کورونا وائرس: وہ لڑکی جس نے ایک ٹویٹ سے اپنے والد کا ڈوبتا کاروبار بچا لیا

،تصویر کا ذریعہHarley Walsh
ایک خاتون نے بتایا ہے کہ کیسے انھوں نے ایک ٹویٹ کے ذریعے اپنے والد کی کاروں کی ورکشاپ کو دیوالیہ ہونے سے بچا لیا۔
ہارلی والش نامی اس خاتون کے والد ایک مکینک ہیں۔ انھوں نے نئے گاہک حاصل کرنے کی امید سے اپنے والد کی ایک تصویر ٹوئٹر پر شیئر کی۔
ان کی یہ ٹویٹ اس وقت مقبول ہونے لگی جب ان کے والد نے کہا کہ ان کا ایسٹ کلبرائڈ میں 35 سال پرانا کاروبار کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے بحران کا شکار تھا۔
انھیں وبا کے دوران اپنا کاروبار کھولے رکھنے کی اجازت تو تھی مگر ان کے گاہکوں کی تعداد کم ہو کر صفر کے برابر ہو گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہارلی بتاتی ہیں کہ ان کے گاہکوں کی تعداد روزانہ پانچ سے کم ہو کر ایک ہفتے میں بھی پانچ سے کم رہ گئی تھی کیونکہ کورونا وائرس کی وبا کے دوران سڑکوں پر کاروں کی تعداد انتہائی کم ہو گئی تھی۔
ہارلی والش خود ایک آئی لیش ٹکنیشن (یعنی پلکوں کی ٹیکنیشن) ہیں۔ جمعرات کو انھوں نے کاروبار میں کچھ اضافے کی امید سے اپنے والد کی تصویر ٹویٹ کی۔
مگر ایک گھنٹے کے اندر ان کی یہ پوسٹ 1000 مرتبہ سے زیادہ دفعہ شیئر کی جا چکی تھی اور ایک ہفتے میں یہ تعداد 19 ہزار سے زیادہ ہو گئی۔

،تصویر کا ذریعہHarley Walsh
ان کا کہنا ہے کہ اس وقت ان کے والد کی ورکشاپ پورے ہفتے کے لیے بک ہو چکی ہے اور آئندہ دو ہفتوں کے لیے ان کے پاس بہت کام ہے۔
ان کی ٹویٹ میں لکھا تھا: ’یہ میرے والد ہیں۔ ان کا 35 سال سے زیادہ پرانا کار مکینک گیراج موجودہ وبا کی وجہ سے مشکل میں ہے۔ اگر ایسا ہی چلتا رہا تو اس کے بچنے کے امکان کم ہیں۔‘
ہارلی نے بی بی سی ریڈیو سکاٹ لینڈ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’گزشتہ کچھ عرصے سے میرے والد کے لیے بہت مشکل ہو گیا تھا۔ انھیں ماضی میں مسائل نہیں تھے مگر جمعرات کو ان کے پاس کوئی گاہک نہیں تھا تو ایسا اب کئی مہینوں سے تھا۔‘
’مجھے اپنے والدین کو یہ ٹویٹ کرنے کے لیے راضی کرنا پڑا کیونکہ میرے والد کو لگ رہا تھا کہ اب میں لوگوں کو آنے کے لیے درخواست کر رہا ہوں۔‘
’مگر میں نے ان سے کہا ’ابو آپ ایمانداری کے ساتھ کام کی تلاش کر رہے ہیں۔ اور پھر اس کا بہت اچھا رد عمل آیا اور ان کے پاس بہت زیادہ کام آ گیا۔‘

،تصویر کا ذریعہHarley Walsh
’اس کا بہت فرق پڑا ہے‘
ہارلی کہتی ہیں کہ کاروبار میں کمی ان کے والد پر بہت اثر انداز ہو رہی تھی مگر اب وہ اپنے پرانے انداز میں لوٹ آئے ہیں۔
نئے گاہکوں میں زیادہ تر نوجوان ہیں اور انھیں امید ہے کہ یہ گاہک لوٹ کر پھر آئیں گے۔
ہارلی کہتی ہیں ’ہمیں بس امید ہے یہ جاری رہے۔ میرے والد کا خیال تھا کہ نوجوانوں کو اپنی کاریں ٹھیک کرانے کی اتنی ضرورت نہیں پڑتی اور اسی لیے وہ کافی حیران ہوئے جب اتنے سارے نوجوان لوگوں نے سروس کے لیے ان سے رابطہ کیا۔‘
وہ کہتی ہیں ’اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اچھے لوگ ابھی باقی ہیں اور سوشل میڈیا پر ایسا دیکھ کر اچھا لگا۔‘
وہ بتاتی ہیں کہ ’گزشتہ ہفتے جب میں اپنے والد کی کام پر مدد کر رہی تھی تو سارا دن بار بار میرے پاس آتے رہے اور مجھے گلے لگاتے رہے۔ انھیں ایسے دیکھ کر اچھا لگا۔‘























