آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
فرانس: 86 افراد کی ہلاکت والے دہشت گردی کے حملے کے سہولت کاروں پر مقدمے کا آغاز
پیرس کی ایک خصوصی عدالت میں 14 جولائی سنہ 2016 میں جنوبی فرانس کے شہر نیس میں ایک ٹرک سے کیے گئے خونی حملے میں ملوث ہونے کے الزام میں آٹھ مشتبہ افراد پر مقدمے کا آغاز ہو گیا ہے، اس حملے میں 86 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
ملزمان پر حملہ آور کو ہتھیار حاصل کرنے میں مدد کرنے اور لاجسٹک سپورٹ کا الزام ہے۔ ملزمان کو پانچ سال سے عمر قید تک کی سزا کا سامنا ہے۔
حملے سے متاثر ہونے والے بہت سے لوگوں کے لیے کارروائی براہ راست نشر کی جائے گی۔
حملہ آور ایک 31 سالہ تیونسی باشندہ تھا جس کا نام محمد لاہوئیج بوہلیل تھا جس کو پولیس نے پرومینیڈ ڈیس اینگلیس کے ساحلی پشتے پر گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ حملہ آور نے چار منٹ سے زیادہ عرصے تک اپنی ہلاکت خیز ڈرائیونگ کے دوران 86 افراد کو اپنے ٹرک سے کچل کر ہلاک کر دیا تھا۔
پیرس میں مقدمے کی سماعت کرنے والے سات مردوں اور ایک عورت پر الزام ہے کہ وہ حملہ آوروں کو لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے اور ہتھیاروں کی فراہمی کے عزائم سے آگاہ تھے۔
صرف ایک مشتبہ شخص، رمزی کیون اریفا، کو زیادہ سے زیادہ عمر قید کی سزا کا سامنا ہے، اگر وہ بار بار چلنے والے مجرم کے طور پر مجرم ثابت ہو جاتا ہے۔ دیگر ملزمان کو پانچ سے 20 سال قید کی سزا کا امکان ہے۔
یہ ٹرائل سنہ 2015 سے ملک کو ہلا کر رکھ دینے والے دہشت گردی کے حملوں پر تازہ ترین قانونی کارروائی کے عمل کا حصہ ہے۔
اس سے قبل پیرس پر حملہ
اس سے پہلے 13 نومبر 2015 کے پیرس حملوں کو انجام دینے والے گروپ کا واحد زندہ بچ جانے والا حملہ آور دہشت گردی اور قتل کے الزامات کا مجرم پایا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صلاح عبدالسلام کو بندوق اور بم حملوں میں ان کے کردار کے لیے مکمل عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
عدالت نے اس میں ملوث دیگر 19 افراد کو بھی مجرم قرار دیا، جن میں سے چھ کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ مر چکے ہیں۔
جدید فرانسیسی تاریخ کے سب سے بڑے مقدمے کی سماعت گزشتہ ستمبر میں شروع ہوئی تھی۔
نو ماہ سے زیادہ عرصے سے، متاثرین، صحافی اور مرنے والوں کے اہل خانہ پیرس میں خصوصی طور پر بنائے گئے کمرہ عدالت کے باہر قطار میں کھڑے ہوتے تھے تا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد فرانس میں ہونے والے بدترین حملے کی کہانی کو عدالت میں ایک ساتھ پیش کیا جا سکے۔
13 نومبر 2015 کو بارز، ریستوراں، نیشنل فٹ بال اسٹیڈیم اور بٹاکلان میوزک وینیو پر ہونے والے حملوں میں ہلاک ہونے والوں کے ساتھ سینکڑوں افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔
چارلی ہیبڈو کا حملہ
اس سے قبل فرانس کے ایک جریدے چارلی ہیبڈو نے پیغمبرِ اسلام کے بارے میں کارٹون شائع کیے تھے جس کی وجہ سے دنیا بھر کے مسلمانوں میں اشتعال پھیلا تھا۔ تاہم فرانس کی حکومت نے ان کارٹونوں کا آزادئِ اظہارِ کے حق کی وجہ سے دفاع کیا تھا۔
7 جنوری سنہ 2015 کو دو اسلام پسند بندوق برداروں نے چارلی ہیبڈو کے پیرس ہیڈکوارٹر میں گھس کر فائرنگ کر دی، جس میں 12 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
