جی سکس فائیو: جنوبی افریقہ کی 65 سالہ سکول ٹیچر جو موت سے چند ہفتے قبل ’پاپ سٹار‘ بنیں

اولفا سلیپے

،تصویر کا ذریعہSelect Africa TV/YouTube

    • مصنف, اشیتھا نگیش
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

جب اولفا سلیپے نے اپنے بچوں کو بتایا کہ وہ اپنا ایک پاپ میوزک کا گانا ریلیز کرنا چاہتی ہیں تو ان کے بچوں نے انھیں ایسا کرنے سے منع کیا۔

وہ ان کی احساسات کو مجروح نہیں کرنا چاہتی تھیں لیکن یہ وہ کام نہیں تھا جو 65 سالہ ریٹائرڈ استاد کرتے ہیں۔ ان کے بہن بھائیوں نے بھی اس سے اتفاق کیا اور انھیں ایسا کرنے سے منع کیا کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ اولفا کے گانے سے پورے خاندان کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

لوگوں کے مشورے اب بھی ان کے ذہن میں تھے، وہ جانتی تھیں کہ ان کے پاس ایسا کرنے کا اب ایک ہی راستہ بچا ہے اور وہ یہ تھا کہ وہ سب سے چھپ کر اپنا گانا ریکارڈ کریں۔

جب تک ان کے خاندان والوں کو خبر ہوئی، ان کا گانا ہٹ ہو چکا تھا اور اولفا سلیپے جنھیں ’جی سکس فائیو‘ کے نام سے جانا جاتا ہے ملک بھر میں مقبول ہو چکی تھیں۔

یہ بھی پڑھیے

ان کے گانے کو جنوبی افریقہ میں تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر کیا گیا اور یہ گانا ملک کے آئی ٹیونز چارٹ پر بھر سرفہرست تھا۔

لوگ اس کامیابی کو ’اپنے خوابوں کو پانے کی کوئی عمر نہیں ہوتی‘ کی مثال کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔

لیکن سات دسمبر کو ان کے گانے کی ریلیز ہونے کے کچھ ہفتوں بعد ہی سلیپے کورونا وائرس سے متاثر ہو گئیں اور دو دن بعد ہی ڈربن میں اپنے خاندان کے سات قرنطینہ کے دوران فوت ہو گئیں۔

اولفا سلیپے بچپن سے پولیو کا شکار تھیں اور اس مرض کے باعث ان کا ایک بازو پر بھی بھروسہ تھا۔

جنوبی افریقہ کے کوازولو نٹال صوبے کے شہر اسہاؤ میں پلنے بڑھنے والے اولفا کو ان کی والدہ نے ایک ہی نصیحت کی تھی کہ انھیں اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی پڑھائی پر توجہ دیں کیونکہ وہ ایک بازو کی وجہ سے ہاتھ سے عام کام نہیں کر سکیں گی۔

انھوں نے اپنی والدہ کی نصیحت سکول میں یاد رکھی اور محنت سے پڑھائی مکمل کرنے کے بعد نیوکاسل مدادینی کے قصبے میں پرائمری سکول کی استاد بن گئیں۔

بعد ازاں انھیں سکول کی ہیڈ ماسٹر کے طور پر ترقی دے دی گئی۔

ان کی بھانجی سبو مپنگوز نے بی بی سی کو بتایا کہ اولفا سلیپے 'بہت سخت مگر اچھی' طبعیت کی مالک تھیں اور انھیں معتبر دکھنے والے کپڑے پہننا پسند تھے۔

وہ کہتی ہیں 'آپ انھیں ہمیشہ ٹو پیس (کوٹ پینٹ) میں دیکھیں گے، وہ بہت ذہین تھیں، بہت خوش لباس تھیں اور انھیں اچھا دکھنا بہت پسند تھا لیکن سب سے زیادہ وہ ہر چیز کو ٹھیک طرح سے کرنے کی قائل تھیں، وہ بہت بہادر انسان تھیں۔'

مپنگوز کا کہنا ہے کہ اپنے گھر کے متعلق بھی اولفا کا یہ ہی نظریہ تھا۔ وہ گھر جو ایک 'کٹیا' سے شروع ہوا اس کو انھیں نے اینٹوں اور مارٹروں سے خوبصورت بنا دیا۔

اپنے گھر اور سکول کے کاموں میں پھنسی ہوئی اولفا کی زندگی میں موسیقی ایک ایسی چیز تھی جس نے انھیں جانے دیا۔

ایک رومن کیتھولک کے طور پر انھوں نے بہت برس کلیسا میں کوائر میں گایا تھا۔ انھوں نے بچوں کی نظموں کی ایک البم بھی ریلیز کی تھی۔

اولفا

،تصویر کا ذریعہSbu Mpungose

ان کی بھانجی مپنگوز نے ہنستے ہوئے بتایا کہ 'وہ ان میں سے تھیں جو چرچ کوائر میں کھڑی ہو کر سربراہی کرتیں۔ وہ ہمیشہ سے لیڈ گائیک تھیں یا وہ جو گلوکار گیت کا آغاز کرتا ہے۔ وہ پیدائشی لیڈر تھیں اور یہ چیز ان میں کبھی نہیں بدلی۔'

