آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
لبنان میں بینک والوں کو یرغمال بنانے والا مسلح شخص عوام کا ‘ہیرو‘ بن گیا!
- مصنف, فرینچیسکا جلیٹ
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
لبنان میں عوام ایک ایسے شخص کو ہیرو قرار دے رہے ہیں جس نے بیروت کے ایک بینک سے اپنی رقم نکلوانے میں ناکامی پر پورے بینک کو چھ گھنٹے تک یرغمال بنائے رکھا۔
واضح رہے کہ اقتصادی بحران کے باعث لبنان میں بینکوں نے رقم نکلوانے کی حدود مقرر کر رکھی ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مذکورہ شخص رائفل لے کر بینک میں داخل ہوا، پیٹرول چھڑکا اور کہا کہ ہسپتال کے بلوں کی ادائیگی کے لیے اس کی رقم دی جائے۔
ان کے اس اقدام نے جلد ہی عوامی حمایت حاصل کر لی اور بینک کے باہر جمع ہونے والے لوگ نعرے بازی کرنے لگے کہ ’تم ہیرو ہو۔‘
بالآخر یہ معاملہ کسی نقصان کے بغیر حل ہو گیا اور ایک مقامی ٹی وی چینل ایل بی سی ٹی وی کے مطابق اس شخص کو اپنی بچت کردہ رقم میں سے 35 ہزار ڈالر نکلوانے کی اجازت دے دی گئی۔
بعد میں پولیس نے فیڈرل بینک کی حمرہ سٹریٹ برانچ سے یرغمالیوں اور مذکورہ شخص کو نکال لیا۔ حکام نے اب تک یہ نہیں بتایا ہے کہ کیا مذکورہ شخص کو مقدمے کا سامنا کرنا ہو گا یا نہیں۔
ایل بی سی کے مطابق مذکورہ شخص کے خاندان کے کچھ افراد ہسپتال میں تھے، اس لیے اُنھیں پیسوں کی سخت ضرورت تھی۔
اس شخص کے بھائی نے صحافیوں کو بتایا کہ ’میرے بھائی کے بینک اکاؤنٹ میں دو لاکھ 10 ہزار ڈالر پڑے ہیں اور وہ ہسپتال کے بل ادا کرنے کے لیے صرف ساڑھے پانچ ہزار ڈالر نکالنا چاہ رہا تھا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بینک کے باہر موجود اس شخص کی اہلیہ اور بھائی نے کہا کہ ’ہر کسی کو اپنے حق‘ تک رسائی حاصل کرنے کے لیے ’یہی کرنا چاہیے۔‘
لبنان میں بینک اکاؤنٹس پر سخت پابندیوں کے باعث عوام میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ یہ پابندیاں سنہ 2019 سے نافذ ہیں۔ اس کے علاوہ ملک سے پیسے باہر بھیجنے پر بھی پابندیاں ہیں۔
یہ ملک اس وقت دنیا میں حالیہ دور کے بدترین اقتصادی بحرانوں میں سے ایک کا سامنا کر رہا ہے جس کی وجہ سے خوراک اور دواؤں کی قلّت ہے جبکہ اخراجاتِ زندگی بڑھ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
بینک کی برانچ کے باہر مظاہرین بینکوں کے خلاف نعرے بازی کرتے نظر آئے۔
لبنان کی بینک ایمپلائز یونین کے صدر جارج الحاج نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’اس طرح کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔‘
واضح رہے کہ جنوری میں ایک مشتعل صارف نے لبنان ہی کے ایک بینک میں درجنوں افراد کو یرغمال بنا کر اپنے پیسے ڈالروں میں نکلوانے کا مطالبہ کیا تھا۔
جارج کہتے ہیں کہ ’لوگ اپنے پیسے واپس چاہتے ہیں اور مینیجمنٹ تک نہ پہنچ پانے پر ان کا غصہ بینک ملازمین پر اترتا ہے۔‘
لبنان کی مقامی کرنسی کی قدر اس بحران کے آغاز سے اب تک 90 فیصد کم ہوئی ہے اور اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ ملک کی 80 فیصد آبادی غربت کی شکار ہے۔