آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
برازیل فسادات: پارلیمنٹ، سپریم کورٹ پر دھاوے کے بعد اعلیٰ افسران کی گرفتاری کا حکم
برازیل کے دارالحکومت میں اہم سرکاری عمارتوں پر مظاہرین کے حملوں کے بعد ملک کی ایک عدالت نے اعلیٰ عہدوں پر تعینات سرکاری افسران کی گرفتاری کا حکم دیا ہے۔
برازیل کے مقامی میڈیا کے مطابق عدالتی حکم سامنے آنے کے بعد ملٹری پولیس کے ایک سابق کمانڈر کی گرفتاری بھی عمل میں لائی گئی ہے۔
اٹارنی جنرل کے دفتر کے مطابق ان اہلکاروں میں برازیل کی پبلک سکیورٹی کے سابق سربراہ اینڈرسن ٹوریس سمیت افسران بھی شامل ہیں جن کی ’کوتاہیوں‘ کے باعث ملک میں فسادات برپا ہوئے۔
دوسری جانب اینڈرسن ٹوریس نے فسادات میں کسی بھی طور ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔
سابق صدر جائیر بولسونارو کے حامیوں کے کانگریس، صدارتی محل اور سپریم کورٹ پر دھاوا بولنے کے بعد پولیس کمانڈر کرنل فابیو آگسٹو کو بھی ان کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ برازیل میں بڑے پیمانے پر یہ فسادات اس وقت ہوئے جب صدر لولا ڈی سلوا کی حلف برداری کو محض ایک ہفتہ ہی گزرا تھا۔
اتوار کے روز برازیل میں پارلیمنٹ، سپریم کورٹ سمیت اہم عمارتوں پر دھاوا بولنے والے ہزاروں مظاہرین کو جھڑپوں کے دوران انھیں لوٹ مار کرتے اور جھنڈے لہرا تے بھی دیکھا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان فسادات کے بعد تقریباً 1500 افراد کو ہنگامہ آرائی کے الزام میں گرفتار کر کے پولیس اکیڈمی لایا گیا۔ حکام کے مطابق لگ بھگ 600 مزید احتجاجیوں کو دیگر مراکز میں لے جایا گیا ہے، جہاں پولیس پانچ روز کے اندر ان پر فرد جرم عائد کر کے مقدمہ کی کارروائی کرے گی۔
برازیل کے سابق صدر جائیر بولسونارو کے ہزاروں حامیوں نے اتوار کو ملک کے دارالحکومت میں کانگریس، سپریم کورٹ اور صدارتی محل پر دھاوا بول دیا تھا۔
برازیل کے موجودہ صدر لولا ڈی سلوا نے اس واقعے کو ’غیر معمولی‘ قرار گردانتے ہوئے اسے ’جنونی فسطائیوں‘ کی کارروائی قرار دے کر اعلان کیا تھا کہ اس واقعے میں ملوث افراد کو سزا دی جائے گی۔
اتوار کو صدر لولا ڈی سلوا نے ایمرجنسی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے نیشنل گارڈ کو ملکی دارالحکومت میں امن و امان بحال کرنے کے لیے ذمہ داری سونپی اور کئی گھنٹوں کے ہنگاموں اور جھڑپوں کے بعد صورتحال معمول پر آ سکی تھی۔
صدر لولا نے ملک کی سکیورٹی فورسز کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا تھا کہ کانگریس پر حملے کی وجہ سکیورٹی فورسز کی ’نااہلی یا بدنیتی‘ بھی تھی۔
انھوں نے کہا کہ ’تصاویر میں دیکھا گیا کہ پولیس افسران مظاہرین کو راستہ دکھا رہے ہیں۔‘ برازیل کی ایک خبر رساں ایجنسی کی جانب سے جاری کردہ تصاویر میں چند پولیس افسران کو مظاہرین کے ساتھ قہقے لگاتے اور تصاویر کھنچواتے دیکھا گیا تھا۔
تاہم سابق صدر جائیر بولسونارو، جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ملک سے باہر اور امریکی ریاست فلوریڈا میں موجود ہیں، نے اس حملے کی مذمت کی ہے اور مظاہرین کو اکسانے کے الزامات کی تردید کی ہے۔
واضح رہے کہ جائیر بولسونارو نے حالیہ انتخابات کا نتیجہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا اور ملک سے باہر چلے گئے تھے۔
برازیل کے جھنڈے کے زرد اور سبز رنگ کی ٹی شرٹس پہنے حملہ آوروں نے ملک کی ان عمارتوں کو نقصان بھی پہنچایا جن کو اہم جمہوری علامات مانا جاتا ہے۔ لیکن ایسا کیوں ہوا؟
برازیل کی تاریخ کا متنازع الیکشن
دو ماہ قبل اکتوبر 2022 میں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے جائیر بولسونارو اور ان کے حریف بائیں بازو کے لولا ڈی سلوا کے درمیان صدارتی انتخابات میں سخت مقابلہ ہوا تھا۔
واضح رہے کہ لولا ڈی سلوا 20 سال پہلے تبدیلی کے وعدے کے ساتھ برازیل میں برسراقتدار آئے تھے اور 2003 سے 2010 تک صدر رہے۔ بعد میں کرپشن کے الزامات میں انھیں سزا ہوئی اور 2018 کے انتخابات کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا۔ انھیں جیل جانا پڑا، تاہم بعد میں تمام الزامات منسوخ کر دیے گئے۔
