سعوی خاتون کو حکومتی مخالفین اور انسانی حقوق کارکنوں کو فالو کرنے اور ان کی پوسٹ ری ٹویٹ کرنے کے جرم میں 34 سال قید کی سزا

ٹوئٹر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 3 منٹ

ایک 34 سالہ سعودی خاتون کو مبینہ طور پر ٹوئٹر پر حکومت مخالف کارکنوں کو فالو کرنے اور ان کی پوسٹ ری ٹویٹ کرنے کے جرم میں 34 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے، انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس سخت فیصلے کی مذمت کی ہے۔ خاتون کو گذشتہ سال گرفتار کیا گیا تھا۔

برطانوی اخبار دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق، سلمیٰ الشہاب برطانیہ کی لیڈز یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کی طالبہ ہیں۔ انھیں اُس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ چھٹیاں گزارنے اپنے گھر واپس آئی تھیں۔

یہ فیصلہ مبینہ طور پر خواتین کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والی کسی سعودی خاتون کو دی جانی والی طویل ترین قید کی سزاؤں میں سے ایک ہے۔

سلمیٰ الشہاب کو ابتدائی طور پر دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے تین سال قید کی سزا سنائی تھی۔ عدالت نے کہا کہ شہاب نے 'عوام میں بدامنی پھیلانے اور شہری اور قومی سلامتی کو غیر مستحکم کرنے' کے لیے ایک انٹرنیٹ ویب سائٹ کا استعمال کیا۔

بعد ازاں پیر کو ایک اپیل کورٹ نے اس فیصلے کو 34 سال قید اور 34 سال کی سفری پابندی میں تبدیل کر دیا۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

انسانی حقوق کی کئی تنظیموں بشمول ہیومن رائٹس فاؤنڈیشن، دی فریڈم انیشی ایٹو، یورپی سعودی آرگنائزیشن فار ہیومن رائٹس نے اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

فریڈم انیشی ایٹو نے ایک بیان میں کہا، 'ہم سعودی حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ سلمیٰ الشہاب کو آزاد کیا جائے انہیں اپنے بچوں کی دیکھ بھال کے لیے واپس آنے کی اجازت دی جائے اور وہ برطانیہ میں اپنی تعلیم بحفاظت مکمل کر سکیں'۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ خواتین کے حقوق کے کارکنوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ٹوئٹ کرنا کوئی جرم نہیں ہے'۔

گارڈین کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عدالتی دستاویزات میں الزام لگایا گیا ہے کہ سلمیٰ الشہاب ان لوگوں کی مدد کر رہی ہیں جو عوامی بدامنی پھیلانے اور اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹس کے ذریعے شہری اور قومی سلامتی کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ وہ ملک یا بیرون ملک میں کوئی خاص مشہور نہیں ہیں، جن کے ٹوئٹر پر 2597 اور انسٹاگرام پر محض 159 فالوورز ہیں۔

یونائیٹڈ سٹیٹس کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے کہا سلمیٰ الشہاب ایک شیعہ مسلمان ہیں اورانکی مذہبی شناخت انکی گرفتاری یا سخت سزا کی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔

علامتی تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسلمی خواتین پر ان کے مرد رشتہ داروں کی سرپرستی کے نظام کو ختم کرنے کے مطالبے سمیت کئی مہموں کا حصہ رہی ہیں

دریں اثنا، برلن میں قائم یورپی سعودی آرگنائزیشن فار ہیومن رائٹس نے بتایا کہ شہاب اورل اور ڈینٹل میڈیسن کی ماہر، برطانیہ کی لیڈز یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کی طالبہ، اور پرنسز نورہ یونیورسٹی میں لیکچرارہیں وہ شادی شدہ ہیں اور انکے دو بیٹے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، انہیں 15 جنوری 2021 کو گرفتار کیا گیا تھا کچھ دن بعد انہیں برطانیہ واپس جانا تھا۔

یورپی سعودی آرگنائزیشن فار ہیومن رائٹس نے نے ایک بیان میں کہا 'پبلک پراسیکیوشن نے ان پر کئی الزامات لگائے، جن میں معاشرے کی سلامتی اور ریاست کے استحکام کو نقصان پہنچانا، بغاوت پر اکسانا ، امن عامہ میں خلل ڈالنے والوں کو امداد فراہم کرنا، اور ٹوئٹر پر جھوٹی اور بدنیتی پر مبنی افواہیں پھیلانا شامل ہیں۔ حالانکہ ان کے خلاف تمام الزامات ٹوئٹر پر انکی سرگرمی سے متعلق ہیں'

’سلمی خواتین پر ان کے مرد رشتہ داروں کی سرپرستی کے نظام کو ختم کرنے کے مطالبے اور ضمیر کے مرد اور خواتین قیدیوں کی رہائی سے متعلق مہموں کا حصہ تھیں۔

یہ سزا امریکی صدر جو بائیڈن کے 15 جولائی کو جدہ میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کے چند ہفتوں بعد سامنے آئی ہے۔ بائیڈن کو عرب رہنما سے ملاقات کے لیے تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا جن پر انسانی حقوق کی کئی خلاف ورزیوں کا الزام ہے، جن میں سعودی نقاد جمال خشوجگی کے قتل کا حکم بھی شامل ہے۔