آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
چینی سفیر کے اکاؤنٹ سے پورن کلپ ’لائیک‘ ہونے پر ٹوئٹر سے تحقیقات کا مطالبہ
برطانیہ میں چینی سفارت خانے کی جانب سے چینی سفیر کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ایک پورن کلپ ’لائیک‘ ہونے کے بعد ٹوئٹر سے ’جامع تحقیقات‘ کی درخواست کی گئی ہے۔
برطانیہ کے لیے چینی سفیر لیو شیومنگ کے اکاؤنٹ سے ایسے ٹویٹس بھی لائیک کیے گئے جن میں چینی کمیونسٹ جماعت (سی سی پی) پر تنقید کی گئی تھی اور ان میں ایسی پوسٹس بھی تھیں جن میں موجود ویڈیوز میں مبینہ طور پر حراست میں لیے گئے اویغور مسلمانوں کی آنکھوں پر پٹیاں باندھی گئی تھیں۔
حکام کا دعویٰ ہے کہ چینی سفیر کے اکاؤنٹ پر ’چین مخالف قوتوں نے ایک بہیمانہ حملہ‘ کیا ہے جو ایک ’شرمناک‘ منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد ’عوام کو دھوکہ دینا ہے۔‘
ٹوئٹر نے ابھی اس حوالے سے کوئی وضاحت جاری نہیں کی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کے اکاؤنٹ کی سرگرمیاں پہلی مرتبہ اس وقت توجہ کا مرکز بنیں جب اس اکاؤنٹ سے 10 سیکنڈ کا ایسا ویڈیو کلپ لائیک کیا گیا جو فہش مواد شیئر کرنے والے پیچ کی جانب سے پوسٹ کیا گیا تھا اور اس پر چینی زبان میں تفصیلات درج تھیں۔
لندن میں مقیم ایک انسانی حقوق کے کارکن نے دیگر ٹوئٹر صارفین کی توجہ اس جانب دلوائی اور سکرین شاٹ کو بطور ثبوت بدھ کی صبح شیئر کر دیا۔
اس کلپ کو تھوڑی دیر بعد اکاؤنٹ کنٹرول کرنے والے شخص نے ’ان لائیک‘ کر دیا تاہم کچھ دیگر ٹویٹس جنھیں بہت پہلے لائیک کیا گیا تھا انھیں بھی کچھ دیر بعد ان لائیک کر دیا گیا۔
ایک ٹویٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا تھا کہ حکام نے ’ملکی معاملات میں مداخلت نہ کروانے کے لیے دوسروں کی تعریفیں کیں تاکہ چین میں چند افراد کو ہلاک کرنے کے بعد بچا جا سکے‘۔
ایک پوسٹ میں ایک ایسا ویڈیو کلپ ہے جو مبینہ طور پر اویغور مسلمان کی ایسی ڈرون فوٹیج ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ انھیں ’حراستی مراکز‘ میں لے جایا جا رہا ہے۔
بیجنگ کی جانب سے اس سے قبل چین کے مغربی صوبے سنکیانگ میں اویغور مسلمانوں کو بڑی تعداد میں حراستی مراکز میں رکھنے کے الزام کی تردید کی گئی تھی۔
جبکہ برطانیہ کے لیے چینی سفیر کو جب گذشتہ برس بی بی سی کے ایک پروگرام میں ڈرون فوٹیج دکھائی گئی تھی تو انھوں نے ملک میں اویغور خواتین کو بانجھ کرنے کے الزام کی تردید کی تھی۔
چین کے شہری علاقوں میں ٹوئٹر کو بلاک کیا گیا ہے تاہم گذشتہ چند برسوں کے دوران چینی حکام ٹوئٹر پر کافی سرگرم نظر آ رہے ہیں اور لیو شیومنگ کا اکاؤنٹ گذشتہ برس اکتوبر میں بنایا گیا تھا۔
خیال رہے کہ ٹوئٹر پر لائیک کرنے کا مطلب ضروری نہیں ہے کہ صرف مذکورہ پوسٹ کے حوالے سے پسندیدگی کا اظہار ہی ہو بلکہ ان کے ذریعے پوسٹ کو ’بُک مارک‘ یعنی مستقبل میں نشاندہی کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے اور لائیک کا بٹن غلطی سے بھی دب سکتا ہے۔
کچھ ٹوئٹر صارفین کا خیال ہے کہ ہو سکتا ہے کہ پورنوگرافک کلپ کو غلطی سے لائیک کیا گیا ہو اور پھر دیگر ایسی پوسٹس کو لائیک کر کے اسے چھپانے کے لیے ایک کہانی بنانے کی کوشش کی گئی ہو۔ تاہم چینی حکام نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔
سفارت خانے کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’سفارت خانے نے یہ واقعہ ٹوئٹر کو رپورٹ کیا ہے اور ان سے کہا ہے کہ وہ جامع تحقیقات کر کے اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھیں۔ سفارت خانے کے پاس یہ حق ہے کہ وہ اس حوالے سے مزید کارروائی کرے اور ہمیں امید ہے کہ عوام اس طرح کی افواہوں پر یقین نہیں کریں گے اور نہ ہی انہیں پھیلائیں گے۔‘
لیو شیومنگ کے اکاؤنٹ کے لائیک والے سیکشن میں اب صرف دو ہی پوسٹس موجود ہیں۔ دونوں وہ ٹویٹس ہیں جو ان کی جانب سے سنہ 2019 میں پوسٹ کی گئی تھیں۔ ان کی جانب سے اس واقعے کی مناسبت سے ایک محاورہ بھی پوسٹ کیا گیا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ ’ایسے حملے کسی اچھے انسان کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔‘