آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کیا جرائم یا حادثات کے دوران سوشل میڈیا ایپس اور وائرل ویڈیوز راہگیروں کو مدد کرنے سے روکتی ہیں؟
- مصنف, برینڈ دیبرسمن جونیئر اور اناماریہ سلک
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
امریکی ریاست میری لینڈ میں راک وِل کے ایک ہائی سکول میں جنوری میں جو واقعہ پیش آیا وہ ایک ایسا منظر تھا جو امریکہ بھر کی پولیس افسران کے لیے بہت جانا پہچانا تھا۔ دو لڑکوں کے درمیان جھگڑا جو ایک گولی کی آواز کے ساتھ ختم ہوا، اور ایک 15 برس کا بچہ خون میں لت پت باتھ روم کے فرش پر گر پڑا تھا۔
اس جرم کے عینی شاہدین نے وہاں جو کچھ کیا اس نے تین دہائیوں سے زائد تجربہ رکھنے والی پولیس افسر اور نیشنل پولیس ایسوسی ایشن کی ترجمان بیٹسی برینٹنر سمتھ کو بھی حیرت زدہ کر دیا۔ ان کے مطابق طلبا نے اس واقعے سے متعلق ٹویٹ کرنی شروع کر دیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’یہ جس دور میں ہم رہ رہے ہیں یہ ہماری بدقسمتی ہے۔‘
مونٹگمری کاؤنٹی پولیس نے تصدیق کی ہے کہ ساتھی طلبا نے فائرنگ کے واقعے کے بارے میں ٹویٹس کیں اور اس دوران انھوں نے گولیاں چلانے والے اور متاثرہ فرد کے بارے میں بھی معلومات عام کر دیں۔
’جو انھوں نے نہیں کیا وہ پولیس کو مدد کے لیے نہیں بلایا۔ بعدازاں زخمی لڑکا وہاں سے ملا۔‘
بیٹسی سمتھ جب اس دور کا حوالہ دیتی ہیں تو اس سے ان کی مراد ’کسی بھی جرم یا حادثے کے وقت وہاں موجود افراد کا بے ساختہ موبائل فون نکال کر اس بارے میں ویڈیو بنانا یا معلومات شیئر کرنے کی لت ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’کبھی کبھی ایسی جگہوں سے گزرنے والے لوگ فوٹو یا ویڈیو بنانا شروع کر دیتے ہیں اور بعض اوقات وہ سوشل میڈیا پر تفصیلات جاری کرنا شروع کر دیتے ہیں۔‘
حالیہ برسوں میں ایسی کمرشل فون ایپس سامنے آئی ہیں، جو دیکھنے والوں کو ان پلیٹ فارمز پر جُرم کی اطلاع دینے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان ’پبلک سیفٹی‘ ایپس میں سب سے زیادہ مقبول، ’سیٹیزن‘ نامی ایپ ہے جس کے نو ملین سے زیادہ صارف ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سنہ 2016 میں ’وجیلنٹ‘ کے نام سے تیار کردہ ایپ پولیس سکینرز اور سوشل میڈیا سے معلومات کا استعمال کرتے ہوئے صارفین کو قریبی ہنگامی صورتحال سے آگاہ کرتی ہے۔
ایپ کا بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ معلومات تک رسائی عوام کو خطرے سے بچا سکتی ہے۔ اس میں ایک ’ریکارڈ‘ فنکشن بھی شامل ہے، جس سے صارفین کسی ایسی جگہ سے ویڈیو اور لائیو فوٹیج بنانے کو بھی یقینی بنا سکتے ہیں۔
سٹیزن امریکہ میں ایسی واحد ایپ نہیں ہے اگرچہ شاید یہ سب سے زیادہ مشہور ضرور ہے۔
دیگر مثالوں میں ’نیبرز بائی رِنگ‘ شامل ہیں۔ ایک ایمازون کی ذیلی کمپنی، جو صارفین کو 'سمارٹ' ڈور بیلز اور نگرانی والے کیمروں سے تصاویر اور ویڈیو کلپس شیئر کرنے اور رہائشیوں کے ساتھ جرائم پر بات کرنے کی اجازت دیتی ہے۔
