پیرس کی انتظامیہ کو زیادہ خواتین کی تعیناتی پر جرمانہ

Anne Hidalgo, Paris mayor

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناین ہڈالگو نے کہا ’مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ہمیں جرمانہ ہوا ہے‘
وقت اشاعت

جب پیرس کی میئر این ہڈالگو کو بتایا گیا کہ انھوں نے سینیئر عہدوں پر زیادہ خواتین کو تعینات کر کے قانون کی خلاف ورزی کی ہے تو ان کا طنزیہ جواب تھا ’کچھ زیادہ ہی فیمینسٹ‘۔

سنہ 2018 میں 11 خواتین اور پانچ مردوں کو ترقی دی گئی تھی۔ یہ دراصل 2013 میں پاس ہونے والے ایک قومی قائدے کی خلاف ورزی تھی جس کا مقصد دونوں اصناف کو روزگار کے برابر مواقع فراہم کرنا تھا۔

خدمت عامہ کی وزارت کی طرف سے پیرس کے حکام پر 90,000 یورو کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔

این ہڈالگو نے کہا ’مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ہمیں جرمانہ ہوا ہے۔‘

سنہ 2013 کے اس قانون کے مطابق سرکاری نوکریوں میں 60 فیصد سے زیادہ نئی اعلیٰ تعیناتیاں کسی ایک صنف کی نہیں ہونی چاہئیں۔ پیرس کی میئر نے جو تقرریاں کی ہیں ان کے بعد 69 فیصد نوکریاں خواتین کو دی گئی ہیں۔

ایک کونسل میٹنگ سے خطاب کے دوران مئیر نے مذاق کرتے ہوئے کہا ’سٹی ہال کی انتظامیہ اچانک، کچھ زیادہ ہی فیمینسٹ ہو گئی ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

خواتین

،تصویر کا ذریعہAFP

تاہم ساتھ ہی انھوں نے فرانس میں خواتین کو اعلیٰ عہدوں پر تعینات کرنے میں لگنے والے وقت کی بھی نشاندہی کی اور کہا کہ برابری حاصل کرنے کے لیے لازمی ہے کہ مردوں کی نسبت زیادہ خواتین کو مواقع فراہم کیے جائیں۔

انھوں نے کہا ’ظاہر ہے کہ یہ جرمانہ مضحکہ خیز، غیر منصفانہ، غیر ذمہ دارانہ اور خطرناک ہے۔‘

فرانس کی وزیر برائے خدمت عامہ امیلی دی مونتچالین نے ٹوئٹر پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ قانون دراصل 2018 میں ہی تبدیل کیا جا چکا ہے۔

2019 میں زیادہ خواتین، یا مردوں کی تعیناتی کے بارے میں جرمانے رد کر دیے گئے تھے، بشرطیکہ مجموعی طور پر دونوں اصناف میں توازن برقرار رہے۔

وزیر نے پیرس کی میئر کو اس بارے میں بات چیت کے لیے دعوت دیتے ہوئے کہا کہ اس جرمانے کا استعمال ’ٹھوس اقدامات‘ کے لیے کیا جائے گا۔