پرتگال کے صدر نے سمندر میں پھنسی دو خواتین کو بچا لیا

،تصویر کا ذریعہRadiotelevisao Portuguesa
پرتگالی صدر نے اس وقت دو خواتین کی مدد کی جب تیز لہروں کی وجہ سے ان کی کشتی الٹ گئی۔
سنیچر کو 71 سالہ صدر مارسیلو ریبیلو ڈی سوزا نے الگارو بیچ پر ان خواتین کی مدد کی اور ان کو ایک تصویر میں تیر کر اُن خواتین کی طرف جاتے دیکھا جا سکتا ہے۔
بعد میں صدر نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ یہ خواتین نزدیک ہی کے ایک ساحل سے آنے والی بڑی لہروں میں پھنس گئی تھیں۔
صدر ریبیلو ڈی سوزا فی الحال وہاں کی سیاحت کو فروغ دینے کی غرض سے الگارو میں چھٹی پر ہیں۔
پرتگال کی معیشت اس کی سیاحت پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے جو کورونا وائرس سے شدید متاثر ہوئی ہے
ویڈیو فوٹیج میں اس لمحے کو دیکھا جا سکتا ہے جب صدر ان خواتین کی مدد کے لیے سمندر میں تیر کر ان کے پاس جا رہے تھے۔ ایک اور شخص پہلے ہی وہاں موجود تھا اور ان کی چھوٹی سی کشتی کو سیدھا کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ جیٹ سکی پر سوار دوسرے شخص نے دونوں خواتین کی ساحل تک پہنچنے میں مدد کی۔
اس کے بعد صدر نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ دونوں خواتین دوسرے ساحل سے تیز لہروں کے ساتھ بہہ کر وہاں آئی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہRadiotelevisao Portuguesa
مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے صدر نے مزید کہا کہ ’چونکہ مغرب کی جانب سے تیز لہریں آ رہی تھیں، اور یہ لہریں اتنی تیز تھیں کہ یہ دونوں بہہ گئیں۔ ان کے پیٹ میں پانی بھر چکا تھا جس کے سبب نہ تو وہ تیر پا رہی تھیں نہ اپنی کشتی پر چڑھ پا رہی تھیں اور نہ ہی اسے سیدھا کر پا رہی تھیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صدر نے کہا کہ جیٹ سکی پر موجود ایک اور ’محب وطن‘ نے ان کی مدد کی۔
انہوں نے متنبہ کیا کہ آئندہ خواتین کو محتاط رہنا چاہیے۔
براڈکاسٹر 20 منٹوز کے مطابق صدر سیاحت کو فروغ دینے کے لیے اپنی چھٹیاں ملک کے مختلف علاقوں میں گزار رہے ہیں۔
پرتگال ان ممالک کی فہرست میں شامل نہیں ہے جن کو برطانیہ کی حکومت نے قرنطینہ کی پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا ہوا ہے۔
پرتگال برطانوی سیاحوں میں انتہائی مقبول ہے جہاں ہر سال برطانیہ سے تقریباً تیس لاکھ سیاح جاتے ہیں۔





















