آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کووڈ لون فراڈ: برطانیہ میں باؤنس بیک لون سکیم سے فراڈ کے ذریعے ایک کروڑ پاؤنڈ حاصل کرنے والے دو افراد کو 33 برس قید
برطانیہ میں دو افراد کو سات کروڑ پاؤنڈ کی منی لانڈرنگ سکیم چلانے کے جرم میں کل 33 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ ان سات کروڑ پاؤنڈز میں سے ایک کروڑ کووڈ کے حوالے سے دیے گئے حکومتی قرضوں کی رقم تھی۔
اس مہینے کے اوائل میں کنگسٹن کراؤن کورٹ کی جانب سے روس سے تعلق رکھنے والے 38 سالہ آرٹم ٹیرزیان اور لتھوینیا کے 44 سالہ ڈیویس گروچیاٹسکج کو سزا سنائی گئی تھی۔
پولیس کا ماننا ہے کہ باؤنس بیک لون فراڈ سنہ 2020 میں قرضوں کی سکیم شروع ہونے کے بعد سے سب سے بڑا فراڈ ہے۔
پولیس نے دونوں افراد سے 17 ہزار پاؤنڈ برآمد کر لیے ہیں جبکہ بتایا گیا ہے کہ باقی رقم بیرونِ ملک بھیج دی گئی ہے۔ عدالتی حکم کے پیشِ نظر اس مقدمے کی تفصیلات تاخیر سے پیش کی جا رہی ہیں۔
ان دو افراد کو سب سے پہلے سنہ 2018 میں ایک پولیس آپریشن کے نتیجے میں گرفتار کیا گیا تھا۔
نیشنل کرائم ایجنسی اور میٹروپولیٹن پولیس کے پولیس افسران نے نگرانی کے دوران ان افراد کو مشرقی لندن میں موجود فلیٹس میں بڑے تھیلوں میں پیسے لاتے دیکھا گیا تھا، جو لاری پارکس اور سروس سٹیشنز سے اٹھائے گئے تھے۔
این سی اے کا کہنا تھا کہ دونوں افراد اور اس جرائم پیشہ افراد کے نیٹ ورک نے مختلف جعلی کمپنیوں کے نام استعمال کرتے ہوئے بینک اکاؤنٹ کھول رکھے تھے۔
یہ رقم ایک شیل کمپنی سے دوسری میں منتقل کی گئی تھی اور خاصی 'پیچیدہ منتقلیوں' کے بعد انھیں جرمنی، جمہوریہ چیک، متحدہ عرب امارات، ہانگ کانگ اور سنگاپور منتقل کیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سنہ 2018 میں گرفتاری کے بعد ضمانت پر رہائی ملنے پر ان افراد نے سنہ 2020 میں فراڈ کے ذریعے متعدد شیل کمپنیوں کے لیے باؤنس بیک لونز لینا شروع کیے۔
یہ قرضے دراصل حکومت کی جانب سے برطانیہ کی معیشت کو کورونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران سہارا دینے کے لیے دیے جا رہے تھے۔
ان افراد نے ایک وقت میں 50 ہزار پاؤنڈ کی رقم حاصل کی اور کل ملا کر ایک کروڑ کی رقم قرضوں کی صورت میں نکلوائی اور اس میں سے صرف ایک برطانوی بینک سے 32 لاکھ پاؤنڈ حاصل کیے گئے۔
ان دونوں افراد کو سزا سناتے ہوئے ہائی کورٹ کے جج راجیو شیٹی نے کہا کہ ان کی جانب سے کیے گئے فراڈ کے باعث 'حکومتی اور مالیاتی اداروں کو نقصان پہنچا' اور 'ٹیکس ادا کرنے والی برطانوی عوام اس بات پر خاصے نادم ہوں گے کے ان کی محنت کی کمائی سے دیا گیا ٹیکس مجرموں کے ہتھے چڑھ رہا ہے۔'
یہ بھی پڑھیے
'منی لانڈرنگ کا پیچیدہ طریقہ'
کنگسٹن کراؤن کورٹ میں ٹیرزیان کو 17 سال قید جبکہ گروچیاٹسکج کو 16 برس قید کی سزا سنائی گئی۔
آرگنائزڈ کرائم پارٹنرشپ کے اینڈی ٹکنر کہتے ہیں کہ دونوں افراد نے 'ایک پیچیدہ اور بڑے پیمانے پر منی لانڈرنگ کا نظام بنا رکھا تھا۔'
ان کا مزید کہنا تھا کہ 'انھوں نے ایسا سینکڑوں جعلی کمپنیوں کے قیام اور مجرمان کے ایک بین الاقوامی نیٹ ورک سے مدد حاصل کرتے ہوئے کیا۔'
'اس سب کے علاوہ انھوں نے برطانوی عوام کے ایک کروڑ پاؤنڈ بھی حاصل کیے جو سنہ 2020 کے بعد سے شاید اس قرضہ سکیم سے منسلک یہ سب سے بڑا فراڈ ہے۔'
وہ کہتے ہیں کہ 'ان افراد اور ان کے نیٹ ورک نے دیگر مجرمان کو اپنی رقوم چھپانے اور انھیں منتقل کرنے میں مدد فراہم کی۔'
'اس سروس کا خاتمہ برطانیہ اور دنیا بھر میں ایسے مجرمان کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو گا۔'