لندن کے ایک سٹیشن کے باہر کھڑے ہو کر اپنے سی وی بانٹے تو 'ڈریم جاب' ملی اور اب دوسرے نوجوانوں کی مدد کی خواہش

،تصویر کا ذریعہHaider Malik
- مصنف, خدیجہ عارف
- عہدہ, بی بی سی اردو، لندن
- وقت اشاعت
کورونا کی بندشوں کے دوران اگر آپ ملازمت کی تلاش میں ہیں، درخواستیں اور زوم کے ذریعے انٹرویو دے دے کر تھک گئے ہیں اور تمام کوششوں کے باوجود بھی اگر کہیں سے کوئی خوش خبری نہ آئے تو آپ کیا کریں گے؟ ہم میں سے بیشتر افراد یا تو شاید نا امید ہوکر گھر بیٹھ جائیں گے یا پھر جو بھی کام ملے گا کرلیں گے۔
لیکن مشرقی لندن سے تعلق رکھنے والے پاکستانی نژاد 24 سالہ حیدر ملک نے امید کا دامن نہیں چھوڑا اور جب کہیں بات نہیں بنی تو وہ ایک دن مرکزی لندن کے بزنس ہب کہے جانے والے علاقے کینیری وارف کے سٹیشن کے باہر اپنا سی وی لے کر کھڑے ہوگئے۔ اس کے بعد اگلے تین گھنٹوں میں جو ہوا اس نے حیدر ملک کی قسمت بدل دی۔
آج حیدر ملک کے پاس 'اپنی ڈریم جاب' ہے۔ وہ برطانیہ کی سب سے بڑی پراپرٹی کمپنی کینیری وارف گروپس کے ساتھ ٹریژری اسسٹنٹ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ اس واقعے کے تقریباً دو ماہ بعد بھی حیدر ملک کو ملازمت کی پیش کش والے متعدد فون اور ایی میلز آ رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہHaider Malik
سٹیشن کے باہر کھڑے ہوکر ہوا کیا؟
برطانیہ کی مڈل سیکس یونیورسٹی سے بینکنگ اور فائنسس میں گریجوشین کی فرسٹ کلاس ڈگری حاصل کرنے والے حیدر ملک نے دو نومبر کی صبح کینیری وارف سٹیشن کا رخ کیا۔ اپنے ساتھ وہ اپنے سی وی کی متعدد کاپیاں اور ایک پلے کارڈ پر اپنی کوالیفیکیشن، سی وی اور لِنکڈ اِن پروفائل کا کیو آر کوڈ لے کر سٹیشن کے باہر کھڑے ہوگئے۔
حیدر ملک نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا ’میں نے وبا کے دوران جاب کے لیے متعدد انٹرویو دیے۔ سب جگہ اپلائی کرتا اور زوم پر انٹریو بھی ہوئے۔ پہلی بات تو زوم پر انٹریو دیتے ہوئے آپ اپنی پوری صلاحیت اور شخصیت کا اظہار نہیں کرسکتے ہیں اور دوسری بات یہ کمپنیاں انٹرویو لیتی اور غائب ہوجاتی تھیں۔‘
وہ بتاتے ہیں ’میں تب بھی پوری محنت اور لگن سے انٹرویو دیتا لیکن کہیں سے بھی جواب نہیں آتا تھا۔ میں کمپنیوں کو ای میل کرتا اور فون کرتا تو وہ کہتے تھے ’ہم آپ سے رابطہ کریں گے'، لیکن کوئی جواب نہیں آتا تھا۔‘
’حالات یہ ہوگئے تھے کہ میں مایوس ہوگیا تھا لیکن میرے والد نے ہمیشہ کہا ہے کہ مایوس نہ ہوں، محنت کروں۔ بس مجھے وہ بات یاد تھی اور میں نے سوچا کہ مجھے کچھ تو کرنا پڑے گا۔‘
’میں نے سٹیشن کے باہر کھڑے ہوکر نوکری تلاش کرنے کے اپنے منصوبے کے بارے میں اپنے والدین اور گھر والوں کو بتایا، شروع میں انہیں تھوڑی تشویش تھی لیکن میرے والدین نے مجھے پوری طرح سے سپورٹ کیا۔ میرے والد ہمیشہ میری حوصلہ افزائی کرتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ یہ بھی کر کے دیکھ لو۔ کوئی ہرج نہیں ہے۔'
