آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ویانا حملہ: ’داعش میں شمولیت کے خواہشمند‘ حملہ آور کو ’گذشتہ دسمبر ہی جیل سے رہا کیا گیا تھا‘
آسٹریا کے دارالحکومت ویانا کے مرکز میں پیر کی شام ہونے والے حملے کے بعد پولیس نے 14 مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
اس حملے کے ملزم کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ یہ ایک 20 سالہ 'اسلامی شدت پسند‘ تھا جسے دسمبر 2019 میں جیل سے رہا کیا گیا تھا۔
ویانا میں مزید حملہ آوروں کی تلاش کے لیے آپریشن جاری ہے جبکہ سکیورٹی نہایت سخت کر دی گئی ہے۔
مگر حکام کا خیال ہے کہ پولیس کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے حملہ آور نے ممکنہ طور پر تنِ تنہا یہ اقدام کیا ہوگا۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے پولیس کا کہنا تھا کہ رائفلوں سے لیس متعدد حملہ آوروں نے شہر کے وسطی علاقے میں چھ مقامات پر حملہ کیا۔
آسٹریا کے چانسلر سیباسٹیئن کرز کے مطابق اس حملے میں چار افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں ایک عمر رسیدہ خاتون اور مرد، ایک نوجوان راہ گیر اور ایک ویٹریس شامل ہیں۔ حملے میں 22 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
پولیس نے ایک حملہ آور کو موقع پر ہلاک بھی کر دیا تھا۔
جرمن وزیرِ خارجہ ہائیکو ماس نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے ٹویٹ کی کہ ہلاک ہونے والی ایک خاتون جرمن تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بھی پڑھیے
حملہ آور کے بارے میں کیا معلومات دستیاب ہیں؟
آسٹریا کے چانسلر سیباسٹیئن کرز نے اس حملے کو ’قابلِ مذمت‘ قرار دیا ہے جبکہ وزیرِ داخلہ کارل نیہامر کا کہنا ہے کہ جس حملہ آور کو پولیس نے ہلاک کیا وہ ’اسلامی شدت پسند‘ تھا۔
وزیرِ داخلہ نیہامر کے مطابق ہلاک حملہ آور کا نام کژتم فجژولائی تھا۔ انھیں شدت پسند تنظیم نام نہاد دولتِ اسلامیہ میں شمولیت اختیار کرنے کے لیے شام جانے کی کوشش میں اپریل 2019 میں 22 ماہ کے لیے جیل بھیج دیا گیا تھا۔
تاہم نوجوانوں کے لیے قانونی آسانی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے انھیں گذشتہ دسمبر میں رہا کر دیا گیا تھا۔ وزیرِ داخلہ نے کہا کہ وہ حکام کو قائل کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے کہ اب وہ انتہاپسند اسلامی نظریات نہیں رکھتے۔
شمالی مقدونیہ سے تعلق رکھنے والے حملہ آور کے پاس آسٹریا اور مقدونیہ دونوں کی شہریت تھیں۔
وزیر داخلہ نے بعد ازاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہلاک ہونے والا حملہ آور شدت پسند تنظیم داعش کا ہمدرد تھا، جس کے گھر کی تلاشی کے دوران ویڈیو میٹریل قبضے میں لیا ہے۔
محکمہ پولیس نے ایک ٹویٹ کے ذریعے آگاہ کیا ہے کہ ہلاک ہونے والے حملہ آور نے جسم پر نقلی خود کش بیلٹ بھی پہن رکھی تھی۔
حملے کے بعد برطانیہ نے بھی دہشتگرد حملے کے امکان کو مدِنظر رکھتے ہویے اپنی سکیورٹی میں اضافہ کر دیا ہے۔ وہاں کے حکام کے مطابق حملے کا بلند امکان ہے مگر یقینی طور پر انٹیلیجنس نے کسی کی نشاندہی نہیں کی ہے۔
آسٹریا کے چانسلر سیباسٹیئن کرز نے ٹوئٹر پر کہا کہ 'ہم اپنی جمہوریہ میں مشکل گھڑی سے گزر رہے ہیں۔ ہماری پولیس اس قابلِ مذمت دہشتگرد حملے کے منصوبہ سازوں کے خلاف فیصلہ کُن کارروائی کرے گی۔'
انھوں نے مزید لکھا کہ 'ہم کبھی بھی دہشتگردی سے گھبرائیں گے نہیں، اور اس حملے کا اپنے تمام وسائل سے مقابلہ کریں گے۔'