نیکسٹ ڈور، ایک سوشل نیٹ ورکنگ سروس ہے جو پڑوسیوں کو جرائم کی مقامی خبروں اور واقعات میں دلچسپی لینے اور شیئر کرنے میں مدد کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔
امریکہ میں اسی طرح کی دیگر ایپلی کیشنز بھی عروج پر ہیں ، جسے کچھ ماہرین نے، 'کراؤڈ سورسڈ سسپیشن ایپس' کا نام دیا ہے، ان ایپس نے موبائل فون کیمروں کے ہر جگہ استعمال کے باعث ایک نئے، ڈیجیٹل ’بائی سٹینڈر افیکٹ‘ کے خدشات کو جنم دیا ہے۔
جب تصاویر لینے یا ایپس پر رپورٹ کرنے کا حوصلہ بہت زیادہ ہے، تو کیا گواہ پولیس کی مدد کرنے یا مدد کے لیے کال کرنے کے بجائے فلم بندی کریں گے؟
’بائی سٹینڈر ایفیکٹ‘، جسے بائی سٹینڈر بے حسی بھی کہا جاتا ہے، ایک نظریہ ہے کہ دوسروں کی موجودگی عینی شاہدین کو ہنگامی حالات میں مداخلت کرنے کی حوصلہ شکنی کرتی ہے۔
یہ اصطلاح سنہ 1964 میں نیو یارک شہر میں ایک 28 برس کی خاتون کِٹی جینویس کے قتل کے بعد سے مستعمل ہے۔ ابتدائی رپورٹس جو بعد میں غلط ثابت ہوئیں سے پتا چلتا ہے کہ درجنوں افراد نے قتل کو دیکھا لیکن انھوں نے اسے روکنے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی پولیس کو کال کی۔
جبکہ حالیہ تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ کسی بھی جرم یا حادثے کے شاہدین، درحقیقت، زیادہ تر صورتوں میں مدد کرتے ہیں کیونکہ ایسے واقعات میں عوامی تشویش کا پہلو موجود رہتا ہے۔
گذشتہ موسم خزاں کی ایک اعلیٰ مثال نے اس مسئلے کو واضح طور پر اجاگر کیا جب فلاڈیلفیا میں بیٹھے مسافر، ٹرین میں اپنی آنکھوں کے سامنے ہونے والے ریپ کی اطلاع پولیس کو دینے میں ناکام رہے۔
زیادہ تر امریکی ریاستوں میں راہگیروں پر مداخلت یا مدد کرنے کی کوئی قانونی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی جب تک کہ ان کے پاس ایسا کرنے کی کوئی ’مخصوص‘ وجہ نہ ہو، جیسے کہ اگر وہ والدین، اساتذہ، نگراں، یا پولیس سے تعلق رکھتے ہوں۔
یونیورسٹی آف میامی میں قانون کی پروفیسر تمارا رائس لاؤ نے کہا کہ اس بات کا خدشہ ہے کہ دیکھنے والے کسی چیز کو فلمانے اور واقعات کو اپ لوڈ کرنے سے ’بدنامی‘ حاصل کر سکتے ہیں۔
لوگ وائرل ہونا چاہتے ہیں، اور اس سے وہ اپنے فرائض سے پہلو تہی بھی کرتے ہیں، چاہے یہ ان کی قانونی ذمہ داری بنتی ہے یا نہیں، لیکن باقی شہریوں کا اس حوالے سے ایک اخلاقی فرض ضرور بنتا ہے۔
کسی جرم کی فلم بندی کرنے والے لوگوں کی نفسیات کے بارے میں تحقیق بہت کم پائی جاتی ہے۔ حالانکہ کچھ ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ ان کا یقین ہے کہ ایسا کرنا فطری طور پر مدد کرنے کی خواہش کا جذبہ ہو سکتا ہے۔ چاہے وہ باقاعدہ طور پر نہ بھی ایسے واقعات میں دخل اندازی دیں۔
