آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
جاپان کے سابق وزیراعظم شنزو آبے کی سیکیورٹی میں خامیاں تھیں: پولیس
جاپانی پولیس نے اعتراف کیا ہے کہ سابق جاپانی وزیر اعظم شنزو آبے، جنھیں جمعہ کو جنوبی شہر نارا میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا، کی سیکیورٹی میں خامیاں تھیں۔
نارا پولیس کے سربراہ تومواکی اونیزوکا نے کہا کہ ’یہ ناقابل تردید ہے کہ سیکیورٹی میں مسائل تھے۔‘
ایک بندوق بردار نے سیاسی مہم کی ایک تقریب کے دوران شنزو آبے پر گولی چلا دی تھی۔ اس قتل نے جاپان کو شدید صدمے میں دھکیل دیا ہے۔
لیکن اتوار کو ایوان بالا کے انتخابات پلان کے مطابق ہو رہے ہیں۔
شنزو آبے کے قتل کے دو دن بعد ووٹنگ مقامی وقت کے مطابق سات بجے شروع ہوئی۔ خیال رہے کہ سنیچر کو معمول سے زیادہ سخت سیکیورٹی کے ساتھ انتخابی مہم جاری رہی۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس قتل سے حکومت کرنے والی لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (ایل ڈی پی) کی حمایت میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے لیے شنزو آبے ایک سرکردہ اور انتہائی بااثر شخصیت تھے۔
جاپان کی پارلیمنٹ کے کم طاقت کے حامل ایوان بالا کے انتخابات کو عام طور پر موجودہ حکومت کے لیے ایک ریفرنڈم کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
جاپان کے سابق وزیراعظم شنزو آبے کے قتل کی تحقیقات کرنے والی پولیس نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ 41 برس کے مشتبہ شخص کی ایک ’مخصوص تنظیم‘ سے رنجش تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جاپانی میڈیا نے ذرائع سے یہ خبر چلائی کہ ٹیٹسوا یاماگامی کا خیال تھا کہ شنزو آبے کا تعلق ایک مذہبی گروہ سے ہے جس نے ان (ٹیٹسوا) کی ماں کا مالی طور پر دیوالیہ کر دیا تھا۔
پولیس کے مطابق ملزم نے لکڑی اور دھات سے بنی گھریلو بندوق استعمال کرنے کا اعتراف کیا ہے۔
پولیس چیف تومواکی اونیزوکا نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کسی بھی ناکامی یا خامی پر بات کیے بغیر کہا کہ ’فوری معاملہ یہ ہے کہ ہم اس بات کی مکمل تحقیقات کریں کہ کیا ہوا ہے۔‘
ٹیٹسوا یاماگامی نے پولیس کو بتایا کہ اس نے تین سال تک جاپان کی بحریہ، میری ٹائم سیلف ڈیفنس فورس میں خدمات انجام دیں۔ ابھی حال ہی میں وہ مغربی جاپان میں ایک فیکٹری میں ملازمت کر رہے تھے۔
شنزو آبے جاپان کے سب سے طویل عرصے تک رہنے والے وزیر اعظم تھے اور انھیں 67 سال کی عمر میں قتل کر دیا گیا۔ وہ اتوار کو ایوان بالا کے پارلیمانی انتخابات میں اپنی جماعت ایل ڈی پی کے لیے مہم چلا رہے تھے۔
جاپان کے وزیر اعظم فومیو کشیڈا، جو ایل ڈی پی کے رکن بھی ہیں، نے کہا کہ ’وہ گنگ ہو کر رہ گئے ہیں۔‘ انھوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ جاپان کی جمہوریت ’کبھی تشدد کے آگے نہیں جھکے گی۔‘
