تھائی لینڈ کے چائلڈ ڈے کیئر پر حملے میں 23 بچوں سمیت 37 افراد ہلاک: عینی شاہدین نے کیا دیکھا؟

وقت اشاعت

’بچوں کو سونے کے لیے بھیجنے کے بعد میں بچوں کا دوپہر کا کھانا تیار کرنے ہی لگی تھی کہ مجھے پانچ گولیاں چلنے کی آواز سنائی دیں۔‘

یہ کہنا ہے ننتیچا پنچم کا جو تھائی لینڈ میں حملے کا نشانہ بننے والے ڈے کیئر سینٹر کی ہیڈ ٹیچر ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈے کیئر سینٹر میں عموماً 92 بچے ہوتے ہیں لیکن گذشتہ روز بارش اور ایک بس خراب ہو جانے کے باعث ڈے کیئر میں حملے کے وقت صرف 24 بچے موجود تھے۔ اُن کے مطابق اس حملے میں صرف ایک بچہ زندہ بچا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ وہ چیز ہے جس کا میں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا۔۔۔ مجھے نہیں معلوم کہ آگے کیا کرنا ہے۔ مجھے واقعی اس وقت کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔‘

واضح رہے کہ جمعرات کو تھائی لینڈ کے ایک چائلڈ ڈے کیئر سینٹر پر ایک سابق پولیس اہلکار کے حملے میں 23 بچوں سمیت کم از کم 37 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

عینی شاہدین نے کیا بتایا

تھائی لینڈ کے ایک ڈے کیئر سینٹر میں ہونے والے ہولناک حملے کے عینی شاہدین نے اس خوفناک حملے کی تفصیلات بتائی ہیں کہ انھوں نے اس وقت وہاں کیا دیکھا تھا جب ایک سابق پولیس افسر نے وہاں پہنچ کر عملے اور بچوں پر حملہ کرنا شروع کر دیا۔

دیگر اساتذہ میں سے ایک کا کہنا ہے کہ حملہ آور ڈے کیئر سینٹر میں آنے والے ایک بچے کا والد تھا، حالانکہ وہ بچہ ایک ماہ سے ڈے کیئر سنٹر نہیں آیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس شخص کو کبھی (ذہنی) بیمار نہیں دیکھا تھا، ان کا مزید کہنا تھا کہ کبھی جب وہ اپنے بچے کو چھوڑنے آتا تو بہت خاموش ہوتا اور کبھی بہت باتیں کرتا تھا۔

وہ کہتی ہیں کہ ان کے دیگر ساتھی اساتذہ نے انھیں بتایا تھا کہ جمعرات کو اس کی آنکھیں بھینگی تھیں اور وہ خاموش تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ڈے کیئر سینٹر میں جہاں بچے سو رہے تھے ٹیچرز نے وہاں کا دروازہ بند کرنے کی کوشش کی لیکن وہ دروازہ توڑ کر اندر آ گیا۔‘

پنچم نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ عملے کے کچھ ارکان اس وقت پارکنگ میں کھانا کھا رہے تھے جب حملہ آور نے وہاں کار پارک کی اور ان میں سے چار کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پھر اس نے لات مار کر دروازہ توڑا اور اندر آ کر بچوں پر حملہ کرنا شروع کر دیا تھا۔‘

چائلڈ ڈے کیئر سینٹر میں اس واقعے سے صدمے کا شکار ایک اور ٹیچر نے بتایا کہ کس طرح انھوں نے دروازہ بند کیا اور حملہ آور کے کمرے تک پہنچنے سے پہلے مدد کے لیے پکارنے کی کوشش کی مگر بندوق اور چاقو سے مسلح حملہ آور اندر داخل ہوا اور سوئے ہوئے بچوں پر حملہ کر دیا۔

انھوں نے کانپتے ہوئے تھائی لینڈ کے تھایراتھ ٹی وی کو بتایا کہ کس طرح انھوں نے پہلے 'پٹاخوں جیسی' آواز سنی اور حملہ آور کو اپنی طرف آتے ہوئے دیکھنے سے قبل دو ساتھیوں کو فرش پر گرے ہوئے پایا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے دیوار پر چڑھ کر مدد کے لیے پکارنے سے قبل دیگر ساتھیوں کو کہا تھا کہ کمرے میں چلے جائیں اور کمرہ اندر سے بند کر لیں۔ اس ٹیچر نے روتے ہوئے کہا کہ وہ وقت پر کچھ نہیں کر سکی۔

نونگ بوا لامفو صوبے کے ڈے کیئر سینٹر میں ہونے والے حملے میں ہلاک ہونے والے بچوں میں دو سال سے کم عمر کے بچے بھی شامل ہیں۔

اس ڈے کیئر سینٹر کے قریب ہی ایک دفتر میں کام کرنے والی ضلعی اہلکار جیڈاپا بونسم کے مطابق، جب وہ حملہ آور ڈے کیئر سینٹر پہنچا تو اس وقت وہاں معمول سے کم بچے تھے کیونکہ شدید بارش کے باعث بہت سے لوگ اپنے بچے لے کر نہیں آئے تھے۔

جیڈاپا نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ’حملہ آور دوپہر کے کھانے کے وقت آیا اور پہلے بچوں کی دیکھ بھال کے مرکز میں چار یا پانچ اہلکاروں کو گولی مار دی۔‘

اہلکار کا کہنا ہے کہ پھر حملہ آور نے اس بند کمرے کا رخ کیا جہاں بچے سو رہے تھے اور ان پر حملہ کر دیا۔

