آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
دفتر خارجہ کی سینیئر افسر کے انکشافات: ’کابل سے انخلا کے وقت سیاست ترجیح اول تھی، جو ذہنی صدمے اور مشکلات کا باعث بنی‘
برطانوی دفتر خارجہ کی ایک سینیئر اہلکار کے مطابق برطانیہ نے کابل سے جس انداز سے انخلا کیا ہے وہ ’ناقابل معافی‘ ہے۔
سرکاری خاتون افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کے پروگرام نیوز نائٹ میں بتایا کہ جس طرح برطانوی فوجیوں کو افغانستان سے نکالا گیا ہے وہ ’ذہنی صدمے اور مشکلات‘ کا باعث بنا۔
خاتون افسر نے کہا جانیں بچانے کے بجائے وزرا کی توجہ میڈیا کوریج اور سیاسی نقصانات پر تھی۔
واضح رہے کہ برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ افغانستان سے 15 ہزار کے عملے کو نکالنے کے لیے انھوں نے ’انتھک محنت‘ کی تھی۔
دفتر خارجہ کی افسر نے بتایا کہ انھیں یہ بتانے میں بھی مشکل پیش آ رہی ہے کہ وہاں صورتحال کیسی تھی: ’کیونکہ یہ صورتحال بہت ہی تکلیف دہ تھی۔ یہ اس وجہ سے بھی مشکل تھا کہ لوگ اس پر یقین نہیں کریں گے۔ یہ ناقابل معافی ہے، بس میں یہی کہہ سکتی ہوں۔‘
انھوں نے مزید بتایا کہ بحران پر قابو پانے کے بجائے پورا عمل ہی سیاسی نقصانات سے بچنے کے لیے کیا گیا، جو ان کے لیے بہت تکلیف دہ اور انتہائی مشکل صورتحال تھی۔
’ہزاروں ای میلز تک نہیں پڑھی گئیں‘
'عام طور پر ایک دن میں کسی بھی وقت تقریباً پانچ ہزار مدد کی درخواست کی ایسی ای میلز ان باکس میں موجود ہوتی تھیں اور ان میں سے ہزاروں تو کبھی پڑھی ہی نہیں گئیں جن میں افغان ارکان پارلیمنٹ کے پیغامات بھی شامل تھے۔'
کابل سے ہنگامی انخلا کے دوران کس افغان شہری کو نکالا جائے اور کس کو نہیں، یہ فیصلہ کسی سسٹم کے تحت نہیں بلکہ اپنی من مانی سے کیا گیا اور ہزاروں افغان شہریوں کی جانب سے مدد کی درخواست کی ای میلز کو پڑھا ہی نہیں گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دفتر خارجہ کے فارن اینڈ کامن ویلتھ ڈویلپمنٹ آفس کے سابق سینیئر افسر رافائیل مارشل نے دفتر خارجہ کی کمیٹی کو فراہم کیے جانے والے تحریری شواہد میں بتایا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت آنے کے بعد برطانوی دفتر خارجہ کی انخلا کی حکمت عملی غیر فعال اور افراتفری کا شکار تھی۔
رافائیل مارشل کے مطابق اس دوران اس وقت کے برطانوی وزیرِ خارجہ ڈومینیک راب کی فیصلہ سازی سست روی کا شکار رہی۔
’اپنے پورے کریئر میں اتنا برا آپریشن نہیں دیکھا‘
اعلیٰ افسر نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اتنا برا آپریشن تھا کہ انھوں نے اپنے پورے کریئر میں ایسا نہیں دیکھا۔
ان کے مطابق اس سے براہ راست انتہائی زیادہ ذہنی صدمہ اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور جس انداز سے یہ آپریشن کیا گیا، اس سے ممکنہ طور پر اس آپریشن میں کئی جانیں بھی ضائع ہوئیں۔
دوسری جانب سابق وزیرِ خارجہ ڈومینیک راب کے قریبی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ افغانستان سے ہنگامی انخلا کے دوران اصل مسئلہ تیز رفتار فیصلہ سازی نہیں بلکہ لوگوں کی شناخت کی تصدیق اور ایئرپورٹ تک محفوظ راستے کی فراہمی تھا۔
'پیچھے رہ جانے والوں کو طالبان قتل کر رہے ہیں'
واضح رہے کہ کابل پر طالبان کے کنٹرول کے بعد افغانستان سے ہنگامی انخلا کے دوران برطانوی حکومت نے تقریباً 15 ہزار افراد کو فضائی راستے سے ملک سے باہر نکالنے میں مدد دی۔ ان میں پانچ ہزار برطانوی شہری، آٹھ ہزار افغان شہری اور دو ہزار بچے شامل تھے۔