انھوں نے کہا کہ انتخابی مہم سنیچر کو سخت سیکیورٹی کے ساتھ جاری رہے گی جبکہ اتوار کو ہونے والی ووٹنگ ابھی باقی ہے۔ جاپان میں ’گن وائلنس‘ کا تصور انتہائی نایاب ہے، جہاں ’ہینڈگن‘ پر پابندی عائد ہے اور سیاسی تشدد کے واقعات تقریباً سننے میں نہیں آتے۔
پولیس اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ شنزو آبے کو کیوں نشانہ بنایا گیا اور کیا ان کے قاتل نے اکیلے ہی یہ سب کیا؟
شننزو آبے ایک روڈ جنکشن پر ایک سیاسی امیدوار کی جانب سے تقریر کر رہے تھے جب انھیں پیچھے سے گولی مار دی گئی۔ تصاویر میں مشتبہ شخص کو چند لمحے پہلے شنزو آبے کے قریب کھڑا دیکھا جا سکتا ہے۔
عینی شاہدین نے ایک شخص کو ایک بڑی بندوق اٹھائے ہوئے شنزو آبے کے چند میٹر کے فاصلے پر چلتے ہوئے اور دو بار فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا۔
سابق وزیر اعظم اس وقت زمین پر گر پڑے جبکہ عینی شاہدین نے صدمے اور ناقابل یقین کیفیت دیکھ کر چلائے۔
یہ بھی پڑھیے
ڈبل بیرل آتشیں اسلحہ
سیکیورٹی اہلکاروں نے مشتبہ شخص کو دبوچ لیا تھا، جس نے فرار ہونے کی کوئی کوشش بھی نہیں کی۔
پولیس کے مطابق ملزم نے لکڑی اور دھات سے بنی گھریلو بندوق استعمال کرنے کا اعتراف کیا۔ یہ ڈبل بیرل آتشیں اسلحہ بندوق ’ہیوی ڈیوٹی بلیک ٹیپ‘ میں لپٹی ہوئی تھی۔
ملزم کے گھر کی تلاشی کے دوران پولیس نے کئی ممکنہ طور پر دھماکہ خیز مواد برآمد کیا ہے۔
شنزو آبے کی گردن میں گہرا زخم آیا تھا جس کی وجہ سے زیادہ خون بہا۔ ان کے بارے میں کہا جاتا کہ جب انھیں ہسپتال لے جایا جا رہا تھا تو اس وقت وہ کچھ منٹ تک ہوش و حواس میں تھے۔ تاہم جب وہ ہسپتال پہنچے تو ان کی حالت تشویشناک ہو گئی۔
ڈاکٹرز نے ان کی جان بچانے کے لیے کئی گھنٹے کوشش کی مگر جمہ کے دن جاپان کے مقامی وقت کے مطابق پانچ بج کر تین منٹ پر ان کی موت کی تصدیق کی گئی۔
جمعہ کے دن جاپان میں سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ ’ہم جمہوریت چاہتے ہیں، تشدد نہیں‘ ٹرینڈ کر رہا تھا۔ بہت سے صارفین نے اس واقعے پر اپنی خوف اور نفرت کا اظہار کیا۔
سنہ 2014 میں جاپان میں بندوق سے ہلاکتوں کے صرف چھ واقعات ہوئے جبکہ امریکہ میں یہ تعداد 33,599 تھی۔ بندوق خریدنے کے لیے لوگوں کو سخت امتحان اور دماغی صحت کے ٹیسٹ سے گزرنا پڑتا ہے۔ تب بھی صرف شاٹ گن اور ایئر رائفل کی اجازت ملتی ہے۔
شنزو آبے نے پہلے سنہ 2006 میں ایک سال کے لیے وزیراعظم بنے اور پھر 2012 سے 2020 تک جاپان کے وزیراعظم رہے۔ انھوں نے صحت کو وجہ بتا کر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
جب وہ وزیراعظم تھے تو انھوں نے دفاع اور خارجہ پالیسی پر زیادہ جارحانہ پالیسی کو اختیار اور طویل عرصے سے جنگ کے بعد جاپان کے امن پسند آئین میں ترمیم کرنے کی کوشش کی۔
انھوں نے ایک اقتصادی پالیسی پر بھی زور دیا جو ’ابینومکس‘ کے نام سے مشہور ہوئی، جو مالیاتی نرمی، مالیاتی محرک اور ساختی اصلاحات پر مبنی ہے۔