آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سعودی سفارتخانے کی موزمبیق میں مقامی عملے سے امتیازی سلوک کی تردید
- مصنف, ہوزیے ٹیمبے
- عہدہ, بی بی سی نیوز، مپُوٹو
- وقت اشاعت
موزمبیق کے دارالحکومت مپُوٹو میں قائم سعودی سفارتخانے نے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ وہ ہفتہ وار چھٹی پر بغیر اوور ٹائم دیے کام لیتا ہے اور مقامی عملے سے امتیازی سلوک کرتا ہے۔
سفارتخانے کا کہنا ہے کہ روزنامہ کارٹا ڈی موزمبیق میں نامعلوم کارکنوں کے حوالے سے شائع ہونے والی رپورٹ میں 'جو کچھ کہا گیا ہے وہ سب غلط اور بے بیناد الزامات پر مبنی ہے۔'
سفارتخانے کا مزید کہنا تھا کہ دفتری اوقات صبح 9 بجے سے سہ پہر 3 بجے تک ہیں، 'اور کسی پر اضافی کام کی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔'
مزید پڑھیے
نامعلوم ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ 2018 سے سعودی سفارتخانے میں کام کرنے والوں کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں ہوا ہے۔
اس کے جواب میں سفارتخانے نے تنخواہوں اور ملازمتی معاہدوں کی تفصیلات جاری کی ہیں جن کے مطابق مالی کی ماہانہ تنخواہ 646 ڈالر اور مترجم کی تنخواہ 1,460 ڈالر ہے جبکہ دوسرے مقامی عملے کی تنخواہیں ان حدود کے اندر ہیں۔ سارا عملہ باقاعدہ معاہدوں کے تحت کام کرتا ہے جن میں اوور ٹائم اور ٹرانسپورٹ الاؤنس اور 30 دن کی سالانہ چھٹیاں شامل ہیں۔
البتہ سفارتخانے نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے کورونا وائرس کی وجہ سے کھلے ہوئے برتنوں میں گھر سے کھانا لانے پر پابندی عائد کر رکھی ہے، لیکن ٹِن یا ڈبوں میں دستیاب خوراک لانے کی اجازت ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سفارتخانے نے اس الزام کی بھی تردید کی ہے کہ وہ مقامی عملے کے وائرس سے تحفظ کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کر رہا۔ کہا گیا ہے کہ 'صاف ظاہر ہے کہ وائرس کارکنوں کے درمیان امتیاز نہیں برتا۔'
سعودی عرب میں جبری مشقت کے واقعات کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔ مگر موزمبیق میں سعودی سفارتخانے نے نامعلوم ملازمین کی جانب سے وہاں کے حالات کار سے متعلق الزامات کی تردید کی ہے۔
سفارتخانے کا کہنا ہے کہ غلامی 'اسلامی اصولوں اور سعودی عرب کی اقدار کے منافی ہے۔'
موزمبیق کی وزارت خارجہ یا وزارت افرادی قوت کی جانب سے کارکنوں کے الزامات پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