آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ڈونلڈ ٹرمپ اور کورونا وائرس: گذشتہ 24 گھنٹوں سے امریکی صدر میں کورونا وائرس کی کوئی علامت ظاہر نہیں ہوئی، معالج
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے معالج نے کہا ہے کہ ٹرمپ میں گذشتہ 24 گھنٹوں سے بھی زیادہ عرصے کے دوران کووڈ 19 کی کوئی علامت ظاہر نہیں ہوئی جبکہ انھوں نے گذشتہ چار دنوں میں بخار کی شکایت بھی نہیں کی۔
ڈاکٹر شان کونلی کا مزید کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کو جمعے کے روز ہسپتال داخل ہونے کے بعد سے اضافی آکسیجن کی ضرورت بھی نہیں پڑی۔ صدر ٹرمپ کو پیر کے روز ہسپتال سے ڈسچارج کیا گیا تھا۔
ادھر وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ’بہت اچھا‘ محسوس کر رہے ہیں اور اس کے بعد انھوں نے اپنے دفتر میں مختلف بریفنگز بھی لیں۔
یہ خبر نائب صدارتی بحث سے قبل سامنے آئی ہے۔ بدھ کے روز امریکی نائب صدر مائیک پینس اور ڈیموکریٹ جماعت کی نائب صدارتی امیدوار کملا ہیرس کے درمیان ہونے والی بحث کو خاصی اہمیت دی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کچھ ماہرین نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے ڈیموکریٹ حریف جو بائیڈن کے درمیان ہونے والی پہلی صدارتی بحث پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے ’انتشار پر مبنی‘ اور ’بھدا‘ قرار دیا تھا۔ 29 ستمبر کو ہونے والی اس بحث میں پالیسی سے متعلق بہت کم بات کی گئی اور دونوں امیدواروں کی جانب سے ایک دوسرے کی تضحیک کی گئی اور ایک دوسرے کو بارہا ٹوکا گیا۔
ایک طرف تو ٹرمپ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد رہنمائی کی تمام تر صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے لیکن دوسری جانب ان کے ناقدین کہتے ہیں کہ ان کا رویہ بتدریج غیر اخلاقی ہوتا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ کی ہسپتال سے وائٹ ہاؤس منتقلی اور ان کے ایک مشیر سٹیفن ملر میں کورونا وائرس کی تشخیص کے بعد سے انتظامیہ کی جانب سے نئے حفاظتی اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔
امریکہ میں صدارتی انتخابات تین نومبر کو منعقد ہوں گے۔ الیکشن مہم کے دوران سامنے آنے والا سب سے اہم مسئلہ کورونا وائرس کے حوالے سے معاشی پیکج ہے۔ ٹرمپ نے منگل کے روز بظاہر ڈیموکریٹس کے ساتھ مذاکرات کا خاتمہ کر دیا تھا تاہم بعد میں انھوں نے کہا کہ وہ کچھ انفرادی اقدامات پر اتفاق کر سکتے ہیں۔
ٹرمپ کی صحت سے متعلق تازہ ترین رپورٹ کیا ہے؟
ڈاکٹر کونلی کی جانب سے دی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’ان کاجسمانی معائنہ اور بنیادی تشخیصی عناصر جن میں جسم میں آکسیجن کی مقدار اور سانس لینے کی شرح شامل ہیں تمام ہی معمول پر تھے۔‘
’صدر کے پیر کو لیے گئے لیبارٹری ٹیسٹوں کے مطابق سارس کووی 2 آئی جی جی اینٹی باڈی کی قابل شناخت مقدار کے شواہد ملے ہیں۔‘
اس سے قبل جمعرات کو اینٹی باڈیز کو ’ناقابلِ شناخت‘ قرار دیا گیا تھا۔
معالج کے مطابق ’ہم اس حوالے سے ان کا جائزہ لیتے رہیں گے اور جیسے ہی مجھے کچھ معلوم ہوا میں آپ کو آگاہ کر دوں گا۔‘
