ضیا چشتی: ستارہ امتیاز حاصل کرنے والے پاکستانی امریکی جن کی سابقہ ساتھی نے امریکہ میں جنسی تشدد کا الزام لگایا

،تصویر کا ذریعہCourtesy Afiniti
2018 میں ستارہ امتیاز حاصل کرنے والے پاکستانی نژاد امریکی کاروباری شخصیت ضیا چشتی اپنی ایک سابقہ ساتھی کی جانب سے جنسی ہراسانی اور تشدد کے سنگین الزامات کے بعد اپنی کمپنی افینیٹی سے مستعفی ہو گئے ہیں۔
گذشتہ منگل کو افینیٹی کے لیے ماضی میں کام کرنے والی 27 سالہ ٹاٹانیا سپوٹس ووڈ نے امریکی کانگریس کی ہاؤس جوڈیشری کمیٹی کے سامنے الزام لگایا تھا کہ ضیا چشتی نے 2017 میں برازیل میں ایک کاروباری دورے کے دوران ٹاٹیانا پر دوران سیکس تشدد کیا اور کہا کہ 'انھیں (ٹاٹیانا کو) 13 برس کی ہی عمر میں ضیا کے ساتھ سیکس کر لینا چاہیے تھا۔'
خبر رساں ادارے فانینشل ٹائمز کے مطابق برمودا سے ضیا چشتی کی کمپنی کی جانب سے بیان جاری کیا گیا کہ انہوں نے بطور چیئرمین، چیف ایگزیکٹیو آفیسر اور ڈائریکٹر استعفی دے دیا ہے لیکن وہ اپنے اوپر عائد کیے گئے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔
کمپنی کے سرمایہ کاروں کی جانب سے یہ الزامات سامنے آنے کے بعد گہری تشویش کا اظہار کیا گیا تھا اور سوئس کمپنی جی اے ایم نے ان الزامات پر غیر جانب دار انکوائری کا مطالبہ کیا تھا۔
ان الزامات کے سامنے آنے کے بعد سابق برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے بھی ضیا چشتی کی کمپنی افینیٹی سے استعفی دے دیا تھا جہاں وہ 2019 سے ایڈوائزری بورڈ کے چئیرپرسن کے عہدے پر فائز تھے۔
کولمبیا یونیورسٹی میں قانون کی تعلیم حاصل کرنے والی ٹاٹیانا سپوٹس ووڈ کے بیان کے بعد سابق برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کی جانب سے پیغام سامنے آیا ہے کہ انھیں کانگریس کو دیے گئے بیان سے قبل ان الزامات کے بارے میں 'قطعی علم نہیں تھا' اور اب وہ فوری طور پر کمپنی سے مستعفی ہو رہے رہیں۔
افینیٹی میں برطانوی شاہی خاندان سے منسلک، شہزادہ اینڈریو کی بیٹی شہزادی بیٹریس بھی اعلی عہدے پر فائز ہیں تاہم ان کی جانب سے ابھی تک کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔
افینیٹی کی جانب سے ٹاٹیانا سپوٹس ووڈ کی جانب سے لگائے گئے ان الزامات کے بعد رد عمل میں اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں مصنوعی ذہانت کے شعبے سے منسلک کمپنی کا کہنا تھا کہ وہ اس نوعیت کے الزامات کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
'افینیٹی نے ان الزامات کی خود مختارانہ تحقیقات کی تھیں جو اس نتیجے پر پہنچی تھیں کہ انھوں نے ثالثی کے جس فیصلے کا حوالہ یہ دیا ہے وہ غلط ہے اور افینیٹی کے سی ای او ضیا چشتی ان الزامات کی بھرپور تردید کرتے ہیں۔'
افینیٹی نے ڈیوڈ کیمرون کے استعفی پر بھی کہا کہ کمپنی ان کے فیصلے کا احترام کرتی ہے اور وہ ان کی خدمات کے بہت شکر گزار ہیں۔
ٹاٹیانا سپوٹس ووڈ نے کانگریس کمیٹی کو کیا بتایا؟

،تصویر کا ذریعہCourtesy House Judiciary Committee
ہاؤس کانگریس کمیٹی کی جانب سے جاری کی گئی آٹھ منٹ طویل ویڈیو میں ٹاٹیانا سپوٹس ووڈ بتاتی ہیں کہ وہ 12 یا 13 برس کی تھیں جب ان کی ضیا چشتی سے ملاقات ہوئی جو ان کے والد کے ساتھی اور دوست تھے۔
ٹاٹیانا اپنے بیان میں کہتی ہیں کہ 2016 میں ضیا چشتی نے انھیں افینیٹی میں شمولیت اختیار کرنے کے لیے نوکری کی آفر کی اور اگلے 18 ماہ میں مسلسل ان پر سیکس کرنے کے لیے دباؤ ڈالا اور ٹاٹیانا کی جانب سے منع کرنے پر انھیں دیگر عملے کے سامنے بے عزت کیا۔
