آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کیا سِسلی کے عوام اب بھی چوری شدہ سامان کی واپسی یا انتقام لینے کے لیے مافیا سے رجوع کرتے ہیں؟
چند ہفتے قبل 150 قتل کے ذمہ دار سسلی کے ایک مافیا باس جیوانی برسکا کو رہا کیا گیا تھا، جس پر اٹلی میں شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔ برسکا نے 1992 میں اٹلی کے مشہور انسدادِ مافیا جج جیوانی فالکن کو بم حملے میں ہلاک کیا تھا۔
آکسفورڈ یونیورسٹی میں کرمنالوجی کے پروفیسر فیڈریکو واریس بتاتے ہیں کہ حالیہ برسوں میں سسیلیئن مافیا کے خلاف ریاست کی جانب سے کی جانے والی کامیاب کارروائیوں کے باوجود، سسلی میں رہنے والوں کی زندگیوں پر مافیا کس طرح اثر انداز ہوا ہے۔
اٹلی میں سابقہ گینگ ممبران یا اپنے گروہ سے غداری کرنے والے سنگین اور منظم جرائم کے خلاف جنگ میں اہم آلۂ کار ہوتے ہیں۔ یہ تصور جج فالکن نے متعارف کرایا تھا۔
سسیلیئن مافیا کو مقامی زبان میں کوسا نوسٹرا کہہ کر بھی پکارا جاتا ہے۔
1996 میں گرفتار ہونے والے برسکا، کوسا نوسٹرا کے باس سالوٹور ’ٹوٹو‘ رائنا کے اہم حلیف تھے۔ لیکن مجسٹریٹوں کے مطابق، بعد میں بروکسا کی گواہی انسدادِ مافیا تحقیقات میں اہم ثابت ہوئی تھی۔
سو برسکا کو جیل کی دیواروں سے باہر اب کس چیز کا سامنا ہو گا؟ کیا اب بھی سسلی کا مافیا ایک بڑی طاقت ہے؟ یا یہ اپنے ماضی سے بالکل مختلف ہے؟ اس کا جواب شاید یہ ہے کہ اب بھی دونوں چیزیں درست ہو سکتی ہیں۔
انتقام کی آگ
مقامی معاشرے میں سسلی کے مافیا کے مقام کا اندازہ لگانے کے لیے ایک کامیاب نقطۂ آغاز اپریل 2021 میں پیگلیاریلی مافیا خاندان پر کی جانے والی تحقیقات ہیں۔
پیگلیاریلی پالیرمو کا ایک وسطی ڈسٹرکٹ ہے، جہاں شہر کی مرکزی جیل، ہسپتال اور یونیورسٹی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حال ہی میں تفتیش کاروں کی طرف سے جاری کیے گئے دستاویزات پڑھنے سے رونگھٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ’علاقے کا پبلک آرڈر‘ کے عنوان کے تحت دستاویز بتاتی ہیں کہ کس طرح بزنس مین عام طور پر چوری شدہ سامان کی وصولی، قرضوں کی وصولی، اور معاشی مسابقت کا انتظام کرنے کے لیے مافیا کا سہارا لیتے ہیں۔
2019 کے موسم گرما میں گھریلو سامان فروخت کرنے والی سات دکانوں کے ایک مالک کے ہاں دو مرتبہ چوری ہوئی۔ اسے پیگلیاریلی خاندان کے نائب باس کو فون کرتے ہوئے سنا گیا جس میں اس نے کہا کہ: ’کیا آپ پانچ منٹ کے لیے دکان پر آسکتے ہیں؟‘ اس نے فوراً جواب دیا: ’ضرور‘۔
تاجر نے اسے چوری کے دوران لی جانے والی سی سی ٹی وی فوٹیج دکھائی اور اسے اپنی تمام معلومات دیں۔ ایک ہفتے کے اندر ہی مافیا نے چوروں کو ڈھونڈ لیا اور ان پر سخت تشدد کیا، اور انھیں مجبور کیا کہ وہ چوری شدہ سامان واپس کریں۔ جب ان پر تشدد ہو رہا تھا تو اس وقت وہ تاجر بھی وہاں موجود تھا۔
اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ مافیا کا چوروں کے ساتھ کوئی رابطہ تھا، جو کہ اپنے طور پر کام کر رہے تھے۔ لہذا یہ کوئی ایسا کیس نہیں ہے کہ مافیا اس خطرے کے خلاف تحفظ فراہم کر رہا ہے جو انھوں نے خود پیدا کیا ہوا ہے۔
اسی طرح شہر کے مرکز میں ایک بار کی مالک اس وقت مافیا باس کو فون کرتی ہیں جب ان کا ایک ساتھی ان کی کار چوری کر لیتا ہے۔ پانچ روز بعد گاڑی واپس آ جاتی ہے۔