جائیر بولسونارو 2019 میں صدر منتخب ہوئے تھے۔
اس بار الیکشن سے قبل کی انتخابی مہم بھی کافی جارحانہ تھی جس کے بعد کانٹے دار مقابلے میں لوُلا 50.9 فیصد ووٹوں سے کامیاب ہوئے تھے۔
انتہا پسندی اور غلط معلومات
جائیر بولسونارو کا بیانیہ جس نے اس تقسیم کی بنیاد رکھی اور برازیل کے الیکشن نظام پر ان کے سوالات نے بھی اس عوامی ردعمل میں کردار ادا کیا۔ الیکشن سے پہلے انھوں نے بارہا دعویٰ کیا کہ برازیل کا الیکٹرانک ووٹنگ نظام فراڈ کا شکار ہو سکتا ہے۔
تاہم الیکشن حکام نے اس دعوے کو مسترد کیا۔ اس کے باوجود بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ الیکشن چوری کیا گیا۔ اس کے علاوہ انھوں نے اپنی تقاریر اور ٹویٹس میں بھی ایسے بیانیے کو فروغ دیا جس نے عوام کو بڑے پیمانے پر تقسیم کیا۔
برازیل میں پیش آنے والے حالیہ واقعات کے بعد جائیر بولسونارو نے صدر لولا ڈی سلوا کے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ انھوں نے اپنی تقاریر میں لوگوں کو دارالحکومت میں ہنگامہ آرائی کرنے پر اکسایا۔ ان کا کہنا تھا کہ سرکاری عمارات پر حملہ غیر قانونی ہے۔
گہری تقسیم کا شکار ملک
برازیل ایک ایسا ملک ہے جہاں عوام گہری تقسیم کا شکار ہے اور کانگریس پر ہونے والا حملہ اس بات کا ڈرامائی ثبوت ہے کہ چند لوگ ان جمہوری اداروں پر حملہ کرنے کے لیے کس حد تک جا سکتے ہیں جن کے بارے میں ان کا ماننا ہے کہ وہ اب ان کی ترجمانی نہیں کرتے۔
یہ صرف دائیں بازو اور بائیں بازو کی لڑائی نہیں بلکہ ان لوگوں سے جڑا معاملہ ہے جو ایک جمہوری الیکشن کے نتائج کو اس لیے تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں کیوں کہ نتیجہ ان کی منشا کے مطابق نہیں تھا اور اس کا بدلہ انھوں نے برازیل کی جمہوریت کی علامات پر دھاوا بول کر لیا۔
ہنگاموں میں حصہ لینے والے افراد شاید اس تقسیم کی شدید انتہا پر پہنچ چکے ہیں لیکن ایسے لوگوں کی بھی اکثریت ہے جو صدر لولا کی مخالفت میں جھوٹی معلومات پھیلانے اور نفرت کی اس آگ کو بھڑکانے کے مرتکب ہوئے ہیں جن کی وجہ سے معاملات اس نہج پر پہنچ گئے۔
جائیر بولسونارو کے حامی ان کی شکست قبول کرنے کو تیار نہیں
جائیر بولسونارو کے حامی ان کو ایک ایسا ’نجات دہندہ‘ مانتے ہیں جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ ’وہ ان اقدار کی حفاظت کریں گے جو ان کو عزیز ہیں۔‘ ان اقدار میں خدا، ملک اور خاندان شامل ہیں۔
بولسونارو کے حامیوں کو امید تھی کہ وہ لولا ڈی سلوا کو شکست دیں گے جن سے متعلق ان کا ماننا ہے کہ وہ ان اقدار کے لیے خطرہ ہیں۔ اس کی وجہ وہ افواہیں ہیں کہ لولا ڈی سلوا اقتدار سنبھالنے کے بعد چرچ بند کر دیں گے۔
ان ووٹرز کو یقین ہو چکا تھا کہ لولا کو شکست ہو گی اور انھوں نے ان کی جیت کو خاموشی سے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
ان میں سے کچھ نے فوجی بیرکوں کے باہر خیمے لگا لیے اور فوج سے التجا کی کہ لولا ڈی سلوا کو صدر بننے سے روکا جائے چاہے اس کے لیے فوج کو بغاوت ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔
تاہم فوج ان کی توقعات پر پوری نہیں اتری اور لولا ڈی سلوا نے حلف اٹھا لیا۔
صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد لولا ڈی سلوا صدارتی محل منتقل ہوئے تو ان کے مخالفین آگ بگولہ ہو گئے۔
جائیر بولسونارو نے بھی شکست تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور بطور سابق صدر تقریب حلف برداری میں روایتی کمر بند نئے صدر کے حوالے کرنے کے بجائے ملک چھوڑ کر امریکہ جانے کو ترجیح دی۔
ان واقعات سے مایوس جائیر بولسونارو کے حامیوں نے جب دیکھا کہ فوج بھی ان کی توقعات پر پوری نہیں اتر رہی تو ان کا غصہ اور بڑھ گیا کیوں کہ وہ لولا ڈی سلوا کو ملک کے لیے ’کمیونسٹ خطرہ‘ سمجھتے ہیں۔
انھوں نے فیصلہ کیا کہ اب وہ خود کچھ کریں گے اور اسی لیے انھوں نے ان عمارات پر حملہ کیا جن کے بارے میں وہ سمجھتے تھے کہ اب وہ ان کی ترجمانی نہیں کر رہیں بلکہ ان کی اقدار کے لیے خطرہ بن چکی ہیں۔