑک پر بے تحاشہ تشدد کر کے ہلاک کر دیا تھا۔
قریبی تھانے کی پولیس نے ٹرک کو قبضے میں لے کر قریبی ناگرہ بازار منتقل کر دیا۔ اس ٹرک کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ بدھ کی شام ظہیرالدین کے ساتھ کیا ہوا ہوگا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈرائیونگ سیٹ کے ساتھ والی سیٹ پر اب بھی پتھروں کا ڈھیر موجود ہے۔ جائے وقوع پر پہنچنے پر ہم نے دیکھا کہ وہاں سڑک پر ٹرک کے شیشے ابھی تک بکھرے پڑے ہیں اور کچھ چپلیں بھی دکھائی دے رہی ہیں۔
28 جون کی شام ہوا کیا تھا؟

،تصویر کا ذریعہVISHNU NARAYAN/BBC
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
یہاں تک تو سب کو معلوم ہے کہ کسی خرابی کی وجہ سے جب ٹرک ڈرائیور ظہیرالدین کو بانگڑا گاؤں کے سامنے ہنومان مندر کے پاس ٹرک روکنا پڑا تو وہاں سے گزرنے والے ایک لڑکے نے آ کر دریافت کیا کہ ٹرک میں کیا لدا ہے؟
ڈرائیور اور عملے نے جواب میں بتایا کہ ٹرک میں مردہ جانور کی ہڈیاں ہیں۔ یہ سنتے ہی لڑکے نے چیخ کر وہاں لوگوں کو اکھٹا کر لیا اور مطالبہ کیا کہ انھیں ہڈیاں دکھائی جائیں۔
قیوم خان کے مطابق لوگوں نے ٹرک پر چڑھ کر بھی اچھی طرح دیکھا لیکن پھر بھی وہ ماننے کو تیار نہیں تھے کہ گاڑی میں گائے کا گوشت لوڈ نہیں کیا گیا۔
لوگوں نے مزید پوچھ گچھ کے لیے ہڈیوں کے کارخانے کے مالک کو بلانے کا کہا۔ انھوں نے ایسا ہی کیا لیکن پھر بھی لوگ ماننے کو تیار نہیں ہوئے اور ایک ہی بات پر اڑے رہے کہ ہڈیوں کے ڈھیر کے نیچے گائے کا گوشت ہے۔
اس افسوسناک واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے انھوں نے کچھ عرصے پہلے کا دور یاد کیا جب ان کے مطابق ایسے واقعات نہیں ہوتے تھے۔
’اس سڑک سے ہڈیاں کھلے عام لے جائی جاتی تھیں، کبھی بیل گاڑیوں پر اور کبھی خاکروبوں کے ذریعے۔ مگر اب تو مجھے کہیں بھی جانے سے ڈر لگتا ہے کہ کوئی آ کر مجھے مار ڈالے گا۔ کتنے ہی لوگ دور دور سے کام کے لیے آتے تھے مگر اب یہ سب یہاں ہوا جس کی توقع نہیں تھی۔‘
جائے وقوع پر پہنچ کر تمام تر کوششوں کے باوجود کوئی بھی واضح طور پر کچھ بتانے کو تیار نہیں تھا۔
تاہم اردگرد کے لوگ دبی دبی زبان میں ایسی باتیں ضرور کہتے سنے جاتے رہے کہ آج کل کے لڑکے کسی کے دباؤ میں ہیں، پتہ نہیں کس وقت کہاں سے آواز بلند ہوتی ہے اور سب کچھ تباہ ہو جائے گا۔
’میرے والد کو چلنے میں محتاجی تھی‘