ہلاک ہونے والوں میں سٹاف کارٹونسٹ چارب، کابو، آنورے، ٹگنوس اور وولنسکی، ایک ماہر اقتصادیات برنارڈ ماریس، ایڈیٹر ایلسا کیات اور مصطفیٰ اورراد اور اس وقت ایک مہمان مشیل ریناؤڈ کے علاوہ ایک غیر صحافی ملازم فریڈرک بوسو اور پولیس افسران برنسولارو اور میرابیٹ شامل تھے۔ 11افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔
حملے کے دوران، بندوق برداروں نے 'اللہ اکبر' اور 'پیغمبر کا بدلہ لے لیا' کے نعرے لگائے تھے۔ اس وقت کے فرانس کے صدر فرانسوا اولاندے نے اس حملے کو 'انتہائی بربریت کا دہشت گردانہ حملہ' قرار دیا تھا۔ دو بندوق برداروں کی شناخت سعید کواشی اور شیریف کواشی کے نام سے ہوئی تھی، جو الجزائری نژاد فرانسیسی مسلمان بھائی تھے۔
نیس پر حملہ
نومبر سنہ 2016 میں نیس میں والے حملہ آور کو بیسٹیل ڈے (فرانس کا قومی دن) منانے والے ہجوم کے لوگوں کو ٹرک کے نیچے کچل کر ہلاک کرنے کے بعد پولیس نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔
حملہ آور محمد لاہوئیج بوہلیل نے تقریباً 30 ہزار لوگوں کے ہجوم پر اپنا ٹرک چڑھا دیا تھا تا کہ وہ اس کے نیچے زیادہ سے زیادہ افراد کو کچل سکے۔ یہ ہجوم فرانس کے قومی دن کے موقع پر آتش بازی سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔
فرانس کے جنوبی شہر نیس میں باسٹیل ڈے منانے والے ہجوم پر ٹرک چڑھا دینے سے ہلاک ہونے والے 86 افراد میں 10 بچے بھی شامل تھے۔
ساحلی شہر کے سمندری کنارے کے پرومینیڈ دیس انگلیس بلیوارڈ پر حملہ آور دو کلو میٹر تک ہجوم پر ٹرک دوڑاتا رہا جس سے بہت زیادہ لوگ اس کے حملے کا نشانہ بنے تھے۔ ان میں 31 سال سے لے کر 15 سال کے بچے بھی شامل تھے۔
دولتِ اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم (اسلامک اسٹیٹ گروپ) نے بعد میں اس حملے کی ذمہ داری قبول کی، لیکن فرانسیسی تفتیش کاروں کو کبھی بھی اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ لاہوئیج بوہلیل کے ان کے ساتھ تعلقات تھے۔
نیس کا مہلک حملہ نومبر سنہ 2015 کے پیرس حملوں کے ایک سال سے بھی کم عرصے کے بعد ہوا تھا، جو کہ ملک میں حالت جنگ کے علاوہ اس وقت تک کا بدترین حملہ قرار دیا جاتا ہے۔
پیرس میں جمعہ 13 نومبر سنہ 2015 کی رات مسلح افراد اور خودکش بمباروں نے ایک کنسرٹ ہال، ایک بڑے سٹیڈیم، ریستوران اور بارز پر تقریباً بیک وقت حملے کیے گئے تھے اور ان حملوں میں 130 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔
دہشت گردی کی خصوصی عدالت
پیرس پر حملے کے ملزمان پر مقدمہ چلانے کے لیے بنائی گئی دہشت گردی کی ایک خصوصی عدالت کو بھی نیس میں ہونے والے حملے کا یہ تازہ مقدمہ سننے کا موقع دیا گیا ہے۔
لیکن یہ ٹرائل مختلف ہے کیونکہ اس میں کسی ایسے مدعا علیہ کی کمی ہے جس پر خود حملے میں حصہ لینے کا الزام لگایا گیا ہے۔ ان ملزمان پر صرف حملہ آور کی مدد کرنے کا الزام ہے۔ اصل حملہ آور کو نیس میں حملے کے بعد گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔
کم از کم 865 سول مدعی ہیں جو اس مقدمے کی کارروائی میں حصہ لیں گے، اور ان میں سے تقریباً 250 افراد گواہی دیں گے۔
مقدمے میں حصہ لینے والے متاثرین کی ایسوسی ایشن کے وکیل نے کہا کہ 'حقیقت یہ ہے کہ واحد مجرم جو کٹہرے میں وہاں موجود نہیں ہو گا، لوگوں میں مایوسی پیدا کرے گا۔ ایسے بہت سے سوالات ہوں گے جن کا جواب کوئی اور نہیں دے سکے گا۔'
اس مقدمے کا دسمبر میں فیصلہ سنائے جانے کی توقع ہے۔