ڈونلڈ ٹرمپ کو ری ٹویٹ کرنے کا معاملہ: امریکہ میں چینی سفارت خانے کا ٹوئٹر اکاؤنٹ ہیک ہوا، بیجنگ کا دعوی

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 2 منٹ

امریکہ میں چین کے سفارت خانے نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کا ٹوئٹر اکاؤنٹ اس وقت ہیک ہوا جب ان کو فالو کرنے والے صارفین نے نشاندہی کی کہ اس اکاؤنٹ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کی گئی ایک گمراہ کن مواد پر مبنی ٹویٹ کو ری ٹویٹ کیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے اپنی ٹویٹ میں حالیہ امریکی انتخاب میں مبینہ دھاندلی کے بے بنیاد الزامات عائد کیے اور کہا کہ ’ایک ملک ایسے کیسے چل سکتا ہے؟‘

ٹوئٹر نے اس ٹویٹ پر تنبیہ کا نشان چسپاں کیا تھا کہ یہ متنازع دعویٰ ہے اور چینی سفارت خانے نے اس ٹویٹ کو فوراً ہی ری ٹویٹ کر دیا تھا۔

البتہ انھوں نے بعد میں اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ انھوں نے نہیں کیا۔

یہ بھی پڑھیے

سرکاری طور پر چین نے نومنتخب صدر جو بائیڈن کو ان کی جیت پر مبارکباد دی ہے اور چینی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ’ہم امریکی عوام کی رائے کا احترام کرتے ہیں۔‘

تاہم دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ نے انتخاب کے بعد بھی مسلسل ثبوت دیے بغیر مبینہ دھاندلی کے الزامات لگانے نہیں چھوڑے ہیں۔

چینی سفارت خانے کی جانب سے کی گئی ری ٹویٹ کی ٹوئٹر پر صارفین نے نشاندہی کی اور کئی نے اس پر تبصرہ کیا کہ یہ ایک ایسا وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ اور چین کے مابین تعلقات اچھے نہیں ہیں۔

صدر ٹرمپ کے دور صدارت میں دونوں ملکوں کے مابین تعلقات میں میں خرابی آئی ہے اور دونوں معاشی سپر پاورز ایک دوسرے کے ساتھ مختلف نوعیت کے اختلافات میں الجھے ہوئے ہیں جیسے تجارت، ٹیکنالوجی اور مبینہ جاسوسی۔

بدھ کو چینی سفارت خانے نے اس ری ٹویٹ سے مکمل طور پر لاتعلق کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’چینی سفارت خانے کا ٹوئٹر آج (بدھ) کی دوپہر ہیک ہو گیا اور ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔ ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ سفارت خانے نے نو دسمبر کو کوئی ری ٹویٹ نہیں کی۔‘

البتہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب کسی چینی سفارت خانے کو اس طرح ٹوئٹر پر مسئلے کا سامنا کرنا پڑا ہو۔

ستمبر میں چین کی برطانیہ میں سفارت خانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے مطالبہ کیا کہ وہ جانچ کریں کہ کس طرح ان کے برطانوی سفیر کے سرکاری ٹوئٹر ہینڈل سے ٹوئٹر پر فحش کلپ ’لائیک‘ کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ صدر ٹرمپ پر سوشل میڈیا پر غلط خبریں پھیلانے کے حوالے سے مسلسل تنقید ہوتی رہی ہے۔

اس سال مئی میں ٹوئٹر نے ان کی ایک ٹویٹ پر پیغام چسپاں کیا کہ صدر ٹرمپ کا کیا گیا دعویٰ غلط ہے اور اس کے بعد وہ متعدد بار ایسی تنبیہ چسپاں کر چکے ہیں۔