،تصویر کا ذریعہVISHNU NARAYAN/BBC
ظہیر کی 24 سال کی بیٹی سید النسا باپ کے اس طرح مر جانے سے صدمے سے نڈھال ہیں۔
ان کا کہنا ہے، ’میرے والد کو چلنے میں محتاجی تھی۔ اس بے بسی کی وجہ سے ہم نے انھیں کئی بار کام چھوڑنے کا کہا۔ لیکن انھوں نے یہ سوچ کر بطور ڈرائیور نائٹ ڈیوٹی کرنا شروع کر دی کہ اگر وہ تھوڑا پیسہ کما لیں گے تو ہمارا گزارا کچھ آسانی سے چلے گا۔
’میرے والد کوئی غیر قانونی کام نہیں کرتے تھے، ہم انصاف چاہتے ہیں۔‘
چھپڑا ضلعے کے مختلف علاقوں میں 6 ماہ کے اندر اس نوعیت کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل مشتعل ہجوم نے گائے کے گوشت کی سمگلنگ کے شبہ میں ایک شخص کو تشدد کر کے جان سے مار ڈالا تھا۔
پہلا واقعہ ضلع کے رسول پور تھانہ علاقے میں پیش آیا جب کہ دوسرا واقعہ جمال پور کے بانگڑا گاؤں کے بالکل سامنے پیش آیا۔
دونوں کیسز میں واقعات مختلف ہو سکتے ہیں تاہم دونوں میں لوگوں نے گائے کے گوشت کا ذکر کیا ہے اور پھر ہتھے چڑھ جانے والے شخص کو اتنا مارا کہ وہ تشدد سے ہلاک ہو گیا۔
’مردہ جانوروں کی ہڈیاں اٹھانے کا کام انگریزوں کے زمانے سے جاری ہے‘
اس پورے واقعے میں ہڈیوں کا ذکر شروع ہی سے کیا جا رہا ہے۔ اس لیے بہت سے لوگوں کے ذہن میں یہ سوال ہو سکتا ہے کہ جانوروں کی ہڈیاں کہاں جا رہی تھیں؟ اور وہ کون لوگ ہیں جو ہڈیوں کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔
تو ان سوالوں کے جواب جاننے کے لیے ہم چھپرا ضلع کے ناگرا بلاک میں واقع فیکٹری پہنچے جہاں برسوں سے مردہ جانوروں کی ہڈیوں کی پروسیسنگ کا کام جاری ہے۔ یہ ان کا جائز کاروبار ہے، انھیں وزیر اعظم ایمپلائمنٹ جنریشن سکیم کے تحت مدد بھی ملی ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے فیکٹری کے ڈائریکٹر محمد صفات کہتے ہیں، ’ہمارا یہ کام آج سے نہیں، ہم نسلوں سے یہ کام کر رہے ہیں۔ ہمارے دادا ہڈیوں کو ٹرین سے لاد کر کانپور بھیجتے تھے اور اب وہ گجرات میں سٹرلنگ بائیوٹیک لمیٹڈ کمپنی میں جاتے ہیں۔ ہم پاؤڈر بنا کر گجرات بھیجتے ہیں اور اس سے بہت سے لوگوں کو روزگار ملتا ہے۔‘
جب ہم نے فیکٹری اور مختلف جگہوں سے ہڈیاں لانے کے بارے میں سوالات کیے تو انھوں نے اپنے جواب کے بجائے الٹا ہم سے سوال کیا کہ ’کیا ریاست میں کسی قسم کا کاروبار کرنا جرم ہے؟ ہم کوئی غیر قانونی کام نہیں کر رہے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ مردہ جانوروں کی ہڈیاں اٹھانے کا کام انگریزوں کے زمانے سے جاری ہے۔ ’اس کا ایک مکمل نیٹ ورک ہے۔ جب مردہ جانور گاؤں سے باہر مخصوص علاقے میں پھینکے جاتے ہیں تو کمتر سمجھے جانے والی ذات کے لوگ انھیں جمع کرتے ہیں۔‘
وہ کہتے ہیں، ’ہم ان ہڈیوں کو اپنے نیٹ ورک کے ذریعے اٹھا کر لے جاتے ہیں، ان کا وزن کرتے ہیں اور بدلے میں ان کو پیسے دیتے ہیں۔ ہم صرف گاؤں اور معاشرے میں ہر طرف پھیلنے والی بدبو اور بیماری سے نمٹ رہے ہیں، پھر ایسا ظلم کیوں ہوا؟‘
ملزم کی گرفتاری پر پولیس کیا کہہ رہی ہے؟
اس پورے واقعے اور ملزم کی گرفتاری کے متعلق جاننے کے لیے ہم نے چھپرا ضلع کے پولیس سپرنٹنڈنٹ گورو منگلا سے رابطہ کیا۔
پولیس سپرنٹنڈنٹ نے پریس نوٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’28 جون کو محمد ظہور الدین جانوروں کی ہڈیاں فیکٹری میں لے جا رہے تھے جب جلال پور تھانے کی حدود میں ان کی گاڑی خراب ہو گئی۔ بدبو کی وجہ سے وہاں بھیڑ جمع ہو گئی اور بھیڑ نے انھیں مار مار کر شدید زخمی کر دیا اور علاج کے دوران ان کی موت ہو گئی۔‘

،تصویر کا ذریعہVISHNU NARAYAN/BBC
اس معاملے میں اب تک سات ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ متوفی کے لواحقین کے بیان پر 20 سے 25 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے۔
تاہم اس پورے معاملے میں پولیس انتظامیہ کی جانب سے جاری تحقیق اور کارروائی اب تک ناکافی دکھائی دے رہی ہے۔ اس واقعے کی ایف آئی آر میں چھ لوگوں کے نام درج کیے گئے ہیں، لیکن اب تک ایک بھی نامزد شخص کو گرفتار نہیں کیا جا سکا ہے۔
پولیس حکام نے بھی بی بی سی سے ہونے والی بات چیت میں اعتراف کیا ہے کہ اس معاملے میں 29 جون کو درج کی جانے والی گرفتاریوں کے سوا کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

























