آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کانوں اور کھیتوں میں کام کرنے والے یتیم بچے ’رضاکار ہیں: شمالی کوریا
شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا نے دعوی کیا ہے کہ ملک کے یتیم بچے سرکاری کانوں اور کھیتوں میں رضاکار کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔
کورین سینٹرل نیوز ایجنسی (کے سی این اے) نے کہا ہے کہ سینکڑوں بچوں نے 'اپنی نوجوانی کی ابتدا میں ہی اپنی مرضی اور ہمت کے ساتھ' ملک کے لیے کام کرنے کا انتخاب کیا ہے۔
شمالی کوریا پر جبری مشقت کے الزام پہلے بھی عائد ہوتے رہے ہیں
ان بچوں کی عمر واضح نہیں ہے۔ تاہم تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ وہ نوعمر بچے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انسانی حقوق کی تنظیمیں طویل عرصے سے شمالی کوریا پر بچوں کو زبردستی چائلڈ لیبر پر مجبور کرنے کے الزامات عائد کرتی رہی ہیں جس کی اس ملک نے ہمیشہ تردید کی ہے۔
فروری میں بی بی سی نے ان الزامات کے متعلق یہ اطلاع دی تھی کہ جنوبی کوریاکے جنگی قیدیوں کی نسلوں کو شمالی کوریا کی کوئلے کی کانوں میں غلام کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ موجودہ حکومت کے لیے رقم اکٹھا کرنے میں مدد مل سکے جس سے وہ اپنے ہتھیاروں کے پروگرام کو مستقل طور پر چلاتے رہیں۔
خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ شمالی کوریا آبادی تقریبا دو کروڑ 60 لاکھ ہے اور یہاں کی حکومت اس ملک میں بسنے والے افراد کی زندگی کے تمام تر شعبوں پر کنٹرول رکھنے والی ہے۔
شمالی کوریا کی سرحدیں بند ہیں
شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے کبھی کبھار دیے جانے والے اپنے اقبالیہ بیان میں اپریل کے مہینے میں ملک کو مستقبل میں آنے والے مشکل وقتوں کے لیے تیار رہنے کو کہا ہے۔
شمالی کوریا نے کورونا وائرس کی وجہ سے سنہ 2020 میں اپنی سرحدیں بند کردیں تھیں۔
حتی کہ اس نے اپنی معاشی لائف لائن چین کے ساتھ بھی تجارت بند کردی تھی۔
ریاستی میڈیا میں ان یتیم بچوں کے متعلق کیا کہا گیا؟
گذشتہ ہفتے سرکاری میڈیا کی متعدد اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ ان نام نہاد رضاکاروں سے پورے ملک میں مزدوری کے کام لیے جا رہے ہیں۔
سنیچر کو کے سی این اے کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 700 یتیم بچوں نے فیکٹریوں، کھیتوں اور جنگلات میں رضاکارانہ طور پر کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
جمعرات کے روز کورین سنٹرل نیوز ایجنسی نے اطلاع دی کہ 'درجنوں یتیم بچے چونے کے علاقے میں کوئلے کی کانوں سے تیزی سے نکل کر باہر آ گئے تاکہ وہ حکومت کے ذریعہ ان سے دکھائی جانے والی محبت کے دس لاکھویں حصے کو پورا کرنے کی اپنی قسم کو پورا کر سکیں۔'
شمالی کوریا میں چائلڈ لیبر پر امریکی رپورٹ کیا کہتی ہے؟
انسانی حقوق کے طور طریقوں سے متعلق 2020 کی امریکی محکمہ خارجہ کی ایک رپورٹ میں شمالی کوریا پر 'چائلڈ لیبر کے بدترین طریقے' پر عمل پیرا ہونے کا الزام لگایا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق حکام بعض اوقات ان سکول کے بچوں کو 'شاہراہوں سے برف ہٹانے یا مصنوعات کے اہداف کو پورا کرنے جیسے خصوصی منصوبوں کو مکمل کرنے میں ان بچوں کو مدد کے لیے بھیجتے ہیں۔'
اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ '16-17 سال کی عمر تک کے بچوں کو فوج کے انداز میں دس سال تک آرمی کنسٹرکشن بریگیڈ میں شامل کیا گیا تھا۔ یہ بچے جسمانی اور ذہنی چوٹ کے ساتھ ساتھ غذائیت کی کمی اور تھکن جیسی جسمانی تکالیف کا شکار تھے۔'
شمالی کوریا بار بار ان الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔
رواں ماہ کے شروع میں اس ملک نے امریکی صدر جو بائیڈن پر شمالی کوریا کے خلاف معاندانہ پالیسی اپنانے کا الزام عائد کیا ہے کیونکہ وہ اس کے جوہری پروگرام سے نمٹنے کے لیے نئی امریکی پالیسی تیار کررہے ہیں۔