فُضلے پر تحقیق: یورپ کے نوجوانوں میں منشیات کے استعمال میں اضافے کا انکشاف

یورپ منشیات سیوریج

،تصویر کا ذریعہGetty Images

وقت اشاعت

یورپ میں ہونے والی ایک تحقیق میں تقریباً پانچ کروڑ لوگوں کی رہائش گاہوں سے نکلنے والے فُضلے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا ہے کہ دنیا کے امیر ترین براعظم پر غیر قانونی منشیات کا استعمال بڑھ رہا ہے۔

یورپی یونین میں منشیات کی روک تھام کے ادارے نے مارچ 2019 میں 23 یورپی ممالک کے 68 شہروں سے سیوریج کے پانی کے نمونے حاصل کیے اور ان کا جائزہ لیا تھا۔

سیوریج کے پانی کے ان نمونوں میں چار غیر قانونی منشیات کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے جن میں ایمفیٹامین، کوکین، ایم ڈی ایم اے (یا ایکسٹسی)، میتھ ایمفٹامین (آئس یا کرسٹل میتھ) شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

گذشتہ برسوں کے مقابلے 2019 میں ان چاروں منشیات کے استعمال میں مجموعی طور پر اضافہ دیکھا گیا ہے۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ 2018 کے مقابلے اس بار 42 میں سے آدھے شہروں میں، جہاں سے گندے پانی کے نمونے اکٹھے کیے گئے، ایکسٹسی کی باقیات کی تشخیص ہوئی ہے۔

کوکین

ادارے کا کہنا تھا کہ ایکسٹسی کا استعمال اب محض ایک خاص طبقے کے افراد کی طرف سے ’ڈانس کلبز اور پارٹیز تک محدود نہیں رہا بلکہ نوجوان لوگ اسے وسیع پیمانے پر اپنی نائٹ لائف میں استعمال کر رہے ہیں۔‘

ایکسٹسی کے سب سے زیادہ باقیات بیلجیئم، جرمنی اور ہالینڈ کے شہروں میں پائے گئے۔

یورپی یونین کا یہ ادارہ 2011 سے گندے پانی پر اسی نوعیت کی ریسرچ کر رہا ہے۔

جب کوئی شخض منشیات استعمال کرتا ہے تو آخر میں ان کے باقیات جسم سے خارج ہونے والے مادوں کے ذریعے سیوریج کے پانی میں مل جاتے ہیں۔

ادارے کے سائنسدان سیوریج کے پانی کے نمونوں کا جائزہ لے کر ’یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ایک علاقے میں لوگوں نے کس مقدار میں منشیات کا استعمال کیا ہے۔‘

تحقیق میں کہا گیا کہ ’یورپی ممالک کے مغربی اور جنوبی شہروں میں کوکین کا استعمال سب سے زیادہ رہا۔‘ ان میں خاص طور پر ہالینڈ، بیلجیئم، سپین اور برطانیہ کا ذکر کیا گیا ہے۔

لندن میں سیوریج کے پانی پر گذشتہ ایک سے زیادہ تحقیق میں باقی شہروں کے مقابلے سب سے زیادہ کوکین کی مقدار پائی گئی تھی۔

گذشتہ برسوں کے دوران دنیا بھر میں سیوریج کے پانی پر تحقیق بڑھ رہی ہے۔ ان کے ذریعے سائنسان لمبے عرصے تک منشیات کے استعمال کی عادت کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ایم ڈی ایم اے

،تصویر کا ذریعہCLEVELAND POLICE

ادارے کے سربراہ الیکسز گوسڈِیل نے کہا ہے کہ ’گذشتہ ایک دہائی کے دوران نئے منشیات کی روک تھام میں گندے پانی کا جائزہ اہم ثابت ہوا ہے اور اس کی مدد سے منشیات کی نگرانی کا بہتر طریقہ کار بنایا گیا ہے۔‘

’وقت اور جغرافیے کے اعتبار سے منشیات کے استعمال کی عادت سے متعلق براہِ راست معلومات فراہم کرنے کے علاوہ یہ الگ طریقہ یورپ کے اہم شہروں میں منشیات کے استعمال اور رویوں میں تبدیلی کے حوالے سے بتا سکتا ہے۔‘

تحقیق سے اور کیا معلوم ہوا ہے؟

  • 2018 اور 2019 میں گندے پانی پر تحقیق کے معلوم ہوا ہے کہ 2019 میں 17 شہروں میں آئس کا استعمال بڑھ گیا ہے۔ تام زیادہ تر مقامات پر آئس کے باقیات نہ ہونے کے برابر تھے۔
  • منشیات کا استعمال زیادہ تر ہفتے کے اختتام پر کیا جاتا ہے۔ 75 فیصد سے زیادہ شہروں میں جمعے اور پیر کے درمیان کوکین اور ایم ڈی ایم اے کے زیادہ باقیات دیکھے گئے۔
  • بڑے شہروں میں ان چار منشیات کے باقیات زیادہ تھے۔ اس سے منشیات کے استعمال کے حوالے سے سماجی اور آبادیاتی خصوصیات کی عکاسی ہوتی ہے۔