حیدر دو نومبر کو گاڑی چلا کر تقریباً ساڑھے چھ بجے کینیری وارف سٹیشن کے باہر جاکر کھڑے ہوگئے۔ وہ چاہتے تھے کہ وہ صبح صبح آفس جانے والے لوگوں کی توجہ حاصل کر سکیں۔
’مجھے نہیں معلوم تھا کہ وہاں کیا ہوگا۔ میں صرف اتنا چاہتا تھا کہ کوئی میرا سی وی پڑھے یا نہ پڑھے، کم از کم کوئی مجھ سے بات تو کرے۔ وبا کے نتیجے میں نافذ ہونے والے لاک ڈاؤن کی وجہ سے میں انسانی رابطوں اور گفتگو کو ترس گيا تھا۔
’مجھے معلوم تھا کہ کسی کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ وہ میرا سی وی پڑھے یا مجھ سے میری کوالیفیکیشن کے بارے میں پوچھے، تو میں نے لِنکڈ اِن پر اپنے پروفائل کا کیو آر کوڈ بھی آویزاں کیا تاکہ لوگ اسے سکین کریں اور چلتے چلتے میری پروفائل دیکھ لیں۔
’میں بس یہ چاہتا تھا کہ مجھے اس بارے میں صلاح دے دیں کہ جاب کے لیے اپلائی کیسے کرتے ہیں یا ہوسکتا ہے کسی کمپنی کا مالک وہاں سے گزرے اور مجھے چھوٹی موٹی نوکری دے دے‘۔
حیدر مزید بتاتے ہیں ’پہلے میں بس وہاں کھڑا تھا، لوگ مجھے دیکھتے اور آگے گزر جاتے، پھر میں نے سوچا اپنا سی وی نکالتا ہوں اور لوگوں کو دیتا ہوں تاکہ انہیں لگے کہ مجھ سے بات کی جاسکتی ہے۔ سی وی دیتے وقت میں ان کو گڈ مارننگ، اور ان کا حال پوچھ رہا تھا، اس امید میں کہ لوگ مجھ سے بات کریں‘۔
’تھوڑی دیر میں نے دیکھا کہ کچھ لوگ مجھ سے بات کرنے کے لیے رکے اور بعض نے مجھے اپنا بزنس کارڈ بھی دیا۔‘
پھر حیدر کی ملاقات ایمینول سے ہوئی
’جس شخص کی وجہ سے لِنکڈ اِن پر میرا سی وی متعدد کمپنیوں نے پڑھا اور مجھ سے رابطہ کیا اس شخص کا نام ہے ایمینول۔ انہوں نے ہی لنکڈ اِن پر میرا سی وی شئیر کیا اور میری فوٹو بھی شئیر کی‘۔
حیدر کو یاد ہے کہ ایمینول نے ان سے کہا تھا ’چند برسوں قبل میں بھی کچھ ایسا ہی کرنا چاہتا تھا لیکن میرے اندر ہمت نہیں تھی۔ مجھے خوشی ہے تم یہ کر رہے رہو۔ گُڈ لک‘۔
ایمینول نے حیدر کی سٹیشن کے باہر کھڑے ہوئے فوٹو اور سی وی لنکڈ اِن پر شئیر کیا اور اس کے بعد حیدر کی زندگی بدل گئی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تین گھنٹوں کے اندر اندر پہلا انٹریو
حیدر بتاتے ہیں کہ اسی دوران ’کینیری وارف گروپ کے سی ای او شوبی خان بھی وہاں سے گزرے۔ انھوں نے مجھ سے بات کی۔ اس وقت مجھے نہیں معلوم تھا کہ وہ کون ہیں۔ انھوں نے مجھ سے کہا کہ میں آپ کا سی وی لے کر جا رہا ہوں اور میں تم سے رابطے میں رہوں گا۔
