افغانستان اور عراق میں تعینات رہنے والے بعض آسٹریلوی فوجیوں میں خود کشی کا بڑھتا رجحان

آسٹریلوی فوجیوں میں خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, ٹفنی ٹرنبل
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، سڈنی
  • وقت اشاعت

آسٹریلیا میں حاضر سروس اور سابق فوجیوں میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے رجحان کو ایک قومی سطح کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد قومی سانحہ قرار دیا گیا ہے۔ ان میں سے بعض فوجی افغانستان اور عراق میں تعینات تھے۔

آسٹریلیا میں عوامی سطح پر انکوائری کے سب سے اعلی فورم، رائل کمیشن، نے آٹھ ماہ کے دوران سینکڑوں افراد کے انٹرویو کیے۔

یہ کمیشن 2020 میں تشکیل دیا گیا تھا۔

اس دوران انکشاف ہوا کہ آسٹریلوی فوجی سروس سے فارغ ہونے کے بعد بیوروکریسی کی جانب سے مدد نہ ملنے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔

آسٹریلیا کی حکومت نے معافی مانگی ہے اور رپورٹ کی سفارشات پر جلد از جلد عمل کرنے کا وعدہ بھی کیا ہے۔

آسٹریلیا میں ویٹرنز کے وزیر میٹ کیوغ نے کہا کہ ’یہ نہایت تکلیف دہ چیز ہے کہ آسٹریلیا نے 20 سال تک افغانستان اور عراق میں ہونے والے آپریشنز سے زیادہ فوجی خود کشی کی وجہ سے کھوئے ہیں۔‘

2001 سے اب تک آسٹریلین ڈیفینس فورس کے 1200 اراکین خودکشی کر چکے ہیں۔

مختلف تحقیقاتی سٹڈیز میں اس جانب اشارہ کیا گیا ہے کہ عام عوام کی نسبت سابق فوجیوں میں خودکشی کا رجحان زیادہ ہوتا ہے۔

ایک سابق فوجی نے کمیشن کو بتایا کہ افغانستان میں رونما ہونے والے واقعات دیکھنے کے بعد ملک واپسی پر ان کی زندگی کیسے بدل گئی۔

آسٹریلیا کے رائل کمیشن برائے ڈیفینس اینڈ ویٹرن سوئسائیڈ کی رپورٹ کے مطابق خودکشی کی وجوہات میں سروس کے دوران جسمانی اور ذہنی تکالیف سے نمٹنے میں مشکلات، فوجی زندگی سے ایک عام زندگی کی تبدیلی اور ریٹائرمنٹ کے بعد سرکاری مدد حاصل کرنے میں مشکلات شامل ہیں۔

جن افراد نے اس انکوائری کے دوران اپنے تجربات بتائے ان میں سنیٹر جیکوئی لیمبی بھی شامل ہیں۔

انھوں نے انکوائری کے دوران بتایا کہ کس طرح فوج میں سروس کے دوران زخمی ہونے اور حکومت سے مدد کے لیے جنگ لڑنے کے بعد انھوں نے اپنے بیٹوں کے نام الوداعی خط لکھا اور پھر اپنی جان لینے کی کوشش کی۔

انھوں نے کہا کہ ’میرے لیے زندہ رہنے کے لیے کوئی وجہ ڈھونڈنا مشکل ہو گیا تھا، میں اپنے بچوں کے لیے بھی زندہ نہیں رہنا چاہتی تھی۔‘

سنیٹر جیکوئی لیمبی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسنیٹر جیکوئی لیمبی

’مجھ میں لڑنے کی سکت باقی نہیں رہی تھی۔‘

یہ بھی پڑھیے

جمعرات کو رائل کمیشن کی عبوری رپورٹ میں فوج اور حکومت میں موجود ان ثقافتی معاملات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے جن کی وجہ سے خودکشی کے بڑھتے ہوئے رجحان پر کچھ نہیں کیا گیا۔

کمیشن کے مطابق ’بہت سی زندگیوں کا دار و مدار اس چیز پر ہے کہ معاوضے اور از سر نو بسانے کے لاتعداد کیسز کو جلد سے جلد نمٹایا جائے۔‘

آسٹریلیا میں ویٹرنز کے وزیر میٹ کیوغ نے معافی مانگتے ہوئے وعدہ کیا کہ مئی میں منتخب ہونے والی حکومت ’سفارشات پر ترجیحی بنیادوں پر عمل کرے گی۔‘

انھوں نے بتایا کہ 500 اضافی افراد کا عملہ اس کام کے لیے رکھا جا چکا ہے۔

رائل کمیشن کی جانب سے جون 2024 میں مکمل رپورٹ جاری کرنے سے پہلے اس معاملے پر مذید سماعت بھِی ہو گی۔