ہر سالگرہ پر وہسکی ملتی تھی، اب اس وہسکی سے گھر خریدا جائے گا

وقت اشاعت

برطانیہ میں ایک نوجوان جن کو ان کی ہر سالگرہ پر اپنے والد کی طرف سے 18 سال پرانی وہسکی کی بوتل تحفے میں ملی تھی اب ان تمام بوتلوں کو بیچ کر گھر خرید رہے ہیں۔

ٹانٹن کے میتھیو رابسن 1992 میں پیدا ہوئے تھے۔ اس وقت سے اب تک ان کے والد ’میکیلن‘ وہسکی کی 28 بوتلوں پر 5000 پاؤنڈ خرچ کر چکے ہیں۔ ان بوتلوں کی اب کُل قیمت 40 ہزار پاؤنڈ ہے۔

رابسن نے کہا کہ ایک بچے کے لیے یہ شاید بہترین تحفہ نھیں تھا لیکن وہسکی کی ان بوتلوں کو نہ کھولنے کی سخت ہدایت کی وجہ سے آج وہ اس کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

میتھیو کے والد پِیٹ نے جن کا تعلق سکاٹ لینڈ سے ہے کہا کہ پہلی وہسکی کی بوتل جو خریدی گئی تھی وہ 1974 میں بنی تھی۔ ’میں نے سوچا کہ اگر ہر برس اسی طرح کروں گا تو اس کی 18ویں سالگرہ پر اس کے پاس 18 سال پرانی وہسکی کی 18 بوتلیں ہوں گی۔‘

انھوں نے کہا کہ وہ اپنے بیٹے کو سالگرہ پر صرف یہی ایک تحفہ نھیں دیتے تھے لیکن اب انھیں لگتا ہے کہ یہ ان کی خوش قسمتی تھی کہ وہ ایسا کرتے رہے۔

مزید پڑھیے

ماہرین کہتے ہیں کہ اس عرصے کے دوران ’میکیلن‘ وہسکی کا شمار جمع کی جانے والی انوکھی اشیا میں کیا جانے لگا ہے اور میتھیو کے پاس جمع بوتلوں کی کل قیمت 40 ہزار پاؤنڈ ہو سکتی ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ حالیہ دس پندرہ برسوں میں مکیلن کی قیمت میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میتھیو کی وہسکی کی بوتلوں میں ایشیا اور امریکہ سے خریداروں نے دلچسپی ظاہر کی ہے۔