’دفتر پہنچ کر انھوں نے میرا سی وی کمپنی کے ڈائریکٹر کو دیا اور اسی صبح ساڑھے نو بجے میرے پاس ان کا میسیج آیا کہ کیا میں ایک گھنٹے میں ان کے دفتر پہنچ سکتا ہوں۔ ٹیکسٹ میسیج پڑھتے ہی میں نے اپنا سامان بیگ میں رکھا اور میں اپنی گاڑی کی طرف گیا۔ میں نے گاڑی میں بیٹھ کر کمپنی کے بارے میں تھوڑی ریسرچ کی اور ایک گھنٹے کے اندر، میں کینیری وارف کی بلڈنگ کے اندر بیٹھا تھا جہاں سے تقریباً میں پورے لندن کو دیکھ سکتا تھا۔ میرا انٹرویو ہوا اور انھوں نے مجھے جمعے کے دن آنے کے لیے کہا۔
اس کے بعد جب ’میں اپنے والدین کو فون کرنے کے لیے گاڑی میں بیٹھا، میں نے دیکھا میرے فون میں دس مِسڈ کالز ہیں جو کہ مختلف کمپنیوں سے تھیں جو مجھے جاب آفر کر رہی تھیں اور میرا لنکڈ اِن پروفائل جاب آفرز اور مثبت پیغامات سے بھرا پڑا تھا‘۔
حیدر بتاتے ہیں کہ اسی کمپنی میں ’جمعے کو میرا دوسرا انٹرویو ہوا، مجھے میری ڈریم جاب کی پیشکش ہوئی جسے میں نے قبول کرلیا‘۔
حیدر بتاتے ہیں کہ انھوں نے ہر اس کمپنی سے بات کی جنہوں نے انہیں ملازمت کی پشکش کی تھی۔ ’میں نے ان کے نمبر نوٹ کیے اور ان سے کہا کہ دیگر نوجوانوں کو ملازمت دلانا چاہتا ہوں اس لیے ان سے رابطے میں رہوں گا‘۔

،تصویر کا ذریعہHaider Malik
حیدر کی فوٹو وائرل، اور خاندان والوں کا ردعمل
حیدر ملک کی جاب حاصل کرنے کی فلموں جیسے کہانی راتوں رات وائرل ہوگئی اور سٹیشن کے باہر اپنا سی وی لیے کھڑے ہوئے حیدر کی فوٹو نہ صرف سوشل میڈیا بلکہ ذرائع ابلاغ میں بھی چھائی رہی۔
حیدر بتاتے ہیں ’میں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ سٹیشن کے باہر کھڑے ہوکر مجھے ملازمت ملے گی اور یہ تو بالکل بھی نہیں سوچا تھا کہ میری کہانی اتنے لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے گی۔
یہ بھی پڑھیے
’میں بہت خوش ہوں کہ میرے پاس اپنی پسندیدہ ملازمت ہے اور لوگ مجھ سے بات کرنا چاہتے ہیں لیکن مجھ سے زیادہ میرے والدین اور بہن بھائی خوش ہیں، وہ میرے بارے میں ہر اخبار میں شائع ہوئی خبر پڑھتے ہیں۔ میرے والد اخبار خریدتے ہیں اور میرے بارے میں چھپی خبر کی فوٹو کھینچ کر لندن اور پاکستان میں میرے رشتہ داروں کو بھیجتے ہیں‘۔

،تصویر کا ذریعہHaider Malik
حیدر ملک کا پس منظر
حیدر ملک کا تعلق مشرقی لندن کے علاقے اِلفرڈ سے ہے، جہاں وہ پیدا ہوئے اور وہاں کے سیون کنگز ہائی سکول میں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ حیدر کے والدین کراچی سے لندن آئے تھے۔ حیدر کا کہنا ہے کہ ان کے والدین گھر پر پنجابی اور اردو بولتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ حیدر بھی اردو سمجھتے اور بولتے ہیں۔
حیدر کے والد ٹیکسی ڈرائیور تھے اور والدہ ہاؤس وائف۔ حالانکہ ان کے والدین بہت کم عمر میں شادی کے بعد لندن آگئے تھے لیکن ان کے گھر میں 'سو فیصد پاکستانی کلچر ہے۔ میں جتنا سالن روٹی کھاتا ہوں اتنا ہی فش اینڈ چپس بھی کھاتا ہوں'۔