واقعے کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آسٹریا کے وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ ہلاک کیا جانے والا حملہ آور شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کا حامی تھا جس کی رہائش گاہ کی تلاشی کے دوران ویڈیو مواد قبضے میں لیا گیا ہے۔
اس سے قبل وزیرِ داخلہ نے یہ بھی بتایا تھا کہ ایک ’مسلح اور خطرناک‘ حملہ آور مفرور ہے۔ انھوں نے ویانا کے شہریوں سے شہر کے وسطی علاقے میں نہ جانے اور والدین سے منگل کو بچوں کو سکول نہ بھیجنے کی اپیل بھی کی تھی۔
پولیس افسر کی جان بچانے والے ترک افراد
حملے کے بعد یہ بات بھی سامنے آئی کہ حملہ آور کے ہاتھوں گولی کھا کر زخمی ہونے والے پولیس افسر کو محفوظ مقام تک دو ترک باشندوں نے پہنچایا۔
میکائیل اوزین نامی مکسڈ مارشل آرٹس فائٹر نے صحافیوں کو بتایا: 'میں نے ان کی ٹانگیں پکڑیں، انھوں نے اسے کندھے سے پکڑا، ظاہر ہے وہاں پولیس بھی تھی اور انھوں نے بھی مدد کی، اور ہم نے انھیں فوری طور پر ایمبولینس میں پہنچایا۔'
وزیرِ داخلہ نیہامر نے ان کی تعریف کرتے ہوئے کہا: 'پہلے سے کہیں زیادہ اگر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہمارے معاشرے کو تشدد، دہشت اور خوف سے تقسیم کر سکتے ہیں، تو یہ اہم ہے کہ ہم متحد رہیں۔'
ہم اب تک اس حملے کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟
یہ واقعہ شہر کے مرکزی شویڈینپلاٹس سکوائر کے قریب پیش آیا ہے۔ پولیس نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس علاقے سے دور رہیں اور پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال نہ کریں۔
فائرنگ کا یہ واقعہ ایک یہودی عبادت گاہ کے قریب پیش آیا ہے۔
یہودی برادری کے مقامی رہنما نے ٹویٹ میں کہا ہے کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ حملے کا نشانہ عبادت گاہ تھی۔ حملے کے وقت عبادت گاہ بند تھی۔ ایک مقامی اخبار کے مطابق عبادت گاہ کی حفاظت پر مامور سکیورٹی گارڈ اس حملے میں زخمی ہوا ہے۔
سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگ بھاگ رہے ہیں جبکہ پس منظر میں مبینہ طور پر گولیاں چلنے کی آوازیں آ رہی ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایک عینی شاہد نے سرکاری نشریاتی ادارے او آر ایف کو بتایا کہ 'ہمیں لگا کہ یہ پٹاخے ہیں مگر بعد میں احساس ہوا کہ یہ گولیاں ہیں۔'
پڑوسی ملک جمہوریہ چیک نے کہا کہ وہ احتیاطی اقدام کے طور پر دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر مسافروں اور گاڑیوں کی تلاشی لے رہے ہیں۔
اب تک اس حملے پر کیا ردِ عمل آیا ہے؟
فرانس کے صدر ایمانوئیل میکخواں نے ٹوئٹر پر لکھا کہ یورپ کو حملوں سے 'ہمت نہیں ہارنی' چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ 'ہم فرانسیسی لوگ آسٹریائی لوگوں کے صدمے اور دکھ میں شریک ہیں جنھیں ان کے دارالحکومت ویانا کے دل میں اس شام ہونے والے حملے سے دھچکا لگا ہے۔ فرانس کے بعد ہمارے ایک دوست پر حملہ ہوا ہے۔ یہ یورپ ہے۔ ہمارے دشمنوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اُن کا سامنا کس سے ہے۔'
یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے فرانس کے شہر نیس کے ایک گرجا گھر میں چاقو کے حملے میں تین افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
برطانیہ کے وزیرِ اعظم بورس جانسن نے ویانا کے لوگوں کے لیے ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ 'ویانا میں آج ہونے والے حملوں سے نہایت صدمے' کے شکار ہیں۔
انھوں نے کہا کہ برطانیہ آسٹریا کے لوگوں کے ساتھ دہشتگردی کے خلاف متحد ہے۔
یورپی کونسل کے صدر چارلس مشیل نے اسے بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ جان اور انسانی اقدار کے خلاف ہے۔