’نو فلائی لِسٹ‘ میں شامل کیے جانے پر تین مسلمان افراد کی ایف بی آئی کے خلاف جیت

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جب فروری 2007 میں نیو یارک کے رہائشی محمد تنویر سے دو فیڈرل بیورو آف انویسٹیگیشن (ایف بی آئی) کے اہلکاروں نے رابطہ کر کے امریکی حکام کے لیے مسلمانوں کی مخبری کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی تو انھوں نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ’مذہب ایسا کرنے سے منع کرتا ہے‘۔
تین سال تک محمد تنویر کو بطور مخبر بھرتی کرنے کی کوششوں میں ناکامی کے بعد ایف بی آئی نے ان پر دباؤ ڈالنے کے لیے نیا حربہ نکالا اور انھیں 2010 میں امریکہ میں نائن الیون کے بعد بنائی گئی 'نو فلائی لسٹ' میں شامل کر دیا گیا، جس کے خلاف محمد تنویر اور دیگر دو مسلمان افراد نے 2014 میں مقدمہ دائر کیا تھا۔
اس فہرست میں شامل افراد امریکہ جا سکتے ہیں نہ امریکہ سے باہر پرواز کر سکتے ہیں اور نہ ہی انھیں امریکہ میں اندرون ملک پرواز کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔
واضح رہے کہ سابق امریکی صدر براک اوبامہ نے اس مقدمے کو پہلی بار عدالت میں جانے سے روکنے کی کوشش کی غرض سے ان تینوں کے نام نو فلائی لسٹ سے نکال دیے تھے لیکن ان تینوں نے مقدمہ ختم نہیں کیا تھا۔
چھ سال تک مختلف عدالتوں میں جانے کے بعد بالاآخر جمعرات کو امریکی سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا ہے کہ تینوں درخواست گزار ایف بی آئی کے اُن اہلکاروں پر مقدمہ دائر کر سکتے ہیں جنھوں نے ان تینوں کو 'نو فلائی لسٹ' پر اس لیے ڈال دیا تھا کیونکہ انھوں نے ایف بی آئی کی مدد کرنے سے انکار کیا تھا۔
اسی حوالے سے مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

امریکی عدالت کا کہنا ہے کہ تینوں امریکی شہریوں کو یہ حق ہے کہ وہ 'مذہبی آزادی بحال کرنے کے قانون' کے تحت ایف بی آئی پر ہرجانہ دائر کر کے رقم کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔
محمد تنویر، جمیل الگی باہ اور نوید شنواری نے اپنی درخواستوں میں کہا تھا کہ ایف بی آئی نے ’ان پر یہ دباؤ ڈال کر ان کے عقیدے کی تضحیک کی ہے کہ وہ دوسرے مسلمانوں کی جاسوسی یا مخبری کریں‘۔
ان تینوں کے وکلا نے اپنے دلائل میں کہا کہ تینوں مرد کسی قسم کے غیر قانونی کاموں میں ملوث نہیں پائے گئے تھے لیکن انھیں سفر کرنے سے روکا گیا۔
یہ ممکن ہے کہ ایف بی آئی ان تینوں افراد سے عدالت کے باہر معاہدہ طے کر کے معاملہ حل کر لے یا 'شرطیہ استثنی' کے قانون کا استعمال کریں جس کے تحت امریکہ میں کوئی بھی سرکاری اہلکار اپنے خلاف قانونی کارروائی ہونے سے خود کو محفوظ رکھ سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
لیکن اس قانون کے ناقدین کہتے ہیں کہ اس کی وجہ سے اہلکاروں کا احتساب نہیں ہو پاتا۔ امریکہ میں ڈیموکریٹس نے اس قانون کو ختم کرنے کے لیے کانگریس میں قرارداد پیش کی لیکن ان کی کوششوں کو رپبلکن قانون سازوں نے روک دیا۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ کی انتظامیہ نے اپنی تئیں کوشش کی کہ اس مقدمے کو خارج کر دیا جائے اور اس کے لیے ان کی دلیل تھی کہ یہ ’قومی سلامتی اور قانون نافذ کرنے کے لیے اہم اور حساس معاملہ ہے‘ لیکن انھیں اس میں کامیابی نہیں ملی۔
درخواست گزار نوید شنواری نے امریکی ادارے نیشنل پبلک ریڈیو سے بات کرتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ 'میں نہایت خوش اور مطمئن ہوں۔ یہ ہر اس شخص کی جیت ہے جس کی آواز نہیں سنی جاتی چاہے وہ مسلمان ہو یا نہ ہو۔ میں امید کرتا ہوں کہ یہ فیصلہ ایف بی آئی اور ان جیسی دیگر ایجنسیوں کے لیے ایک سبق ہو گا کہ لوگوں کا مستقبل خراب کرنے پر ان سے پوچھ گچھ ہوگی۔'
نو فلائی لسٹ کیا ہوتی ہے؟
امریکہ میں نائن الیون کے واقعے کے بعد حکومت نے نو فلائی لسٹ تیار کرنی شروع کی تھی جس میں صرف ان افراد کا نام شامل کیا جا سکتا ہے جو نہ صرف 'مصدقہ یا مشتبہ دہشتگرد ہوں' بلکہ اس کے علاوہ ان کے بارے میں ایسی معلومات ہونا بھی ضروری ہیں جو یہ ثابت کر سکیں کہ 'اس شخص کی جانب سے کسی طیارے پر دہشت گردی کا خطرہ ہے۔'

،تصویر کا ذریعہEPA
لیکن اس کے علاوہ سرکاری طور پر اس فہرست کے بارے میں کچھ بھی ظاہر نہیں کیا جاتا ہے اور نہ ہی یہ معلوم ہے کہ باضابطہ طور پر اس فہرست میں کتنے افراد کے نام شامل ہیں۔
حکومت مسلسل اس فہرست کو عوامی طور پر شائع کرنے سے کتراتی رہی ہے اور یہ ظاہر نہیں کرتی ہے کہ اس فہرست میں کن شرائط پر کسی کا نام ڈالا جاتا ہے اور نہ یہ بتاتی ہے کہ ایسی مزید کونسی معلومات ہیں جو کسی شخص کو پرواز کرنے سے روک سکتی ہیں۔
اس فہرست میں شامل افراد امریکہ جا سکتے ہیں نہ امریکہ سے باہر پرواز کر سکتے ہیں اور نہ ہی انھیں امریکہ میں اندرون ملک پرواز کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق 2014 کی معلومات تک اس فہرست میں 20 ہزار سے زیادہ افراد کے نام شامل ہیں۔
مرکزی مدعی محمد تنویر کون ہیں؟
مدعی محمد تنویر نیو یارک کے رہائشی ہیں اور ان کا پیشہ ٹرک ڈرائیوری ہے جس کی غرض سے وہ امریکہ بھر میں طویل سفر کرتے ہیں اور اکثر انھیں اپنی واپسی کے لیے پروازیں لینی ہوتی ہیں۔
دس سال قبل ان کو ایسی ہی ایک پرواز میں چڑھنے سے منع کر دیا گیا تھا اور بتایا گیا کہ ان کا نام ’نو فلائی لسٹ‘ میں ہے۔






