حیدر اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے ہیں۔ ان کے چار بھائی اور ایک بہن ہے۔ حیدر کا کہنا ہے کہ سب سے چھوٹا ہونے کا یہ فائدہ تھا کہ انہیں بہت مجبت اور پیار ملا، لیکن ’میں بچپن سے بہت محنتی تھا اور ہمیشہ سے پڑھائی اور کرکٹ کھیلنے کا بے حد شوق تھا۔
'سکول میں زندگی بہت اچھی تھی۔ میرے بہت سارے دوست تھے اور میں پڑھائی اور کھیل دونوں میں بہت تیز تھا۔ سکول کے بعد میں نے فائنانس اور بینکنگ کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے مڈل سیکس یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔‘

،تصویر کا ذریعہHaider Malik
کرکٹ کا شوق، انڈیا اور پاکستان کی ٹیم کے ساتھ ٹریننگ
یونیورسٹی کے دوران کرکٹ کھیلنے اور آسٹریلیا میں کرکٹ کی ٹریننگ حاصل کرنے کے لیے حیدر نے گریجویشن کے دوران دو سال کی بریک لی۔
حیدر سکول میں کرکٹ کھیلتے تھے اور انہوں نے کاؤنٹی لیول کی کرکٹ کھیلی ہے۔ ان کا خواب تھا کہ وہ ایک دن انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کا حصہ بنیں گے اور عالمی سطح پر کرکٹ کھیلیں گے۔
حیدر بتاتے ہیں ’میں نے سیمی پروفیشنل لیول کی کرکٹ کھیلی ہے۔ میں نے پاکستان، انڈیا، انگلینڈ، اور آسٹریلیا کی ٹیموں کے ساتھ ٹریننگ حاصل کی ہے۔ میں ایک فاسٹ بالر ہوں۔ اکیس برس کی عمر میں چار ماہ کے لیے آسٹریلیا جا کر رہا ہوں اور وہاں میں نے آسٹریلیا کے ایڈیلیڈ شہر میں ڈیرین لی کرکٹ اکیڈمی میں تربیت حاصل کی اور انگلینڈ کے بالر جیم اینڈرسن میرے پسندید کھلاڑی ہیں۔‘
تو کیا وہ اب بھی انگلینڈ کی ٹیم میں شامل ہوسکتے ہیں؟ اس بارے میں حیدر کا کہنا ہے کہ اب وہ چوبیس برس کے ہوگئے ہیں تو اس کے امکانات کم ہیں لیکن وہ اب بھی کرکٹ کھیلتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہHaider Malik
وبا کے دوران ملازمت حاصل کرنے میں مشکلات
گریجوایشن کرنے سے پہلے حیدر نے لندن کی میٹرو بینک کے ساتھ اٹھارہ ماہ تک ملازمت کی۔ اور تعلیم حاصل کرنے کے بعد جولائی 2021 میں وہ این ایچ ایس کے ساتھ کام کر رہے تھے۔
حیدر بتاتے ہیں کہ 2020 میں انھوں نے ملازمت کے لیے درخواست دینی شروع کر دی تھی لیکن ان کا کہنا ہے ’یہ پورا عمل تھکا دینے والا تھا۔ انٹرویو تک پہنچنے سے پہلے آپ کو کم از پانچ مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ آپ کا کسی انسان سے کوئی رابطہ نہیں ہو رہا ہوتا۔ مجھے اس بات سے بہت الجھن ہوتی تھی۔ سب کچھ یا تو ای میل پر ہورہا تھا اور اگر انٹرویو تک بات پہنچنتی تو وہ بھی زوم پر ہی ہو رہا تھا۔ زوم پر انٹریو میں کمپنیاں 30 لوگوں کو ایک ساتھ انٹرویو کرتی تھیں جس میں آپ کو اپنی صلاحیت کا اظہار کرنے کا نہ کے برابر موقع ملتا تھا۔
’زوم پر ون ٹو ون انٹرویو کے لیے صرف ایک منٹ کا وقت دیا جاتا تھا جو کہ بہت کم تھا۔ بعد میں، میں کمپنیوں کو فون کرتا تھا اور بار بار فون کرتا رہتا تھا لیکن وہاں سے کوئی مثبت جواب نہیں ملتا تھا‘۔
