شیریں ابو عاقلہ: ’اس بات کا قوی امکان ہے کہ شیریں ابو عاقلہ کو ہمارے فوجی نے ہلاک کیا ہو‘، اسرائیلی فوج

وقت اشاعت

اسرائیلی فوج اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ اس بات کا 'قوی امکان' ہے کہ فلسطینی نژاد امریکی صحافی شیریں ابو عاقلہ کو ان کے ہی ایک فوجی نے ہلاک کیا ہو۔

الجزیرہ کی تجربہ کار نامہ نگار کو مئی میں ایک چھاپے کی کوریج کے دوران مقبوضہ غربِ اردن میں سر میں گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔

اسرائیلی فوج کا یہ بیان اب تک شیریں ابو عاقلہ کے قتل کے حوالے سے دیے گئے بیانات کے مقابلے میں ذمہ داری قبول کرنے کے قریب ترین ہے۔

فوج کے اعلیٰ قانونی افسر نے اس قتل میں ملوث فوجیوں کے خلاف قانونی کارروائی کو مسترد کر دیا ہے اور واقعے کی تحقیقات کو یہیں ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ابو عاقلہ کے خاندان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ انھیں 'بالکل بھی حیرت نہیں ہوئی' کہ اسرائیلی ڈیفنس فورسز سچ چھپانے اور ان کے قتل کی ذمہ داری قبول کرنے سے کترا رہی ہے۔

ابو عاقلہ رواں برس 11 مئی کو جنین پناہ گزین کیمپ میں اسرائیلی فوج کے چھاپے کی کوریج کے لیے آئی تھیں جس کے دوران مبینہ طور پر اسرائیلی فوجیوں اور فلسطینی عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں۔

انھوں نے اس دوران ہیلمٹ پہن رکھا تھا اور ایک نیلی فلیک جیکٹ بھی جس پر واضح طور پر 'پریس' درج تھا۔ ابتدا میں اسرائیلی فوج کی جانب سے ابو عاقلہ کے قتل کے بارے میں جو مؤقف اختیار کیا گیا اس پر جواباً خاصے سوالات اٹھائے جا چکے ہیں۔

عینی شاہدین اور فلسطینی حکام نے دعویٰ کیا کہ انھیں اسرائیلی فوجیوں نے ہلاک کیا، اس دعوے کی تصدیق اقوامِ متحدہ اور متعدد میڈیا اداروں کی تحقیقاتی رپورٹس میں کی جا چکی ہے۔

امریکہ کی جانب سے جاری کی گئی جائزہ رپورٹ میں بھی یہی کہا گیا تھا کہ 'اس بات کے زیادہ امکانات ہیں' کہ اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے ہی یہ جان لیوا گولی چلائی گئی تھی۔

اسرائیلی ڈیفنس فورسز کا کہنا ہے کہ انھوں نے متعدد اندرونی تحقیقات کی ہیں۔ ایک سینیئر آئی ڈی ایف اہلکار نے پیر کو کہا کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ شیریں ابو عاقلہ کو 'ایک آئی ڈی ایف فوجی نے غلطی سے ہلاک کر دیا ہو اور ظاہر ہے کہ وہ ان کی شناخت بطور صحافی نہیں کر پایا۔'

انھوں نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ تفتیش کرنے والوں نے اس واقعے میں ملوث فوجی سے بات کی ہے۔ 'اس نے ہمیں بتایا کہ اس نے کیا کیا اور اگر اس نے یہ (ابو عاقلہ کا قتل) کیا تو یہ غلطی سے ہوا۔'

اہلکار نے کہا کہ 'میں اس بات پر زور دینا چاہتا ہوں کہ یہ فوجی جس ماحول میں لڑ رہے تھے وہ بہت اہم ہے۔ یہ ایک حفاظتی گاڑی میں بند تھے اور ان پر چاروں اطراف سے فائرنگ ہو رہی تھی۔'