سلیپے نے سنہ 2002 سے 2005 تک تین برس برطانیہ میں مشرقی لندن کے ایک سکول میں بطور پرائمری استاد کے گزارے تھے لیکن جب وہ واپس لوٹیں تو ان کے چار بچوں میں سے ایک بیٹی کو ایچ آئی وی کا مرض لاحق ہو گیا اور وہ مر گئیں اور انھیں یہ صدمہ برداشت کرنا پڑا۔

مپنگوز کا کہنا ہے کہ 'اس کے بعد میں نے ان کی طبیعت میں نرمی دیکھی۔'

اولفا نے 28 مارچ 2018 ایک اور بڑا ہدف حاصل کیا۔۔ انھوں نے ایجوکیشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے فوراً بعد انھوں نے پی ایچ ڈی کے لیے بھی درخواست دے دی۔

اس انٹرویو کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ جو لوگ انھیں ان کے نام سلیپے سے پکارتے ہیں تو پھر وہ کیا چاہتی ہیں کہ ان کے بارے میں لوگ کیا سوچیں۔

انھوں نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر کہا کہ اس سے ان کے ذہن میں میوزک کا خیال آتا ہے۔

سلیپے کو پی ایچ ڈی کے لیے داخلہ مل گیا مگر وہ اپنے ذہن سے میوزک کو نہیں نکال سکیں۔

سنہ 2020 میں کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا کا نظام ٹھپ ہو کر رہ گیا۔

اب جو نارمل زندگی تھی وہ نارمل نہیں رہی تھی اور جن چیزوں کے بارے میں کبھی نہیں سوچا تھا وہ ایک حقیقت کا روپ دھار کر سامنے آ گئیں۔

اب دنیا بھر میں لوگوں نے اپنی تخلیقی صلاحتیوں کا مظاہرہ کرنے کے لیے نئے نئے پلیٹ فارم ڈھونڈنے شروع کر دیے اور اپنے لیے نئے مشاغل کی بھی تلاش شروع کر دی۔

سلیپے بھی گھر میں مقید ہو کر رہ گئی تھیں جب انھیں اس احساس نے آ لیا کہ ان کے پاس کچھ کرنے کا بہت وقت ہے۔

اولفا نے بھی تہیہ کر لیا کہ ان کے خوابوں کی تکمیل کا یہی مناسب وقت ہے۔

انھوں نے اپنے بچوں اور بہن بھائیوں کو اس بارے میں بتایا کہ وہ اپنا گانا امپیانو کی تھاپ پر تنہا ہی گا کر ریکارڈ کر کے ریلیز بھی کرنا چاہتی ہیں۔

یہ سن کر جیسے ان کے سب گھر والے ہل کر رہ گئے ہوں۔ اس کی وجہ امپیانو تھی جو اس قسم کا میوزک کا آلہ ہے جو 2010 میں جنوبی افریقہ کے شہروں میں مقبول ہونا شروع ہوا اور اسے بس نوجوانوں کے لیے ہی اہم سمجھا جاتا ہے نہ کہ 65 برس کی ایک ہیڈ مسٹرس کے لیے۔

جب لوگ ان کا مذاق اڑائیں گے تو پھر کیا ہو گا؟

مپنگوز کے مطابق اولفا نے کہا ’میں اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے ہر ممکن کوشش کروں گی اور مجھے اس بات کی کوئی پروا نہیں ہے کہ میرے بارے میں آپ کیا سوچتے ہیں۔‘

انھوں نے یہ ہدف سب سے چھپ کر حاصل کیا کیونکہ وہ چاہتی تھیں کہ ایسا ہو اور وہ اپنا حوصلہ پست نہیں کرنا چاہتی تھیں۔ لہٰذا جب انھوں نے گانا شیئر کیا تو یہ ایک مکمل گانا تھا جس پر سب کام ہو چکا تھا۔

اولفا نے اپنے گھر والوں کو واشگاف الفاظ میں بتایا کہ ’اگر آپ اسے پسند نہیں کریں گے پھر میری طرف سے معذرت۔۔ مگر میرے خیال میں جنوبی افریقہ کی عوام اس گانے کو بہت پسند کرے گی۔‘

اولفا نے اپنا سٹیج نام جی سکس فائیو رکھا جو ’گوگو‘ کا ایک حوالہ ہے، جس کا مطلب ہے نانی، اور ان کی ہم عمر خواتین۔۔ اور اس کے ساتھ انھوں نے اپنی میوزک ویڈیو بھی جاری کی جس میں وہ اپنا پیشہ وارانہ ٹو پیس سوٹ پہنے ناچ اور گا رہی ہیں ۔۔ اوبانی لبابانتو۔

