نازنین زاغری کی رہائی اور برطانیہ کا چالیس سال پرانا اسلحے کا معاہدہ

،تصویر کا ذریعہLEON NEAL/POOL/AFP via Getty Images
تقریباً چھ سال ایران میں قید رہنے والی ایک برطانوی ایرانی خاتون نازنین زاغری ریٹکلف رہائی کے بعد برطانیہ واپس آ گئی ہیں۔
نازنین اور ایک اور برطانوی ایرانی شہری انوشہ اشوری کی رہائی برطانیہ کی جانب سے ایران کو ملٹی ملین پاؤنڈ کے ایک قرض کی ادائیگی سے جوڑی جا رہی ہے۔ یہ قرضہ اسلحے کے ایک 40 سال پرانے ناکام معاہدے کا تھا۔
قرض کیا تھا؟
1970 کی دہائی میں ایران پر حکومت کرنے والے اس وقت کے شاہ ایران جو مغرب نواز تھے انھوں نے برطانیہ سے 1,500 چیفٹین ٹینک اور 250 آرمرڈ ریکوری وہیکلز خریدنے کا آرڈر دیا جس کی مالیت 650 ملین پاؤنڈ تھی۔
یہ رقم ایک نجی کمپنی انٹرنیشنل ملٹری سروسز آئی ایم ایس کو ادا کی گئی، جو اس وقت برطانیہ کی وزارت دفاع کی ذیلی کمپنی تھی۔ تاہم 1979 کے اسلامی انقلاب میں شاہ کی معزولی سے قبل ایرانی حکام کو صرف 185 ٹینک فراہم کیے گئے تھے۔
اس کے بعد سے ہی حکومتِ ایران غیر ڈیلیور نہ ہونے والے ٹینکوں کے قرم واپس حاصل کر نے کی کوشش کر رہی تھی۔

،تصویر کا ذریعہReuters
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایران نے کیا اقدامات کیے؟
1990 میں ایران آئی ایم ایس کو انٹرنیشنل چیمبر آف کامرس لے گیا، جو کہ ایک عالمی تجارتی تنظیم ہے جو ملکوں کے درمیان تجارتی تنازعات طے کرتی ہے۔
2001 میں ایران کے حق میں فیصلہ ہوا جس کے بعد آئی ایم ایس نے اپیل کی، حالانکہ 2002 میں اس نے اپیل ناکام ہونے کی صورت میں عدالت کے سامنے 328عشاریہ پانچ ملین پاؤنڈ ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔
اپیل کی سماعت 2009 میں مکمل ہوئی اور فیصلہ ایران کے حق میں برقرار رکھا گیا۔
تاہم، یورپی یونین نے جون 2008 میں ایران پر پابندیاں عائد کر دی تھیں، اور آئی ایم ایس نے ایران کو رقم ادا نہیں کی۔
2009 سے کیا ہوا ہے؟
برطانیہ کی حکومت نے تسلیم کیا کہ اس نے ٹینکوں کی ڈلیوری نہیں کی جس کے لیے وہ ایران کا مقروض ہے لیکن کہا کہ ادائیگی نہیں کی جا سکتی کیونکہ ایران اب بھی اقتصادی پابندیوں کا شکار ہے۔
اس کے علاوہ، اس بات پر بھی کنفیوژن تھی کہ برطانیہ ایران کا کتنا مقروض ہے۔.
2002 میں آئی ایم ایس کی جانب سے کی گئی 238عشاریہ 5 ملین پاؤنڈ کی سیکیورٹی ادائیگی کےبعد اس وقت سے کافی سود جمع ہو گیا تھا اور برطانیہ نے اس بات پر اختلاف کیا کہ ایران کو اس میں سے کتنی رقم ادا کی جانی چاہیے۔
اس قرض کا نازنین ریٹکلف سے کیا تعلق ہے؟
نازنین جنکا تعلق ایران سے ہے لیکن وہ ایک برطانوی شہری ہیں انھیں ایران میں اپریل 2016 میں حراست میں لیا گیا تھا اور انھوں نے ایرانی حکومت کے خلاف مبینہ سازش کے الزام میں تقریباً چھ سال حراست میں گزارے تھے۔ اس دوران انھوں نے ہمیشہ خود کو بے گناہ قرار دیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
نازنین نے کہا کہ انھیں ان کے اغوا کاروں نے بتایا تھا کہ ان کی قید اس حقیقت سے جڑی ہوئی تھی کہ برطانیہ نے اپنا قرض ادا نہیں کیا تھا۔
2021 میں سابق وزیر خارجہ جیریمی ہنٹ نے کہا کہ ایران نازنین کے کیس اور برطانوی قرض کو جوڑ رہا ہے۔
انھوں نے کہا تھا 'میرے خیال میں وہ چیفٹین ٹینکوں سے متعلق پرانے قرض کو طے کرنے کے لیے اس معاملے کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
تاہم، برطانیہ کی حکومت نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا کہ نازنین کی گرفتاری اور ریٹائرڈ انجینئر انوشہ اشوری کی قید اس رقم سے منسلک تھی۔
2021 میں نازنین کے شوہر نے سینٹرل لندن میں احتجاج شروع کر دیا۔
معاملہ طے کیسے ہوا؟
برطانیہ کی خارجہ سکریٹری لز ٹرس اور ان کے ایرانی ہم منصب کے درمیان مہینوں کی بات چیت کے بعد زاغری ریٹکلف اور مسٹر اشوری کو رہا کیا گیا۔
ایک اور دوہری شہریت رکھنے والے مراد تہباز کو بھی اس معاہدے کے ایک حصے کے طور پر ایران کی جیل سے فرلو پر رہا کر دیا گیا ہے۔
برطانوی وزیر خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ برطانیہ نے قیدیوں کی رہائی کے عوض برطانیہ کے قرض کا تصفیہ کیا ہے۔
انھوں نے اراکین پارلیمنٹ کو بتایا کہ 'انتہائی پیچیدہ' مذاکرات کے نتیجے میں حکومت نے اپنےقرضے کی ادائیگی کا راستہ تلاش کیا اور یہ کہ ادائیگی موجودہ پابندیوں، انسداد دہشت گردی کی مالی معاونت کے عالمی قوانین اور منی لانڈرنگ کے ضوابط کی تعمیل کرتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ شرائط خفیہ رہیں گی لیکن انھوں نے مزید کہا کہ ایران فنڈز کو صرف انسانی مقاصد کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔






