تاہم ابو عاقلہ کی ہلاکت کے وقت سامنے آنے والے ویڈیو شواہد اس دعوے کی توثیق نہیں کرتے کہ اس جگہ پر عسکریت پسندوں کی جانب سے فائرنگ کی جا رہی تھی جہاں عام شہری اور صحافی جمع ہوئے تھے۔

اسرائیلی فوجی اس جگہ سے تقریباً 200 میٹر دور تھے اور اس دوران فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کئی منٹ تک اس علاقے پر مسلسل فائرنگ کی گئی جہاں صحافی چل رہے تھے۔

جب بی بی سی کی جانب سے آئی ڈی ایف اہلکار سے اس فوٹیج کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ فوجیوں پر گولیاں برس رہی تھیں اور وہ جیپ کے اندر سے نہیں دیکھ سکتے تھے کہ کیا ہو رہا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ فوجیوں کو صحافیوں کے اس جگہ جمع ہونے کا علم نہیں تھا۔

اس بارے میں مزید فوجداری تحقیقات نہ کرنے کے باعث فلسطینی بھی برہم ہوں گے اور یہ ابو عاقلہ کے خاندان کے لیے دھچکا ثابت ہو گا۔

انھوں نے آئی ڈی ایف کی جانب سے کیے گئے اعلان کے بعد کہا کہ 'اب یہ سب کے لیے بہت واضح ہو چکا ہے کہ اسرائیلی جنگی مجرم اپنے جرائم کی تحقیقات نہیں کر سکتے۔ تاہم ہم اب بھی انتہائی افسردہ، مضطرب اور مایوس ہیں۔‘

اسرائیلی اور فلسطینی انسانی حقوق کے گروہوں کی جانب سے آئی ڈی ایف کے داخلی تحقیقات کرنے کے طریقہ کار کے حوالے سے تنقید کی جاتی رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے ذریعے ایسے واقعات جن میں فلسطینیوں کو نقصان پہنچانے کی بات ہو، فوجیوں کو تقریباً مکمل استثنیٰ دے دیا جاتا ہے۔

آئی ڈی ایف کی جانب سے اس وقت گرفتاریوں اور گھروں کو مسمار کرنے کے لیے چھاپوں میں تیزی لائی گئی تھی جب فلسطینیوں اور اسرائیلی عربوں کی جانب سے اسرائیل کی گلیوں میں حملوں کے واقعات رونما ہوئے تھے جن میں 18 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

ان میں سے کچھ عسکریت پسند مبینہ طور پر جنین سے آئے تھے۔ مئی میں ایک اسرائیلی افسر کو جنین میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔

اسرائیلی اہلکاروں اور اس وقت کے وزیرِ اعظم نفتالی بینیٹ کی جانب سے آغاز میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ابو عاقلہ کو ممکنہ طور پر فلسطینی عسکریت پسندوں نے گولی ماری تھی۔

جب منصفانہ اور شفاف تحقیقات کے لیے دباؤ بڑھا تو آئی ڈی ایف نے بعد میں کہا کہ اسرائیلی فوجی کی جانب سے چلائی گئی گولی سے ابو عاقلہ کی ہلاکت دو امکانات میں سے ایک ہے، دوسرا امکان یہ ہے کہ یہ گولی فلسطینی عسکریت پسندوں نے چلائی۔

فلسطینی اور عرب دنیا میں اکثریت افراد 51 سالہ نامہ نگار کے مداح تھے اور وہ گذشتہ تین دہائیوں سے اس خطے کی کوریج کر رہی تھیں۔ ان کی ہلاکت کی دنیا بھر میں مذمت کی گئی اور اس کے باعث اسرائیلی فوجی آپریشنز کے دوران سویلین کو درپیش خطرات بھی اجاگر ہوئے۔

گذشتہ کئی ماہ سے ان کے خاندان نے مکمل احتساب کا مطالبہ کر رہا ہے جس میں فوجداری تحقیقات بھی شامل ہیں۔