تفتیش میں یہ ثبوت بھی ملتے ہیں کہ مافیا اس سے زیادہ پیچیدہ معاملات کو بھی نمٹا سکتا ہے۔
ایک اور معاملے میں، ایک بار فیصلہ کرتا ہے کہ اسے اپنا کاروبار بڑھانے کے لیے پیسٹری اور گرم کھانا فروخت کرنا ہے۔ لیکن قریب ہی کچھ گز دور ایک اور دکان پیسٹری بیچ رہی ہے اور مالک اس کے ساتھ مقابلے کے بارے میں پریشان ہے۔ لہٰذا معاملات کو سلجھانے کے لیے مافیا سے بات کرنا پڑی۔
ایک اور کیس میں، مافیا کا ایک نمائندہ ایک عمارت کے مالک، ایک اکاؤنٹینٹ اور اس کے کرایہ دار کے درمیان ملاقات میں موجود ہے جو کرائے کی ادائیگی میں تاخیر کر رہا ہے۔
کووڈ بحران میں پیگلیاریلی برادری سے تعلق رکھنے والا ایک شخص، ایک فرنٹ کمپنی کے ذریعے پانچ ہزار ماسک کی فراہمی کا انتظام کرتا ہے اور ایک الگ تفتیش میں مافیا سے وابستہ ایک شخص کھانے کے پارسل تقسیم کرتا ہوا نظر آتا ہے۔
مافیا کا ’انصاف‘ اور خیرات ایک دو دھاری تلوار ہے۔ اگر آپ اسے قبول کرتے ہیں تو آپ کو اس کے بدلے مستقبل میں مزید احسانات کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ لیکن پھر بھی آپ اسے خالصتاً دکھاوا یا جعلی قرار دے کر رد بھی نہیں کر سکتے۔
یہ بھی پڑھیئے
نوجوان مالکان
ایسی علامات بھی ہیں کہ مافیا کے لیے بھی سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔
گرفتاریوں نے گینگز میں تباہی مچا دی ہے، جس نے کوسا نوسٹرا کی دنیا کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ نوجوان اور کم تجربہ کار رہنماؤں کو اپنے لیے چنے۔
پیگلیارلی برادری کا مبینہ موجودہ باس گیئسپی کالواروسو 1977 میں پیدا ہوا تھا۔
اُسے پکڑے جانے کا اتنا خطرہ تھا کہ وہ بھیس بدل کر گھومتا تھا۔ اس نے اپنا پہلا کووڈ سال برازیل میں گزارنے کا فیصلہ بھی کیا تھا لیکن جب وہ وہاں سے اس سال واپس آیا تو پکڑا گیا۔
قانونی رکاوٹیں
ماہرین کے مطابق سسلی کا مافیا اب بین الاقوامی منشیات فروشی میں شامل نہیں ہے اور اب وہ مقامی مارکیٹ کے لیے منشیات نیپولیز کے منشیات فروشوں سے خرید رہا ہے۔
یہ بات حیران کن ہے کہ اعلی معاشرتی اور معاشی حیثیت کے حامل کاروباری افراد کو ان خدمات کو حاصل کرنے کے لیے مافیا کا رخ کرنا پڑ رہا ہے جنھیں ریاست کو مہیا کرنا چاہیے۔
ریاستی انصاف بس ذرا تاخیر سے ملتا ہے۔ اٹلی میں کسی سول تنازع میں پہلا فیصلہ تقریباً 527 دن بعد ملتا ہے، جو کہ یورپ میں سب سے طویل عرصہ ہے۔
ایک کیس میں تنازع 11 سال کے بعد حل ہوا جس دوران مدعی وفات پا چکا تھا۔
مختلف سرویز کے مطابق ہر 10 میں سے صرف تین شہریوں، اور ہر 10 میں سے صرف چار کاروباروں کو عدل کے نظام پر یقین ہے۔
اس طرح کی کئی تجاویز زیرِ غور ہیں کہ یورپی یونین کے کورونا وائرس کے ریکوری فنڈ سے منسلک منصوبوں سے متعلق عدالت کی کارروائیوں کو تیز کیا جائے۔ ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا ان اصلاحات کا کوئی خاص اثر بھی پڑے گا یا نہیں۔
ماہرین کہتے ہیں کہ معاشرے کے پاس وہ آلات ہونے چاہییں جن کی مدد سے وہ یقینی بنائے کہ معیشت سب کے لیے منصفانہ چلے۔ بصورتِ دیگر یہ خالی جگہ پیگلیارلی کے گینگ پوری کر دیں گے۔
فیڈریکو واریس ’مافیا لائف: لو، ڈیتھ اینڈ منی ایٹ دی ہارٹ آف اورگنائزڈ کرائم کے مصنف ہیں۔