وہ کہتی ہیں کہ پہلے لوگوں نے سمجھا کہ یہ پٹاخوں کی آواز ہے۔ ’یہ بہت خوفناک تھا، جب ہمیں پتا چلا کہ یہ فائرنگ ہو رہی ہیں تو ہم سب ڈر گئے اور چھپنے کے لیے بھاگ رہے تھے۔ بہت سے بچے مارے گئے ہیں۔ میں نے ایسا پہلے کبھی نہیں دیکھا۔‘

ایک ٹیچر جو وہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہو گئی تھی نے اس چاقو کے متعلق بیان کہ ’جیسے وہ گھاس کاٹنے والی ہوتی ہے لیکن وہ خم دار تھا۔‘

31سالہ پاوینا پوریچن نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ اپنی موٹر سائیکل پر دکان پر جا رہی تھی جب اس کا سامنا ٹرک میں فرار ہوتے ہوئے قاتل سے ہوا جو دوسرے ڈرائیوروں کو کچلنے کی کوشش کر رہا تھا۔

وہ کہتی ہیں کہ 'اس کی نیت تھی کہ وہ سڑک پر دوسروں سے جا ٹکرائے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ 'حملہ آور نے ایک موٹر سائیکل کو ٹکر ماری جس سے دو افراد زخمی ہو گئے تھے۔ میں نے موٹر سائیکل کی رفتار بڑھاتے ہوئے وہاں سے نکل گئی تھی۔ وہ کہتی ہیں کہ 'ہر طرف خون ہی خون تھا۔'

تھائی لینڈ کے تھائی پی بی ایس براڈکاسٹ ادارے کے مطابق، ان کا کہنا تھا کہ حملہ آور ڈے کیئر سنٹر آنے سے پہلے مشتعل تھا اور وہاں اپنے بچے کے نہ ملنے پر اس نے گولی چلائی تھی۔

پولیس کا کیا کہنا ہے؟

تھائی لینڈ میں پولیس کا کہنا ہے کہ ایک چائلڈ ڈے کیئر سینٹر پر ایک سابق پولیس اہلکار کے حملے میں 23 بچوں سمیت کم از کم 38 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ پولیس نے ایک پریس کانفرنس میں ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

اس حملے میں 12 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ انھیں نونگ بوا لامفو کے ضلعی ہسپتال میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

مقامی میڈیا نے واقعے کے فوری بعد خون کے عطیات کے لیے عوام سے اپیل کی تھی بعد ازاں ہسپتال کی جانب سے بتایا گیا کہ اب مزید خون کی ضرورت نہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس حملے کے بعد جب ملک کے شمال مشرقی صوبے نونگ بوا لامفو میں ملزم کی تلاش کے لیے آپریشن کیا گیا تو حملہ آور نے اپنے اہلخانہ کو ہلاک کرنے کے بعد خودکشی کر لی۔

پولیس نے حملہ آور کی شناخت پنیا کمرب کے نام سے کی ہے، جسے واقعے کے بعد ایک سفید ٹویوٹا پِک اپ ٹرک میں فرار ہوتے دیکھا گیا جس پر بینکاک کی رجسٹریشن پلیٹ نصب تھی۔ اور یہ حملہ آور ایک سابق پولیس لیفٹیننٹ کرنل ہے جسے منشیات کے استعمال کی وجہ سے فورس سے برطرف کر دیا گیا تھا۔

پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حملہ آور نے بچوں اور بالغ افراد پر گولیاں چلائیں اور ان پر چاقو سے وار کیے۔ حملہ آور کا مقصد غیر واضح ہے تاہم اسے گذشتہ برس نوکری سے برخاست کیا گیا تھا۔

پولیس کے ترجمان نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ حملہ آور پر نشہ کرنے کے الزامات تھے اور اسی حوالے سے وہ عدالت میں پیشی پر بھی گیا تھا۔

حملہ آور کے حوالے سے موصول ہونے والی مزید تفصیلات کے حوالے سے ملک کے سرکاری نشریاتی ادارے کا کہنا ہے کہ کہ اس کے پاس حملے کے لیے موجود آلات میں شوٹنگ گن، پستول اور چاقو موجود تھے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صوبے کے ایک سینیئر پولیس افسر نے بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں 23 بچے شامل ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ سب سے کم عمر بچے کی عمر دو سال ہے۔

پولیس نے بتایا ہے کہ حملہ آور نرسری میں اپنے بچے کو دیکھنے آیا لیکن بچے کو وہاں نہ پا کر وہ مشتعل ہو گیا۔ پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ حملہ آور نے گھر واپس آنے سے پہلے اپنی گاڑی کو وہاں باہر کھڑے افراد پر چڑھا دیا۔ گھر آ کر اس نے اپنی بیوی اور بچے کو بھی مار دیا۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ گن مین علاقے میں نشے کے عادی فرد کے طور پر جانا پہچانا شخص تھا۔

تھائی لینڈ کے وزیراعظم پریوتھ چان-اوچا نے اس واقعے کو ایک دل دہلا دینے والا واقعہ قرار دیا ہے۔ انھوں نے فوری طور پر واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

وزیراعظم کا پیغام فیس بک پر پوسٹ کیا گیا ہے جس میں انھوں نے پولیس کمانڈر کو حکم دیا ہے کہ وہ تیزی سے تحقیقات کریں کہ یہ اندھوناک واقعہ کیسے ہوا۔

تھائی لینڈ میں بڑے پیمانے کے پُرتشدد واقعات کم ہی دیکھے گئے ہیں۔ سنہ 2020 کے دوران ایک فوجی اہلکار نے ناکھون راتچاسیما نامی شہر میں 21 افراد کو قتل اور درجنوں کو زخمی کیا تھا۔