الزبتھ جیگلِک، ایک ماہر نفسیات اور جنسی تشدد کی روک تھام کی محقق اور نیویارک کے جان جے کالج آف کریمنل جسٹس میں پروفیسر ہیں۔ ان کے مطابق ’ہمارے پاس بہت زیادہ ڈیٹا نہیں ہے، لیکن مفروضہ یہ ہے کہ یہ لوگوں کا کچھ کرنے کا ایک جذبہ ہوتا ہے۔‘
پروفیسر الزبتھ جیگلک، نے مزید کہا کہ ’میرے خیال میں لوگ محسوس کرتے ہیں کہ کسی جرم یا حادثے کو فلمانے سے، وہ ایک طرح سے [جرائم] کو دستاویزی شکل دے رہے ہیں اور اس طرح سے وہ جیسے اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ یہ، بعض اوقات، جرائم کی کارروائی میں مدد کرتا ہے۔ تاہم، یہ فوری طور پر، اس شخص کی مدد نہیں کرتا جس پر حملہ کیا جا رہا ہوتا ہے۔‘
سٹیزن ایپ کے ناقدین نے الزام لگایا ہے کہ کہ یہ جرم کے بارے میں تصورات کو بدلنے اور بے جا خوف کا سبب بنتا ہے۔
لاس اینجلس میں کیلیفورنیا یونیورسٹی میں قانون کے لیکچرار اینجل ڈیاز کا کہنا ہے کہ ’یہ عوامی تحفظ فراہم کرنے کا بہانہ ہے، لیکن حقیقت میں، یہ صرف ایک بے ہودہ تماشا فراہم کر رہا ہے۔ ہمیں لوگوں کی حفاظت کے لیے کسی نجی کمپنی پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔‘
شکاگو میں سٹیزن ایپ کی صارف22 برس کی نادیہ تاراسوا نے کہا کہ ’اس سے مجھے یہ محسوس ہوا کہ یہ شہر اس سے کہیں زیادہ خطرناک ہے کیونکہ رپورٹ ہونے والے جرائم کی تعداد کافی تشویشناک ہے۔‘
تارسووا نے کہا کہ وہ اکثر ایک دن میں 30 سے زیادہ ایسے واقعات کی خبروں سے مغلوب ہو جاتی ہیں۔
’وہ چھوٹی چھوٹی چیزوں کے بارے میں رپورٹ کرتے ہیں جیسے کہ ڈمپسٹر میں آگ لگ گئی ہے، یا وہ ایسے واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔ وہ کہیں گے کہ یہ ایک ہجوم کا احتجاج ہے جب کہ صرف دس بچے پارک میں کھڑے اپنے استاد سے کسی موضوع پر بات کر رہے ہوں۔‘
تراسووا اور لاکھوں دوسرے صارفین ٹیکنالوجی کے فوائد کے قائل ہیں۔ اس معاملے میں، ان کا خیال ہے کہ ’اس سے انھیں باخبر رہ کر فیصلے کرنے میں مدد ملتی ہے کہ کون سے علاقوں میں تنہا رہنا محفوظ ہے اور کون سے میں نہیں۔‘
ان کے مطابق ’میں بحیثیت خاتون اپنے اردگرد کے حالات سے باخبر رہنا پسند کرتی ہوں۔‘
بی بی سی کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے، سٹیزن کے ترجمان نے کہا کہ کمپنی اپنی ٹیکنالوجی کو 911 کے لیے مزید مددگار کے طور پر دیکھتی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ سٹیزن قانون نافذ کرنے والے اداروں کا متبادل نہیں ہے۔ ’اگر کوئی صارف کسی جرم کا ارتکاب ہوتا دیکھتا ہے تو اسے مقامی حکام سے رابطہ کرنا چاہیے۔‘
یہ بھی پڑھیے
کچھ ماہرین نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا ہے کہ آن لائن مواد کو فلمانے اور اپ لوڈ کرنے سے یہ نسلی پروفائلنگ کا باعث بن سکتے ہیں۔