خیال رہے کہ جسم میں اینٹی باڈیز انفیکشن کا مقابلہ کرنے کے لیے بنتی ہیں اور خون میں کورونا وائرس کی اینٹی باڈیز کا مطلب یہ ہے کہ وہ شخص وائرس سے متاثر ہو چکا ہے۔ تاہم یہ معلوم نہیں ہے کہ ان کی موجودگی کسی شخص کو دوبارہ وائرس سے بچا پاتی ہیں یا نہیں۔
وائٹ ہاؤس میں کیا ہوا؟
حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ جب بدھ کو اوول آفس میں واپس آئے تو انھیں خلیج میکسیکو میں سمندری طوفان اور ڈیموکریٹس کے ساتھ کورونا وائرس کے معاشی اثرات سے نمٹنے کے لیے معاشی پیکج سے متعلق مذاکرات کے بارے میں بتایا گیا۔
ٹرمپ ہسپتال سے واپسی کے بعد سے انتہائی پرجوش دکھائی دے رہے ہیں۔ انھوں نے اپنی رہائش گاہ تک محدود رہنے کی بجائے اوول آفس کا رخ کیا ہے، وہ جلد قوم سے خطاب بھی کرنا چاہتے ہیں اور اپنی انتخابی مہم کا جلد دوبارہ آغاز کرنے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔
تاہم ان کے متعدد مشیر اور سٹاف خودساختہ تنہائی میں ہیں۔
دن کے آغاز میں چیف آف سٹاف مارک میڈوز کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ سے ملنے والا ہر شخص پورا حفاظتی لباس، ماسک اور حفاظتی عینکیں پہنتا ہے۔
پیر کے روز ایک میمو کے ذریعے صدر کی رہائش گاہ کے مغربی حصے کی پہلی منزل پر سٹاف کی آمدورفت میں کمی لانے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ جو شخص بھی صدر ٹرمپ سے چھ فٹ کے فاصلے پر ہو اسے کے لیے حفاظتی سامان پہننا اور ہینڈ سیناٹائزر کا استعمال لازمی ہے۔
چند اطلاعات کے مطابق وائٹ ہاؤس میں ماسک پہنے ہوئے افراد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جسے اس سے قبل ناقدین اورحریفوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
ٹرمپ کے حلقے میں موجود ایسے متعدد افراد کی شناخت کی جا چکی ہے جو کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ وائٹ ہاؤس میں یہ تعداد کتنی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے کم از کم نو سٹاف اراکین کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں تاہم یہ تعداد اس سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔
امریکی میڈیا سے وائٹ ہاؤس کے چند سٹاف اراکین نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ وہ ایسے افراد سے لاعلمی میں ملتے رہے جو یا تو کورونا سے متاثرہ تھے یا پھر انھیں اس سے متاثر ہونے کا خطرہ تھا۔
ڈیموکریٹ جماعت کی نمایاں رہنما نینسی پلوسی کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس اس ملک کی سب سے خطرناک جگہ ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’اس کے قریب بھی نہ جائیے گا۔
ٹرمپ کے سینیئر مشیر سٹیفن ملر منگل کے روز انتظامیہ کے ان افراد میں شامل ہوئے تھے جو کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔
کوسٹ گارڈ کے ایڈمرل چارلس رے میں کورونا وائرس کی تشخیص کے بعد سے متعدد سینیئر ملٹری رہنما بھی قرنطینہ میں ہیں۔
گذشتہ چند دنوں سے سامنے آنے والے رائے عامہ کے سرویز کے مطابق جو بائیڈن کو صدر ٹرمپ پر آٹھ سے 12 پوائنٹس کی برتری ہے۔ تاہم یہ عین ممکن ہے کہ اس انتخاب کا فیصلہ ان ریاستوں کے نتائج پر ہو گا جہاں ہمیشہ سے ہی دونوں جماعتوں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہوتا ہے۔