’حادثے میں ہماری کوئی کوتاہی نہیں تھی‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
ترکی کی تاریخ میں کان کنی کے بدترین حادثے میں 280 سے زیادہ افراد کی ہلاکت کے بعد کان کے آپریٹر کا کہنا ہے کہ حادثے میں ان کی کوئی کوتاہی نہیں تھی۔
سوما ہولڈنگ نامی کمپنی کے ترجمان نے ایک اخباری کانفرنس میں حادثے کے بعد کمپنی کے ردعمل کا دفاع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت کمپنی کی واحد ترجیح لوگوں کی جانیں بچانا تھا۔
انھوں نے کہا کہ حادثہ کان میں حرارت کے اضافے کی وجہ سے ہوا، جس کی ابھی تک کوئی وجہ سامنے نہیں آئی ہے۔
یاد رہے کہ حادثے کے پیشِ نظر مزدور یونینوں نے جمعرات کو ہڑتال کی تھی۔
یہ حادثہ منگل کو ملک کے مغربی علاقے سوما میں واقع کوئلے کی کان میں پیش آیا تھا جہاں دھماکے کے بعد آگ بھڑک اٹھی تھی۔
اس حادثے میں اب تک282 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔
مزدور یونینوں کے ارکان کا کہنا ہے کہ کان کنی کے شعبے کی حالیہ نجکاری نے حالاتِ کار کو مزید خطرناک بنا دیا ہے۔
ترکی میں اس حادثے پر تین روزہ سوگ منایا جا رہا ہے اور ملک کے صدر عبداللہ گل نے بھی سوما میں واقع جائے حادثہ کا دورہ کیا ہے جہاں انھیں مشتعل مظاہرین کی نعرے بازی کا سامنا کرنا پڑا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بدھ کو وزیراعظم رجب طیب اردگان کو بھی اسی قسم کے ردعمل کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اس واقعے پر ملک کے مختلف شہروں میں حکومت مخالف مظاہرے ہوئے ہیں۔
بی بی سی کی ترک سروس کے مطابق ہڑتال کے موقعے پر تین ہزار کے قریب مظاہرین دارالحکومت انقرہ میں جمع ہوئے ہیں، جبکہ ملک کے 13 دیگر شہروں میں بھی اسی قسم کے مظاہرے ہو رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAP
اس ہڑتال میں کئی یونینیں حصہ لے رہی ہیں اور مظاہرین سے کہا گیا ہے کہ وہ سیاہ لباس پہنیں اور وزارتِ محنت کے دفتر کی جانب مارچ کریں۔
پبلک ورکرز یونینز کنفیڈریشن کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’وہ جو نجکاری کی پالیسیوں پر عمل کر رہے ہیں، جو اخراجات میں کمی کے لیے کارکنوں کی جان کو خطرے میں ڈالتے ہیں، وہ سوما کے قتلِ عام کے ذمہ دار ہیں اور ان سے اس کا حساب لیا جانا چاہیے۔‘
سوما میں متاثرہ کان میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور اب تک 450 کے قریب کان کنوں کو باہر نکالا گیا ہے، تاہم اب مزید کسی کان کن کے زندہ نکلنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
بدھ کی شب کان سے مزید آٹھ لاشیں نکالی گئیں جس کے بعد ہلاک شدگان کی کل تعداد 282 تک پہنچ گئی ہے۔
اس واقعے کے خلاف بدھ کو بھی ترک دارالحکومت انقرہ اور استنبول میں احتجاج ہوا تھا جس دوران مظاہرین کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں۔
مظاہرین ملک میں کان کنی کے بدترین حادثے پر حکومت سے مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور پانی کی تیز بوچھاڑ کا استعمال کیا۔
مقامی میڈیا کے مطابق سوما میں بھی مظاہرین کی پولیس کے ساتھ جھڑپ ہوئی ہے اور چند مظاہرین کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بھی وزیراعظم کے اس بیان پر غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے جس میں انھوں نے سوما کے دورے کے موقعے پر ملک میں کان کنی کے حادثات کا دفاع کرتے ہوئے برطانیہ میں 19ویں صدی میں کان کے حادثے سمیت متعدد حادثات کا ذکر کیا۔
اس سے پہلے ترکی کے وزیراعظم رجب طیب اردگان نے سوما کے دورے کے موقعے پر لوگوں کے ساتھ اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ امدادی کاموں کے لیے تمام دستیاب وسائل کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
ترکی کے وزیرِ توانائی تانر یلدیز نے کان میں بجلی کی ترسیل کے نظام میں خرابی کو حادثے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا تھا کہ حادثے کے وقت کان میں 780 سے زیادہ کان کن موجود تھے۔
انھوں نے کہا تھا کہ دھماکے کے نتیجے میں کان میں نصب لفٹیں اور تازہ ہوا پہنچانے کا نظام بند ہو گیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بیشتر صنعتی ممالک کے مقابلے میں ترکی میں کوئلے کی کانوں کا حفاظتی ریکارڈ زیادہ اچھا نہیں۔
ترکی میں کان کنی کا بدترین حادثہ 1992 میں پیش آیا تھا جب بحیرۂ اسود کے قریب واقع ایک کان میں حادثے سے 263 کان کن ہلاک ہوگئے تھے۔



















