کینیا کے پولیس اہلکار جنھیں نو ماہ کومے میں رہنے کے بعد جب ہوش آیا تو انھیں برطرفی کا سامنا تھا

،تصویر کا ذریعہJOAN JEPTOO
کینیا کے ایک پولیس اہلکار جب نو ماہ کومہ میں رہنے کے بعد ہوش میں آئے تو انھیں معلوم ہوا کہ انھیں نوکری سے نکالا جا چکا ہے۔
پولیس اہلکار کی بھتیجی نے بی بی سی کو بتایا کہ نہ تو کانسٹیبل ریوبن کموتائی کے خاندان اور نہ ہی پولیس فورس کو پتا تھا کہ وہ کہاں ہیں اور سب نے سمجھا کہ وہ مر چکے ہیں۔
لیکن بعد میں پتا چلا کہ وہ ایک حادثے میں بری طرح زخمی ہوئے تھے اور ملک کے ایک بڑے ہسپتال میں زیر علاج تھے۔
ریوبن کموتائی کو گذشتہ ہفتے ہی ہوش آیا ہے۔ ان کی بھتیجی جوان جپٹو نے اس تجربے اور خوف کے بارے میں بتایا جب ان کا خاندان ان کی میت کو تلاش کرنے کے لیے مردہ خانوں کے چکر لگا رہا تھا۔
ایک موقع پر تو انھوں نے ایک مردہ خانے سے مسخ شدہ لاش کو ریوبن کموتائی کی لاش سمجھ کر لگ بھگ اٹھا ہی لیا تھا۔
جوان جپٹو نے بتایا: ’ان کا فون بند تھا تو ہم نے سمجھا کہ وہ مر چکے ہیں۔ ہم ایک لاش کو لینے بھی گئے جو ان سے مشابہت رکھتی تھی لیکن فنگر پرنٹس نہیں ملے۔‘
پولیس اہلکار کو 21 دسمبر 2020 کو ایک نامعلوم شخص کے طور پر نیروبی کے ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا اور ان کے پاس کوئی شناختی دستاویزات موجود نہ تھے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسی دوران انھیں ان کی نوکری سے نکال دیا گیا، ان پر غیر حاضری کا الزام عائد کیا گیا اور ان کی گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا گیا۔ بعد ازاں پولیس نے انھیں ڈھونڈنے میں ناکامی کے بعد کیس واپس لے لیا۔
گذشتہ ہفتے ہوش میں آنے کے بعد ان کی یادداشت ابھی مکمل طور پر واپس نہیں آئی تاہم وہ یہ بتانے میں کامیاب رہے کہ وہ ایک پولیس افسر ہیں، جس کے بعد ان کے اہلخانہ کی تلاش شروع کی گئی۔
ان کی بھتیجی کو بدھ کے روز پولیس نے رابطہ کیا اور کہا کہ وہ ہسپتال جا کر شناخت کریں۔
ان کی بھتیجی نے بتایا کہ ’میں نے انھیں کینیاٹا نیشنل ہسپتال میں پایا۔ وہ مجھے نہیں پہچان سکے اور نہ ہی وہ خاندان والوں کے نام پہچان سکے۔‘
پولیس افسر کو گذشتہ جمعے ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے اور اب وہ گھر میں اپنی اہلیہ اور خاندان کے ساتھ صحت یابی کی جانب گامزن ہیں۔
ڈیلی نیشن نیوز سائٹ کے مطابق انھیں پولیس فورس میں بحال کرنے کے انتظامات بھی کیے جا چکے ہیں تاہم ان کی بھتیجی کا کہنا ہے کہ ان کی عمر 50 برس سے زیادہ ہے اور وہ اپنی ریٹائرمنٹ کا انتظار کر رہے تھے۔






