ٹاٹیانا نے اپنے ساتھ ہونے والے متعدد واقعات کا ذکر کیا جس میں ضیا بار بار ان پر جنسی تعلق قائم کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے تھے۔
برازیل کے واقعے کے بارے میں ذکر کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ نوکری کھونے کے خطرے کے باعث وہ بہت پریشان تھیں اور بالآخر جب ضیا کے کہنے پر وہ ان کے ہوٹل کے کمرے گئیں تو ضیا نے دوران سیکس ان کو تشدد کا نشانہ بنایا۔
ٹاٹیانا نے کانگریس کمیٹی کو دیے گئے اپنے بیان کے آخر میں کہا کہ انھیں بہت ڈر ہے کہ ان کی جانب سے آواز اٹھانے پر ان کے ساتھ کیا ہوگا۔
ضیا چشتی کون ہیں؟
ضیا چشتی کی پیدائش 1971 میں امریکی ریاست 'مین' میں ہوئی جہاں ان کا پیدائشی نام ولسن لئیر رکھا گیا۔ تین سال بعد ان کے والد، جو کہ امریکی تھے، کہ انتقال کے بعد ان کی والدہ انھیں لے کر واپس پاکستان لوٹ گئیں جہاں انھوں نے لاہور میں سکونت اختیار کی۔
لاہور میں ابتدائی تعلیم کے بعد ضیا چشتی نے امریکہ کی کولمیبا یونی ورسٹی اور سٹین فورڈ یونی ورسٹی سے اعلی تعلیم حاصل کی ہے اور اپنے ایم بی اے کے دوران انھوں نے دانتوں کو سیدھا کرنے کا آلہ بنانے والی کمپنی کی بنیاد رکھی جس کی مالیت کچھ ہی عرصے میں ایک ارب ڈالر سے زیادہ ہو چکی تھی۔
اس کے علاوہ انھوں نے معروف پاکستانی کمپنی دا ریسورس گروپ (ٹی آر جی) کی بھی بنیاد رکھی اور پھر 2005 میں انھوں نے افینیٹی کمپنی کی بنیاد ڈالی جو کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے سے منسلک ہے۔
افینٹی کے دنیا کے 17 ممالک میں 20 دفاتر قائم ہیں جہاں دو ہزار سے زیادہ افراد ان کے لیے کام کرتے ہیں اور سال 2021 تک کمپنی کی قدر ڈیڑھ ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔
ضیا چشتی کو سنہ 2001 میں امریکی لائف سٹائل جریدے پیپلز میگزین نے 'ٹاپ 50 بیچلرز' کی فہرست میں بھی شامل کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہCourtesy Afiniti
ضیا چشتی کی والدہ سعدیہ چشتی خود بھی اعلی تعلیم یافتہ ہیں اور انھوں نے امریکہ کی کورنل یونی ورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ہے اور بعد ازاں وہ حکومتِ پاکستان کی اسلامی نظریاتی کونسل کی بھی چھ سال تک رکن رہیں۔
تین برس قبل مارچ میں ضیا چشتی کو آئی ٹی کے شعبے میں گرانقدر خدمات سرانجام دینے پر اس وقت کے صدر ممنون حسین کی جانب سے ستارہ امتیاز بھی عطا کیا گیا۔
اس سال مارچ میں ضیا چشتی نے صوبہ خیبر پختونخوا کا دورہ کیا جہاں وزیر اعلی محمود خان اور وزیر خزانہ تیمور جھگڑا سے ان کی ملاقاتیں ہوئیں اور انھوں نے صوبے میں 'ٹیکنالوجی سٹی' کے قیام کے بارے میں سرمایہ داری کرنے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔
اس سے قبل گذشتہ برس فروری میں بھی ضیا چشتی نے افینیٹی کمپنی کے اعلی عہدے داران کے ساتھ پاکستان کا دورہ کیا تھا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
اس دورے میں ان کے ہمراہ شہزادی بیٹریس، سابق ہسپانوی وزیر اعظم ہوزے ماریا ازنار اور سابق اطالوی وزیر اعظم میٹیو رینزی بھی شامل تھے۔
ضیا چشتی نے اس دورے میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ وقت گزارنے کے علاوہ پاکستانی بری افواج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی ملاقات کی اور بعد میں پاک فوج کے ہمراہ وہ سکینگ کرنے بھی گئے۔



























