جیکسن: امریکی ریاست مسیسپی کا دارالحکومت جہاں شہری پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی فوج نے گزشتہ ہفتے ریاست مسیسپی کے دار الحکومت جیکسن میں پانی کی 10 لاکھ سے زیادہ بوتلیں بھجوائی ہیں جہاں ہزاروں افراد پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں۔
مختلف اندازوں کے مطابق پانی کی شدید قلت سے یہاں قریب دو لاکھ لوگ متاثر ہیں۔ یہ مسئلہ تقریباً پانچ ہفتے قبل شروع ہوا جب سیلابی ریلوں سے ایک واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ بند ہو گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ پلانٹ کی بحالی کا کام جاری ہے۔
شہر کی متاثرہ آبادی گرمی کی شدید لہر کے پیش نظر پانی کے مسئلے کے حل کا مطالبہ کر رہی ہے۔ شہر میں نہانے، ٹوائلٹ اور روز مرہ کے کاموں کے لیے بھی پانی کی دستیابی بڑا مسئلہ ہے۔
جمعے کو پانی کی بوتلیں حاصل کرنے کی قطار میں کھڑی شرلی بارنیس نے بی بی سی کو بتایا کہ ’پانی کے بغیر زندگی خوفناک ہے۔‘
’روزمرہ زندگی اس کے بغیر انتہائی مشکل ہے۔ پانی اُبالنا، منھ دھونا، نہانا، کھانا پکانا۔ ایسا لگتا ہے جیسے ہم غاروں میں رہ رہے ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’میں نے کبھی نہ سوچا تھا کہ میں اس صورتحال سے دوچار ہوں گی۔ لیکن اب ہم اسی سے گزر رہے ہیں۔‘

ڈیپی اپچرچ جیسے رضاکار جیکسن میں نیشنل گارڈ کے ساتھ مل کر شہریوں کو پانی کی بوتلیں فراہم کر رہے ہیں۔ ان کی بیٹی، جو کہ ایک استانی ہیں، پورے ہفتے تک کلاس پڑھا نہیں سکی۔ انھوں نے اب اپنا کورس آن لائن پڑھانے کی پیشکش کی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ کہتی ہیں کہ ’فی الحال یہ لوگ کلاس کے لیے جمع نہیں ہوسکتے کیونکہ کھانا پکانے یا باتھ روم کے لیے پانی نہیں۔ سکول میں ناشتے اور دوپہر کے کھانے کے علاوہ اکثر لوگوں کے پاس کھانے کو کچھ نہیں۔‘
مسیسپی نیشنل گارڈ کے لفیٹیننٹ رومان رمیریز نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعے کو دپہر تک سکواڈ میں 44 سپاہیوں نے 80 ہزار پانی کی بوتلیں تقسیم کیں۔
’شہری شدید جذبانی ہو چکے ہیں۔ ہمارا کام ہے کہ ہم وہاں جا کر ان کی مدد کریں، جتنا ممکن ہو پانی فراہم کریں۔‘
جیکسن کے رہائیشی ریان بیل اس میدان کے قریب رہتے ہیں جہاں بوتلوں میں پانی تقسیم ہو رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ہر کوئی بحران سے گزر رہا ہے۔ جیکسن شہر میں ہر کوئی۔ ہم سب اس میں ایک ساتھ ہیں۔‘
سیلاب سے قبل بھی اس شہر میں، جہاں آبادی کی اکثریت سیاہ فام افراد پر مشتمل ہے، اکثر لوگوں کے لیے پانی حاصل کرنے کا کوئی اور ذریعہ نہیں۔

ایک مقامی تعمیراتی کمپنی سے وابستہ بیل کہتے ہیں کہ ’پرانا شہر ہونے کی وجہ انفراسٹرکچر بھی متاثر ہوا ہے۔ ہم صرف مدد اور سپورٹ کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘
صدر جو بائیڈن نے جنوبی شہر میں بحران کی وجہ سے وہاں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔
کئی شہری پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے ٹوائلٹ استعمال نہیں کرتے بلکہ انھیں شہر بھر میں قائم عارضی ٹوائلٹ استعمال کرنا پڑتے ہیں۔ 32 ڈگری سینٹی گریڈ کے درجہ حرارت میں ان جگہوں کے باہر لمبی قطاریں لگی رہتی ہیں۔
جیکسن کے میئر کا کہنا ہے کہ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کی مرمت میں کچھ پیشرفت ہوئی ہے مگر اس حوالے سے کوئی واضح ٹائم ٹیبل نہیں کہ یہ مسئلہ کب ختم ہو گا۔
پلانٹ کے قریب کچھ گھروں اور کاروباروں کے لیے پانی کی بحالی کر دی گئی ہے۔ لیکن پلانٹ سے دور پانی کا دباؤ نہ ہونے کے برابر ہے۔
مگر اس سے بڑا مسئلہ حکام کی وہ تنبیہ ہے جس کے مطابق پانی کا پریشر بڑھنے سے شہر بھر کے پائپ پھٹ سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہReuters
ماحولیاتی نسل پرستی
جیکسن سٹیٹ یونیورسٹی میں اربن پلاننگ اور ماحولیاتی مطالعے کے پروفیسر ایڈمنڈ میرم کا کہنا ہے کہ ’ہمارے پاس پانی صاف کرنے کا پرانا نظام ہے جس کے بارے میں اتنے برسوں تک کسی نے نہیں سوچا تھا۔‘
ان کا خیال ہے کہ نسلی تعصب کی وجہ سے ہی جیکسن کے پانی کے انفراسٹرکچر پر کسی کا دھیان نہ گیا اور اس کی فنڈنگ بھی نہ کی گئی۔
ماحولیاتی امور کے ماہرین اور کارکنان کا کہنا ہے کہ جیکسن کی طرح فلنٹ، مشیگن اور دیگر شہروں میں بھی ایسا ہی ہو رہا ہے۔ پانی کی سپلائی میں عدم تعاون کا براہ راست تعلق نسل در نسل تعصب اور نسل کی بنیاد پر امتیازی سلوک ہے۔
وکیل اور ماحولیاتی امور کی وکیل اریل کنگ کے مطابق ’کئی دہائیوں تک یہ صورتحال سنگین ہوتی گئی ہے۔‘
’امتیازی سلوک کی تاریخ اور ملک میں سرخ لکیروں نے ماحولیاتی نا انصافی میں اپنا حصہ ڈالا ہے جو ہم اب دیکھ رہے ہیں۔‘
ان کے مطابق ’ریڈ لائننگ‘ کا یہ عمل 1940 کی دہائی میں شروع ہوا جب حکومت نے سیاہ فام لوگوں کو قرضوں کی ادائیگی بند کر دی کیونکہ یہ ’بہت خطرناک‘ سمجھا جاتا تھا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
کنگ کا کہنا ہے کہ یہ عمل 40 برس تک جاری رہا اور اس میں سیاہ فام اور کم آمدن والے گھروں کو نشانہ بنایا جاتا رہا جن کی اکثر آبادی لینڈ فل، آئل ریفائنری اور سوئیج ٹریٹمنٹ پلانٹ کے پاس رہا کرتی تھی۔
مسیسپی کے دریا کے کنارے یہ مقام ایک وقت میں سربز و شاداب ہوا کرتا تھا مگر اب یہ صنعتی پیداوار کی ریڑھ کی ہڈی ہے کیونکہ یہاں 150 سے زیادہ آئل ریفائنریاں ہیں۔
آلودگی کی وجہ سے ملک کی سیاہ فام آبادی کئی دہائیوں تک کینسر سے سب سے زیادہ متاثر ہوتی رہی ہے۔
کنگ کا کہنا ہے کہ یہ ماحولیاتی نسل پرستی کا نتیجہ ہے جس میں جیکسن میں کم آمدن والوں علاقوں میں انتہائی کم سرمایہ کاری کی گئی ہے۔
’آپ کہہ سکتے ہیں کہ سیلاب کے پس منظر میں کئی عوامل ہوسکتے ہیں۔ لیکن اگر یہ ریڈ لائن نہ ہوتی تو ان لوگوں کو سیلاب کی زد میں آنے والے علاقوں میں رہنے پر مجبور نہ کیا جاتا۔‘
























