آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کووِڈ: وائرس سے نمٹنے کے لیے ارجنٹائن میں قانون کی منظوری
کورونا کی وبا سے نمٹنے کے لیے ارجنٹائن نے ملک کے امیر ترین افراد پر ایک نیا ٹیکس عائد کیا ہے جس سے حاصل ہونے والی رقم طبی ساز و سامان اور دیگر امدادی سرگرمیوں پر خرچ کی جائے گی۔
سینیٹروں نے جمعے کے روز 26 کے مقابلے میں 42 ووٹ سے قانون کی منظوری دی جس کے تحت امیر لوگوں کو ایک بار یہ ٹیکس ادا کرنا پڑے گا۔
اس محصول کو 'ملینئرز ٹیکس' یا لکھ پتیوں کا ٹیکس کی عرفیت دی گئی۔
اس کے دائرے میں تقریباً 12000 ایسے افراد آئیں گے جن کے اثاثوں کی مالیت ڈھائی ملین ڈالر سے زیادہ ہے۔
ارجنٹائن میں کورونا وائرس کی وجہ سے قریباً 15 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ 40 ہزار ہلاک ہو چکے ہیں۔
ارجنٹائن اکتوبر میں وبا سے سب سے زیادہ متاثرہ پانچ والا ملک بن گیا تھا جب اس کی 45 ملین کی مجموعی آبادی میں سے ایک ملین افراد وائرس کا شکار ہوگئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لاک ڈاؤن کے سلسلے میں کیے گئے اقدامات کی وجہ سے اس کی مشکلات سے دو چار معیشت، جسے پہلے ہی بے روزگاری، غربت اور بھاری سرکاری قرض جیسے مسائل کا سامنا تھا، پر مزید بوجھ پڑ گیا ہے۔ ارجنٹائن 2018 سے کسادبازاری کی لپیٹ میں ہے۔
ایک قانون ساز کے مطابق اس نئے ٹیکس کا اثر محض صفر عشاریہ 8 فیصد افراد پر پڑے گا۔ ملکی اثاثوں پر 3.5 فیصد جبکہ بیرونِ ملک اثاثوں پر 5.25 فیصد تدریجی ٹیکس عائد کیا جائے گا۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اس طرح حاصل ہونے والے رقم کا 20 فیصد طبی ساز و سامان، 20 فیصد چھوٹے اور درمیانے درجے کے بزنس، 20 فیصد طلبہ کو وظیفے دینے، 15 فیصد سماجی ترقی اور بقیہ 25 فیصد ملک میں قدرتی گیس کی ذخائر تلاش کرنے پر خرچ کیا جائے گا۔
صدر البرٹو فرنانڈیز کی حکومت کو اس مد میں 3.67 ارب ڈالر وصول ہونے کی توقع ہے۔
لیکن حزب اختلاف کو خدشہ ہے کہ اس سے غیرملکی سرمایہ کاروں کی حوصلہ شکنی ہوگی اور یہ یکباری ٹیکس نہیں ہوگا۔