آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ہر دس میں سے چار افراد اپنی فیملی سے مالی معاملات چھپاتے ہیں
برطانیہ میں پینشنز اینڈ منی سروس کا کہنا ہے کہ تقریباً ہر دس میں سے چار افراد اپنے پیاروں سے مالی معاملات میں کوئی نہ کوئی بات پنہاں رکھتے ہیں۔
اس حکومتی تنظیم کے جائزے کے مطابق سب سے زیادہ چھپائی جانے والی باتوں میں کوئی خفیہ کریڈٹ کارڈ رکھنا (37 فیصد)، قرضوں کے بارے میں نہ بتانا (23 فیصد) اور خفیہ سیونگز اکاؤنٹ رکھنا (21 فیصد) شامل ہیں۔
اس حوالے سے ملینیئمز کی نسل یعنی اس وقت 25 سے 34 سال کی عمر کے لوگوں میں یہ باتیں چھپانے کا رجحان سب سے زیادہ پایا جاتا ہے جن میں یہ شرح ہر پانچ میں سے تین افراد کی ہے۔
تنظیم سے منسلک سارہ پوریٹا کہتی ہیں کہ اس رجحان کی مختلف وجوہات ہیں۔
”ایک خفیہ سیونگز اکاؤنٹ ان لوگوں کی مدد کر سکتا ہے جو کسی مشکل رشتے سے نکلنا چاہتے ہیں یا قرضے چھپنانا مالی معاملات سے پریشان ہونے والے فیملی کے رکن کو پریشانی سے بچانے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔‘‘
”ایسے لوگ جو پیسوں کے حوالے سے باتیں چھپاتے ہیں، ان میں سے کچھ کے لیے یہ شرمندگی کا باعث ہو سکتا ہے کہ قرضے کنٹرول سے باہر ہو گئے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سروے میں ملک بھر سے 5200 افراد نے شرکت کی اور اس کے نتائج کے مطابق برطانیہ میں ابھی بھی مالی معاملات پر بات کرنے کو برا سمجھا جاتا ہے۔
تقریباً 40 فیصد افراد نے کہا کہ وہ اپنے خدشات کے حوالے سے خاموش رہتے ہیں اور اکثر وہ شرمندگی یا لوگوں کی رائے کی وجہ سے خاموش ہوتے ہیں۔
اس جائزے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ لوگ اکثر اس بات کا اندازہ نہیں لگا پاتے کہ ان کے ساتھی اس حوالے سے ان سے کتنے راز رکھتے ہیں۔
اگرچہ 23 فیصد کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں ان کے ساتھی باتیں چھپاتے ہیں تاہم تقریباً نصف نے اس بات کا بھی اقرار کیا کہ انھوں نے کبھی نہ کبھی خود ایسا کیا ہے۔
”ہم نے معاملات حل کر لیے‘‘
ایک شخص کا کہنا تھا کہ ”میں کریڈٹ کارڈ اور قرضوں کی وجہ سے دیوالیہ کے قریب تھا مگر میں نے تب تک اپنے ساتھی کو ان کے بارے میں نہیں بتایا جب تک انھیں مزید چھپایا نہیں جا سکتا تھا۔ میں نے اس مسئلے کا اعتراف کیا اور پھر ہم نے معاملات حل کیے۔‘‘
ایک اور خاتون کا کہنا تھا کہ ”میں نے اپنے شوہر کو نہیں بتایا جب میرے سے ہمارا کریڈٹ کارڈ کا قرضہ قابو سے باہر ہو گیا اور میں مینیمم پیمنٹ اور کارڈوں کو ہی سنبھالتی رہی۔ آخرکار میں نے اس کا اعتراف کیا اور یہ مانا کہ میرے پر کتنا قرضہ ہے۔ اس نے میری مدد کی اور میں نے ایک پیمنٹ پلان لیا جس کی میں ایک سال سے قسطیں دے رہی ہوں۔ آج ہم مالی طور پر کافی مستحکم ہیں۔‘‘
یہ سروے ایک ایسے وقت پر کیا گیا ہے جب ٹاک منٹ ویک مانا جا رہا ہے جس میں لوگوں سے کہا جا رہا ہے کہ جو لوگ کورونا وائرس کی وبا کے باعث مالی مشکلات کا شکار ہیں وہ اپنے کسی دوست یا فیملی کے رکن یا کسی مالی امور کے ماہر سے بات کریں۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ ایسا کرنے سے مالی مشکلات پر قابو پایا جا سکتا ہے اور لوگوں کی صحت اور ان کے آپسی رشتے بہت بہتر ہو سکتے ہیں۔