ابو عاقلہ کے بھائی ٹونی نے بی بی سی کو جولائی میں بتایا تھا کہ وہ 'ان کا قتل دراصل ماورائے عدالت قتل ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ اس کی ذمہ داری کسی پر عائد کی جائے۔'

آئی ڈی ایف کی داخلی تحقیقات پر فوری طور پر سوالیہ نشان لگ گئے۔

ان کی ہلاکت کے چند گھنٹوں کے بعد اسرائیلی حکام کی جانب سے ایک افواہ اڑائی گئی جس کے تحت ایک فلسطینی اسلحہ بردار شخص پر اس کا الزام عائد کیا گیا۔ اس کے علاوہ ایک علاوہ جنین کیمپ کی ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی لیکن یہ ویڈیو کسی اور علاقے کی تھی۔

اس دوران آئی ڈی ایف نے فلسطینی حکام پر انکوائری میں خلل ڈالنے کا الزام عائد کیا اور مطالبہ کیا کہ وہ یہ گولی واپس کر دیں جس سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکے گا کہ آیا ان کے فوجیوں کی جانب سے یہ گولی فائر کی گئی تھی یا نہیں۔

فلسطینی حکام نے کہا کہ اسرائیلیوں پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے پوسٹ مارٹم اور گولی کا جائزہ لینے کے بعد کی گئی انکوائری میں یہ نتیجہ اخز کیا گیا تھا کہ 'اس گولی کا واحد ذریعہ (اسرائیلی) قابض فورسز تھیں اور انھوں نے ایسا ہلاک کرنے کے ارادے سے کیا تھا۔'

امریکی انتظامیہ سے اس واقعے کی تحقیقات کے لیے مطالبے زور پکڑ رہے تھے۔ مئی میں درجنوں کانگریس اراکین کی جانب سے ایف بی آئی دفترِ خارجہ کو ایک دستخط شدہ خط بھیجا گیا اور ان سے امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اس واقعے کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

امریکی دفترِ خارجہ نے فلسطینی پر دباؤ ڈالا کہ وہ یہ گولی ثبوت کے طور پر ریلیز کریں۔ ان کی جانب سے ایسا جولائی میں کیا گیا لیکن امریکی انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا کہ اس حوالے سے آزادانہ تجزیہ کاروں کی جانب سے کیے گئے فرانزک تجزیے کے بعد وہ کسی بھی نتیجے پر نہیں پہنچے کیونکہ یہ گولی کو کافی نقصان پہنچا تھا۔

امریکہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب امریکی سکیورٹی کوارڈینیٹر نے اسرائیلی اور فلسطینی تحقیقات کا جائزہ لیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ 'آئی ڈی ایف کی پوزیشنز سے جو گولیاں چلیں وہ ہی شیریں ابو عاقلہ کی موت کا سبب بنیں۔'

امریکہ نے ابو عاقلہ کی ہلاکت کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ 'آئی ڈی ایف کی رہنمائی میں کیے گیے آپریشن کے دوران المناک صورتحال پیدا ہونے کے باعث ہوئی' ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے پاس اس بات کے شواہد موجود نہیں ہیں کہ یہ ہلاکت جان بوجھ کر ک گئی۔

جب امریکی صدر جو بائیڈن نے اس خطے کا جولائی میں دورہ کیا تھا تو ان کے بھائی نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ انھیں امریکی انتظامیہ نے تنہا چھوڑ دیا ہے۔ انھوں نے ایف بی آئی کی ٹیم سے اس قتل کی تحقیقات کرنے کے لیے یہاں پہنچنے کے لیے کہا تھا۔

خاندان کی بعد میں امریکی سیکریٹری خارجہ اینتھونی بلنکن سے واشنگٹن ڈی سی میں ملاقات ہوئی تھی لیکن ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ نے اب تک ان کی جانب سے انصاف کے مطالبوں کا 'کوئی ٹھوس جواب نہیں دیا ہے۔'