حیدر کا کہنا ہے کہ ’فیس ٹو فیس انٹرویو میں آپ کو یہ موقع ملتا ہے کہ اپنے شخصیت کو پیش کرتے ہیں کہ آپ بھی گریجویٹ ہیں لیکن باقی امیدواروں سے کیسے مختلف ہیں، لیکن وبا نے ہم جیسے نوجوانوں سے وہ موقع چھین لیا ہے‘۔
ملازمت کے حصول کا عمل بہت پیچیدہ ہے؟
حیدر نے جاب حاصل کرنے کے لیے جو کیا اس کے لیے بہت ہمت اور اعتماد کی ضرورت ہے۔ حیدر کا کہنا ہے کہ اگر ملازمت حاصل کرنے کا عمل سیدھا سادہ اور آسان ہوتا تو ان کو یہ کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
ان کا کہنا ہے ’میری کہانی یہ حقیقت بیان کرتی ہے کہ ملازمت کا نظام فریش گریجویٹس کے لیے نہیں بنا ہے۔ ہم تعلیم حاصل کرنے کے لیے قرض لیتے ہیں لیکن سسٹم کی خامیوں کی وجہ سے ہم وہ ملازمت قبول کرلیتے ہیں جو ہمیں سب سے پہلے ملتی ہے۔ ہم اپنی صلاحیت اور قابلیت کے اعتبار سے ملازمت کا انتخاب کریں ایسا بہت کم ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اعلیٰ تعلیم حاصل کیے ہوئے لوگ بھی عام سی نوکریاں کر رہے ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا ہے کہ ’میری کہانی سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو ملازمت تب ملے گی جب آپ کسی کو جانتے ہیں۔ آج بھی میرے پاس متعدد ملازمت کی پیشکش آتی ہیں۔ جن کمپنیوں کو میں نے چھ ماہ پہلے انٹرویو دیے تھے وہ مجھے اب کہہ رہی ہیں کہ وہ مجھے جاب دینا چاہتی ہیں، کیوں؟ کیونکہ اب انہیں معلوم ہے کہ میں کون ہوں؟‘
نوجوانوں کی مدد کرنا چاہتا ہوں
حیدر کا کہنا ہے کہ وبا نے ان جیسے بہت سارے نوجوانوں کو نہ صرف انسانوں سے دور رکھا بلکہ ملازمت کے شعبے میں ان کو اپنی صلاحیت کا بھرپور مظاہرہ کرنے سے بھی روکا ہے۔
’میرے جیسے متعدد ایسے نئے گریجویٹس ہوں گے جو زوم پر انٹرویو دے رہے ہوں گے اور مایوسی کا شکار ہوں گیں۔ اب جب میں پورے عمل کو سمجھ گیا ہوں۔ مجھے معلوم ہے کہ کمپنیوں اور امیدواروں کے درمیان ایک براہ راست رابطہ یا لنک کی اشد ضرورت ہے تو میں چاہتا ہوں کہ میرے جن کمپنیوں سے روابط ہیں یا جنہوں نے مجھے ملازمت کی آفر دی ہے میں ان کا رابطہ دوسرے نوجوانوں سے کراؤں۔
’میں چاہتا ہوں کہ میں کسی طرح یہ کام کر پاؤں کہ ملازمت کا عمل آسان ہو، جاب کے لیے زیادہ سے زیادہ ایک انٹریو ہو، کمپنی اور امیدواروں کے درمیان ایک سیدھا رشتہ ہو۔ میرا یہ منصوبہ ہے کہ میں اپنی ملازمت کے ساتھ ساتھ اس عمل کو آسان بنانے میں ایک اہم کردار ادا کروں۔ ہوسکتا ہے کہ اس کے لیے میں ملازمت میں مدد فراہم کرنے والی اپنی ایک کمپنی کھولوں۔ کیونکہ وبا ہو یا نہ ہو، آج بھی برطانیہ جیسے ملک میں سٹوڈنٹس کو اس طرح کی ملازمتیں نہیں مل رہی ہیں جن کا انہیں یونیورسٹی میں خواب دکھایا جاتا ہے‘۔




