یہ ایک بہت دل کو چھو جانے والا گانا تھا۔

جب یہ گانا منظر عام پر آیا تو ان کا پورا خاندان جیسے صدمے میں چلا گیا ہو کہ اتنے جلدی کیسے یہ سب ممکن ہوا۔ مگر سلیپے یہ جانتی تھیں کہ لوگ اس گانے سے محبت کریں گے۔ دیکھتے ہی دیکھتے گانا اور سلیپے ہر طرف مقبول ہو گئے۔

پورے جنوبی افریقہ میں لوگ اولفا کا ہی تذکرہ کر رہے تھے۔ کچھ لوگ شروع شروع میں اس حوالے سے کچھ تذبذب کا شکار ہوئے مگر بہت جلد اس کی ہر طرف دھوم تھی۔

ان کے سابقہ طالبعلموں نے سوشل میڈیا پر اس گانے کو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’یہ ہیں مسز سلیپے‘۔

وہ جب بھی اس گانے کو شیئر ہوتا دیکھتے تو اولفا کا ’ٹو پیس سوٹ‘ ایک پہچان بن کر رہ گئی۔

ان کے بارے میں جنوبی افریقہ سے شائع ہونے والے ہر اخبار میں کچھ نہ کچھ لکھا جا رہا تھا اور انھیں ٹی وی چینلز پر مدعو کیا جا رہا تھا۔

ایک مداح نے اس گانے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ اس میں کوئی برہنہ لڑکیاں نہیں ہیں، دولت کا کوئی دکھاوا نہیں، کوئی مہنگی کاریں نہیں، کوئی سگریٹ نوشی نہیں، کوئی سخت زبان نہیں، اس ویڈیو میں کوئی اپنی کامیابیوں کی شیخیاں نہیں بگار رہا۔‘

ایک اور مداح نے لکھا کہ اس کہانی کا اخلاقی سبق یہی ہے کہ، اس میں کوئی دیر نہیں ہوئی۔‘

اگرچہ سلیپے کو اس طرح کی شہرت کا پہلے کوئی تجربہ نہیں تھا۔ انھوں نے اسے اپنی ایک کامیابی قرار دیا۔ اس گانے سے انھیں بہت محبت ملی۔ اس کے بعد ان کے خاندان والوں کو اپنا ذہن تبدیل کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگا اور اب وہ سب بھی اس گانے کے دیوانے بن گئے ہیں۔

مپنگوز کا کہنا ہے کہ ’اس کے باوجود کے اولفا کا پہلا گانا اتنا مقبول ہوا لیکن وہ دوسرے گانے کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کر رہی تھیں۔‘

جی سکس فائیو

،تصویر کا ذریعہSelect Africa TV/YouTube

انھوں نے اپنا نام جی سکس فائیو رکھا تھا کیونکہ اس سال وہ 65 برس کی تھیں۔

وہ اپنی مقبولیت کو کچھ عرصے تک ہی دیکھ سکیں۔ اس گانے کے ریلیز ہونے کے چند ہفتے بعد ان میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی اور وہ چند دن میں ہی چل بسیں۔

ایک مداح نے ان کی ویڈیو پر لکھا کہ گوگو آپ نے ایک بہت مضبوط پیغام دیا ہے: ’آپ وہی کریں جو آپ کو کرنا ہے جب آپ کے پاس اس کا وقت بھی ہو اور اس بات کو بھول جائیں کہ دوسرے آپ کے ان خوابوں کے بارے میں کیا کہیں گے۔‘

اخباری کالم نویسوں نے بھی اولفا کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ ایک نے تو اس بات پر ان کی مدح سرائی کرتے ہوئے یہاں تک لکھا کہ انھوں نے سب باتوں کو اپنے جوتے کی نوک پر رکھا۔

اب 14 دسمبر کو اولفا کا جنازہ ہے۔ سبو مپنگوز کے مطابق وہ ہمیشہ چاہتی تھیں کہ انھیں بڑے جاہ و جلال سے رخصت کیا جائے مگر اب ملک میں کورونا وائرس کی پابندیوں کی وجہ سے یہ سب ممکن نہیں ہے۔

سبو مپنگوز کے مطابق ’چند ماہ قبل اولفا نے اپنے کفن کا انتخاب خود کیا۔۔ میرے خیال میں انھوں نے ہمیشہ سے یہی سوچا تھا کہ انھیں بڑے خاص انداز میں الوداع کیا جائے گا۔

وہ بتاتی ہیں کہ ’کورونا وائرس کی وجہ سے عائد پابندیوں میں اب اس طرح کا جنازہ نہیں ہو سکے گا جیسا کہ وہ چاہتی تھیں۔

’مگر جنوبی افریقہ کی عوام نے ان کو ایک حیرت انگیز انداز میں الوداع کیا۔۔۔ ان کی زندگی کواس انداز میں جشن مناتے ہوئے یاد کرنا یقیناً ایک ایسی چیز ہے جس پر وہ مسکرا رہی ہوں گی۔‘