ایک ہی انڈین ہوٹل میں دو روسی شخصیات کی موت کے بعد تحقیقات سی آئی ڈی کے حوالے

PAVEL ANTOV

،تصویر کا ذریعہPAVEL ANTOV/VK

،تصویر کا کیپشنفوربز نے 2019 میں انتوو کی دولت کا تخمینہ 140 ملین ڈالر لگایا تھا
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو، دلی
  • وقت اشاعت

انڈیا کی ریاست اڑیسہ میں ایک روسی کروڑپتی پارلیمنٹیرین پاویل آنتوف کی مبینہ خودکشی کے معاملے کی تفتیش ریاستی سی آئی ڈی کے سپرد کر دی گئی ہے۔ 

پولیس کے مطابق انھوں نے اسی ہوٹل میں دو روز قبل اپنے دوست کی موت کے بعد مبینہ طور پر تیسری منزل سے کود کر خودکشی کر لی تھی یا حادثاتی طور پر گر کر ہلاک ہو گئے۔ 

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش میں اس معاملے میں کوئی ’مجرمانہ حرکت‘ نظر نہیں آتی۔

مشرقی ریاست اڑیسہ کی ریاستی پولیس کے سربراہ سنیل بنسل نے میڈیا کو بتایا کہ ’چونکہ ہوٹل میں ایک کے بعد ایک دو روسی شہریوں کی اموات ہوئی ہیں اس لیے میں نے ریاستی پولیس ہیڈ کوارٹرز کی سی آئی ڈی کو ان اموات کی تفتیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ ہم نے کولکتہ میں روسی قونصل خانے سے بھی رابطہ قائم کیا ہوا ہے۔ قونصل خانہ اس تفتیش میں ہمارے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔‘

ڈائریکٹر جنرل سنیل بنسل نے مزید بتایا کہ ’چار روسی رائے گڑا ضلع کے ایک ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک روسی شہری کی چند روز قبل غالباً دل کی بیماری کی وجہ سے موت ہو گئی۔ ہم نے ان کا پوسٹ مارٹم کروایا ہے۔ دو روز بعد ہی پتہ چلا کہ ایک اور روسی شہری کی غیر فطری موت ہو گئی۔ ان کی لاش کا بھی پوسٹ مارٹم کیا گیا ہے۔ پہلے اس کی جانچ ضلع پولیس کر رہی تھی اب اس کی تفتیش کی ذمے داری سی آئی ڈی کو دی گئی ہے۔‘ 

ایک ٹور کمپنی کے اہلکار پراگیہ چندرا نے بتایا کہ چاروں روسی شہریوں نے 15 روز کے لیے ’انڈیا ٹرائبل ٹور‘ کی بکنگ کروائی تھی جس کے تحت انھیں اڑیسہ، بعض شمال مشرقی ریاستوں اور راجستھان وغیرہ جانا تھا۔

ان روسی شہریوں کے گائیڈ جتیندر سنگھ نے میڈیا کو بتایا کہ 22 دسمبر کو یہ لوگ راجستھان کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان میں سے ایک 61 سالہ ولادیمیر بودانوف 22 دسمبر کو اپنے کمرے میں بے ہوشی کی حالت میں ملے تھے۔ انھیں ہسپتال لے جایا گیا جہاں انھیں مردہ قرار دیا گیا۔ ان کے کمرے سے وائن کی بوتلیں اور دل کی بیماری کی کچھ دوائیں وغیرہ ملی تھیں۔ اطلاعات ہیں کہ ان کے رشتے داروں کی اجازت کے بعد ان کی لاش کو رائے گڑا میں ہی نذرِ آتش کر دیا گیا ہے۔

ابتدائی طور پر اسے خودکشی یا حادثاتی طورپر چھت سے گرنے کے معاملے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ روسی نیوز چینل آر ٹی نے روسی سفارتخانے کے حوالے سے کہا ہے کہ ’پولیس کو اس معاملے میں کوئی مجرمانہ زاویہ نہیں ملا ہے۔‘

پولیس کا کہنا ہے اپنے دوست بودانوف کی اچانک موت کے بعد پاویل آنتوف بہت اداس اور افسردہ تھے اور غالباً اسی صدمے کے سبب انھوں نے مبینہ طور پر خودکشی کر لی ہو۔ پولیس ہوٹل کی چھت سے ان کے حادثاتی طور پر گرنے کے امکان کے زاویے سے بھی تفتیش کر رہی ہے۔ ان کی لاش ہوٹل کے باہر فرش پر خون میں لت پت پائی گئی تھی۔ 

پوتن

،تصویر کا ذریعہReuters

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

65 سالہ پاول آنتوف نے روس میں ’ولادیمیر سٹینڈرڈ‘ نام کی ایک ساسج بنانے والی میٹ پراسسنگ کمپنی قائم کی تھی۔ بہت جلد ان کا شمار خطے کے انتہائی دولتمند لوگوں میں ہونے لگا تھا۔ وہ روس کے صدر ولادیمیر پوتن کی پارٹی یونائیٹیڈ رشیا پارٹی کے رکن تھے۔ وہ ماسکو کے پڑوسی خطے ولادیمیر کی علاقائی پارلیمنٹ کے رکن تھے۔

سنہ 2019 میں انھیں فوربز نے روس کا سب سے دولتمند پارلیمنٹیرین اور سول سرونٹ قرار دیا تھا۔ اس وقت وہ تقریباً 10 ارب روبل یا 14 کروڑ ڈالر کے مالک تھے۔ 

روسی خبر رساں ایجنسی تاس نے ولادیمیر کی پارلیمنٹ کے سپیکر ولادیمیر کیسلیوو کا بیان جاری کیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے ’پاویل کی پیشہ ورانہ اور ذاتی صلاحتیوں کی سبھی عزت کرتے تھے۔ وہ بہت حساس اور ذہین شخص تھے۔ وہ اپنے معتدل نظریات سے سبھی کا دل جیت لیتے تھے۔ ان کی موت ولادیمیر کی پارلیمنٹ اور پورے خطے کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔‘

پاویل آنتوف نے گذشتہ جون میں یوکرین کے دارالحکومت کیئو کی ایک رہائشی عمارت پر روسی میزائل حملے پر سخت نکتہ چینی کی تھی۔ 

اس حملے میں ایک سات سالہ بچی اور اس کی ماں بری طرح زخمی ہوئی تھیں اور باپ کی موت ہو گئی تھی۔ 

پاویل نے اپنے واٹس ایپ میسج میں لکھا تھا ’ان حملوں کو دہشت گردی کے علاوہ کچھ اور کہنا انتہائی مشکل ہے۔‘ 

بعد میں ان کے نام سے روس کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’وی کونتاکتے‘ پر ایک پیغام جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ روسی حملے پر تنقید کا پیغام تکنیکی غلطی سے جاری ہو گیا تھا۔ 

اس پیغام میں زور دیا گیا تھا کہ پاویل آنتوف ایک محب وطن ہیں اور وہ صدر پوتن کے حمایتی ہیں۔ 

جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک کئی ہائی پروفائل روسی کاروباری شخصیات پراسرار حالات میں ہلاک ہو چکی ہیں۔

ستمبر میں روس کی تیل کمپنی لوکوئل کے سربراہ رویل مگانوف ماسکو کے ایک ہسپتال کی کھڑکی سے گر گئے تھے۔