لیکن رافائیل مارشل کی جانب سے دی جانے والی تحریری شہادت کے مطابق برطانوی حکومت کے ساتھ کام کرنے والےافغان شہری جنھوں نے انخلا کی درخواست کی، ان کی تعداد تقریبا ڈیڑھ لاکھ تھی۔ رافائیل کے مطابق ان افغان شہریوں کی جان کو برطانوی حکومت کے ساتھ کام کرنے کی وجہ سے خطرہ لاحق تھا، لیکن ان میں سے پانچ فیصد سے بھی کم کی درخواست قبول ہو سکی۔
رافائیل نے دعوی کیا ہے کہ ’اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ ان میں سے بہت سے افراد جنھیں پیچھے چھوڑ دیا گیا، اب طالبان کے ہاتھوں قتل ہو رہے ہیں۔‘
’سٹاف، اہلیت اور رابطوں کا فقدان‘
رافائیل مارشل کے مطابق انخلا کے دوران محکمہ خارجہ کے ہنگامی سینٹر میں نا صرف سٹاف کی شدید کمی تھی بلکہ اہلیت اور وزارت دفاع کے ساتھ رابطوں کا بھی فقدان تھا۔
ان کے مطابق اس دوران وزیرِ خارجہ ڈومینیک راب نے ہنگامی انخلا سینٹر کی جانب سے بھیجے جانے والے پیغامات کا جواب دینے میں گھنٹوں لگائے اور انھیں مکمل طور پر اصل صورت حال کی سمجھ نہیں تھی۔
برطانوی انخلا کے راز افشا کرنے والے سابق افسر کے الزامات کیا ہیں؟
- انخلا کی درخواستوں سے نمٹنے والے سٹاف میں سے کسی نے افغانستان میں کام نہیں کیا تھا اور نہ ہی ان کو وہاں کے حالات کا زیادہ علم تھا
- ہنگامی انخلا سینٹر میں موجود سٹاف کو کوئی افغان زبان نہیں آتی تھی جس کی وجہ سے افغان درخواست گزاروں سے انگریزی زبان میں بات کی جاتی تھی
- انخلا کے دوران کس افغان شہری کی مدد کی جائے گی، یہ فیصلہ اپنی من مانی سے کیا گیا، اور ہزاروں درخواست گزاروں کی ای میلز پڑھی ہی نہیں گئیں
- ہنگامی انخلا سینٹر کا آئی ٹی کا نظام بھی غیر فعال تھا، حتی کہ ایک کمپیوٹر کو مدد کے لیے لائے جانے والے آٹھ فوجی استعمال کر رہے تھے
- وزیر خارجہ ڈومینیک راب کی فیصلہ سازی سست روی کا شکار رہی کیوں کہ وہ اصل صورت حال کو سمجھ ہی نہیں پائے
’کئی افغان اراکین پارلیمان کے مدد کے پیغامات بھی نہیں دیکھے گئے‘
واضح رہے کہ اگست میں کابل پر طالبان کی پیش قدمی کے وقت برطانوی حکومت نے انخلا کی دو سکیمز متعارف کروا رکھی تھیں۔ ان میں سے ایک کے تحت ایسے افغان شہریوں کو نکالنا تھا جو براہ راست برطانوی حکومت کے ساتھ کام کر رہے تھے جب کہ دوسری سکیم کے تحت ایسے افغان شہریوں کی شناخت اور انخلا میں مدد کرنا تھی جن کی زندگی کو برطانوی حکومت کے ساتھ تعاون کی وجہ سے خطرہ لاحق ہو سکتا تھا۔
رافائیل مارشل ایک ایسی ٹیم کے ساتھ کام کر رہے تھے جنھیں افغان سپیشل کیسز سونپے گئے تھے۔ اس گروپ میں افغان فوجی، سیاست دان، صحافی، بیوروکریٹس، سماجی کارکن، جج اور نجی محافظ شامل تھے جو بلا واسطہ برطانوی حکومت کے لیے ذیلی ٹھیکیداروں کے ذریعے کام کر چکے تھے۔
رافائیل مارشل کے مطابق جیسے ہی طالبان نے کابل پر پیش قدمی شروع کی، ان افغان شہریوں کی جانب سے ملک سے فرار میں مدد کے پیغامات کا تانتا بندھ گیا۔
’عام طور پر ایک دن میں کسی بھی وقت تقریباً مدد کی درخواست کی ایسی پانچ ہزار ای میلز ان باکس میں موجود ہوتی تھیں اور ان میں سے ہزاروں تو کبھی پڑھی ہی نہیں گئیں جن میں افغان رکن پارلیمان کے پیغامات بھی شامل تھے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’جس عمل کے تحت ان درخواستوں میں ترجیحی بنیاد طے کرنا تھی وہ غیر فعال تھا کیوں کہ حکومت کی جانب سے طے کیا جانے والا معیار غیر مدد گار اور مبہم تھا، جس نے کافی الجھن پیدا کی۔‘
یہ بھی پڑھیے
’نظام افرا تفری کا شکار تھا‘
