آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
حضرت عیسیٰ: اسرائیل کے شہر ناصرت میں دریافت ہونے والا غار ’حضرت عیسیٰ کا گھر ہو سکتا ہے‘
- مصنف, جو کوئزنز
- عہدہ, بی بی سی نیوز آن لائن
- وقت اشاعت
ایک ماہر آثار قدیمہ کے مطابق اس بات کا ’قوی امکان‘ ہے کہ شمالی اسرائیل میں واقع شہر ناصرت میں کھدائی کے دوران دریافت ہونے والا ایک گھر وہ جگہ ہے جہاں حضرت عیسیٰ نے اپنا بچپن گزارا تھا۔
یونیورسٹی آف ریڈنگ کے پروفیسر کین ڈارک ایک جدید کانوینٹ کے نیچے دریافت ہونے والے پہلی صدی کے ایک غار پر گذشتہ 14 سال سے تحقیق کر رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ماہرین آثارِ قدیمہ کو پہلے 19 ویں صدی میں حضرت عیسیٰ، حضرت مریم اور حضرت یوسف کے گھر کے متعلق بتایا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیئے
تاہم 1930 کی دہائی میں ماہرینِ آثار قدیمہ نے اس خیال کو رد کر دیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس جگہ کو پھر تقریباً بھلا ہی دیا گیا لیکن 2006 میں پروفیسر ڈارک نے اس پر دوبارہ تحقیق کرنے کے لیے ایک پروگرام لانچ کیا۔
انھوں نے کہا: ’میں ناصرت حضرت عیسیٰ کا گھر تلاش کرنے نہیں گیا تھا۔ میں دراصل شہر کی تاریخ کا بطور بازنطینی عیسائیوں کی زیارت گاہ کے تحقیق کرنے گیا تھا۔ وہ کہتے ہیں ’مجھ سے زیادہ شاید کوئی بھی حیران نہ ہو۔‘
’ہم شاید اس سے زیادہ قریب نہیں جا سکتے‘
انھوں نے کہا کہ قدیم تہہ خانہ نما غار ایک بازنطینی دور کے چرچ کے نیچے ہے، جو کہ سسٹرز آف ناصرت کانوینٹ کے نیچے چلا جاتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’ہمیں تحریری شواہد سے پتہ چلا ہے کہ یہ چرچ بازنطینی دور میں اس جگہ بنایا گیا تھا جہاں حضرت عیسیٰ کا گھر ہوا کرتا تھا اور یہ رہنے کی جگہ اس غار میں محفوظ ہے۔
’یہ یقینی طور پر چرچ آف دی نیوٹریشن ہے، جو کہ حضرت عیسیٰ کی پرورش سے منصوب تھا اور 7 ویں صدی کے زائرین نے اس کا ذکر کیا ہے۔‘
پروفیسر ڈارک نے کہا کہ ان کی تحقیق کے مطابق یہ گھر پہلی صدی میں موجود تھا۔ انھوں نے کہا کہ یہ عمارت ایک پتھریلی پہاڑی کو کاٹ کر بنائی گئی تھی۔
انھوں نے کہا کہ جس نے بھی یہ گھر بنایا تھا اسے پتھروں کے کام کا بخوبی اندازہ تھا۔
آثار قدیمہ کے ماہر کے مطابق ان سب چیزوں سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ حضرت عیسیٰ کا گھر ہے، لیکن ’شاید ایسا کہنے کے لیے ہم اس سے زیادہ قریب نہیں جا سکتے۔‘