یونیورسٹی آف پینسلوانیا کے ایننبرگ سکول آف کمیونیکیشن میں پی ایچ ڈی کی امیدوار لارین بریگز کا کہنا ہے کہ ’دراصل، میری تشویش بائے سٹینڈر ایفیکٹ کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ پرتشدد ہجوم کے واقعات کے بارے میں ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’وہ تقریباً ایک لحاظ سے بائی سٹینڈر یعنی راہ گیروں کی تعریف کو تبدیل کر رہے ہیں کہ ’لائیو سٹریمنگ‘ کے عمل کے ذریعے یا گرفتاری اور ریکارڈنگ کے عمل کے ذریعے یہ مداخلت کی ایک شکل ہے۔ سوائے اس حقیقت کے کہ یہ بہت زیادہ نسلی تعصب پر مبنی ہے۔‘
سٹیزن کے ترجمان نے کہا کہ اس طرح کے خدشات لوگوں کو مطلع کرنے کے لیے ’[ایپ کی] بنیادی فعالیت سے متعلق ایک غلط بیانی‘ ہے جب ممکنہ طور پر خطرناک حالات آس پاس ہو رہے ہوں۔
کمپنی نے کہا کہ اس نے نوٹیفیکیشنز کی تعداد کو کم کرنے اور ان کی مطابقت اور تعداد کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے ہیں تاکہ جرائم کے بارے میں تاثرات پر ایپ کے اثرات کو دور کیا جا سکے۔ ترجمان نے کہا کہ ’ہم مبہم مشتبہ یا مشکوک شخص کی تفصیلات کو عام کرنے سے بھی گریز کرتے ہیں۔‘
جرائم کی اطلاع دینے والی ایپس کو فلمانے اور استعمال کرنے والوں کی تعداد مستقبل میں بڑھے گی، خاص طور پر جب نوجوان، جو کہ ٹیکنالوجی کے بارے میں زیادہ آگاہی رکھتے ہیں آبادی کا بڑا حصہ بننا شروع ہوں گے۔
پروفیسر جیگلِک نے کہا کہ اس وقت دیکھنے والوں کو مزید کچھ کرنا اور کام کرنا سکھانا ضروری ہو گا، جیسے کہ 911 پر کال کر کے یا محفوظ طریقے سے مداخلت کرنے کی کوشش کرنا، نہ کہ صرف فلم بنانے سے ہی سب کچھ سمجھ لیا جائے۔ انھوں نے اس کا موازنہ ملک بھر کے بہت سے ہائی سکولوں اور یونیورسٹیوں میں فراہم کی جانے والی جنسی تشدد سے متعلق تعلیم سے کیا۔
انھوں نے کہا کہ ’میں سمجھتی ہوں کہ ہم طالب علموں کو جتنا کم عمری میں مداخلت کرنا سکھائیں گے، اتنا ہی زیادہ امکان ہے کہ وہ ان حکمت عملیوں پر عمل کریں گے اور اتنا ہی زیادہ امکان ہے کہ وہ مداخلت کریں گے۔ ہم کسی ہنگامی صورتحال میں ہونے سے پہلے گیم پلان کے ساتھ جتنا زیادہ آرام دہ ہوں گے، اتنا ہی زیادہ امکان ہے کہ ہم اس پر فطری طور پر عمل کریں گے۔‘
دوسروں کو اس نظریہ پر اتنا اعتماد نہیں ہے۔
کیس ویسٹرن ریزرو یونیورسٹی کے قانون کے پروفیسر اور سابق وفاقی پراسیکیوٹر کیون میک مونیگل کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں امریکی نقطہ نظر میں، جس میں قانون لوگوں کی مدد کرنے کا حکم نہیں دے سکتا ہے، کا مطلب ہے کہ بہت سے معاملات میں، لوگ اس کے بجائے فلم بنا سکتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’یہ [فلم کے لیے] بہت متضاد لگتا ہے کیونکہ یہ کسی کے اخلاقی دائرے یا کیا صحیح اور کیا غلط کے تصور کے خلاف ہے۔ ’لیکن امریکی نقطہ نظر بہت انفرادی نوعیت کی ہے۔‘
’یہ اسی قسم کے 'حقوق' کی چیز ہے، جسے آپ لوگوں کے ساتھ یہ کہتے ہوئے دیکھتے ہیں کہ وہ ویکسین نہیں لگانا چاہتے یا ماسک نہیں پہننا چاہتے۔ لوگ نہیں چاہتے کہ قانون انھیں بتائے کہ انھیں کب اچھا شہری بننا چاہیے۔ یہ میرے لیے حیرت انگیز ہے کہ یہ امریکہ میں اس طرح کا ایک عام نقطہ نظر ہے، لیکن یہ ایسا ہی ہے۔‘