رافائیل مارشل کہتے ہیں کہ ہنگامی انخلا سینٹر میں موجود عملہ جو پہلے محکمہ برائے بین الاقوامی ترقی کے لیے کام کرتا تھا فارن، کامن ویلتھ، ڈویلپمنٹ آفس کے کمپیوٹرز تک ہی رسائی نہیں حاصل کر سکا کیوں کہ آئی ٹی سسٹم کا نظام مربوط نہیں تھا۔
ان کے مطابق جب فوجیوں کو مدد کے لیے سینٹر لایا گیا تو ان میں سے کئی نے پہلے وہ کمپیوٹر سسٹم استعمال ہی نہیں کیا ہوا تھا جس کے باعث بہت غلطیاں ہوئیں۔ ’ایک وقت میں آٹھ فوجی ایک ہی کمپیوٹر استعمال کر رہے تھے۔‘
’کسی کو افغان زبان نہیں آتی تھی‘
رافائیل مارشل کے مطابق افغان انخلا سینٹر میں موجود عملہ کسی بھی افغان زبان کے علم سے نابلد تھا، جس کی وجہ سے درخواست گزار افغان شہریوں سے صرف انگریزی زبان میں ہی بات کی جاتی تھی۔ ’ان میں سے کسی کو پشتو یا دری زبان نہیں آتی تھی۔‘
’میں نہیں سمجھتا کہ اس خصوصی افغان انخلا ٹیم میں سے کسی نے بھی کبھی افغانستان میں کام کیا تھا یا اسے افغانستان کی تفصیلی معلومات تھیں۔ ایسے میں جب آپ کو کہا جائے کہ آپ کسی کی زندگی اور موت کا فیصلہ کریں، جس کے متعلق آپ کو کچھ پتہ ہی نہیں تو یہ کافی خوفزدہ کرنے والا عمل ہے۔‘
رافائیل کے مطابق ہنگامی سینٹر میں موجود عملے کو کابل ایئرپورٹ پر اصل صورت حال کا بھی درست علم نہیں تھا اور نا ہی وہ جانتے تھے کہ انخلا میں جلد بازی کی اہمیت کیا ہے۔
اس رپورٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ ہنگامی سینٹر کی جانب سے وزیر خارجہ ڈومینیک راب کو مشکل کیسز پر فیصلوں کے لیے کئی پیغامات بھیجے گئے، لیکن ان کا جواب دینے میں گھنٹوں لگائے گئے کیوں کہ 'سیکرٹری کے مطابق جب تک وہ تمام کیسز ایک بہتر طور پر مرتب ٹیبل پر نہیں دیکھ لیتے وہ انفرادی کیس پر فیصلہ نہیں کر سکتے۔‘
رافائیل مارشل کہتے ہیں کہ وزیر خارجہ کی جانب سے ایسے بیان کا یہی مطلب ہے کہ انھیں اصل صورت حال اور زمینی حقائق کی سمجھ ہی نہیں تھی۔
’اصل مسئلہ شناخت کی تصدیق تھا، نا کہ تیز رفتار فیصلہ سازی‘
ان الزامات کے جواب میں ڈومینیک راب کے قریبی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم نے تقریباً پانچ سو خصوصی کیسز کو نکالنے میں مدد دی، جن میں صحافی اور خواتین سماجی کارکن شامل تھیں۔‘
’اس وقت اصل مسئلہ فیصلہ سازی کی رفتار نہیں تھی بلکہ انخلا کے دوران افغان شہریوں کی شناخت کی تصدیق اور انھیں ایئرپورٹ تک محفوظ راستہ فراہم کرنا تھا۔ اس تمام عمل کے دوران ہمارا فوکس صرف اور صرف انسانی زندگیاں بچانے پر تھا۔‘
برطانوی کمیٹی برائے خارجہ امور کے چیئرمین ٹام ٹگنڈھاٹ کے مطابق اب تک موصول ہونے والی شہادت ’عدم دلچسپی اور انسانیت پر نوکر شاہی کو ترجیح دینے کی پالیسی کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ دفتر خارجہ کی قیادت پر سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔‘
برطانوی حکومت کے ترجمان نے ان الزامات کے جواب میں کہا ہے کہ دفتر خارجہ اور فارن، کامن ویلتھ، ڈویلپمنٹ آفس کے تقریباً ایک ہزار عملے نے انتھک محنت سے دو ہفتے کے دوران افغانستان سے پندرہ ہزار افراد کے انخلا کو ممکن بنایا۔
’ہمیں افسوس ہے کہ ہم ان تمام افراد کے انخلا کو یقینی نہیں بنا سکے جن کی ہم مدد کرنا چاہتے تھے، لیکن ان کے ساتھ کیا جانے والا وعدہ ابھی بھی قائم ہے۔‘
حکومتی ترجمان کے مطابق برطانیہ اب بھی کئی افغان شہریوں کے انخلا میں مدد دینے کے لیے سرگرم ہے اور تین ہزار سے زیادہ افراد کو افغانستان سے نکلنے میں مدد فراہم کر چکا ہے۔