لندن کی ریجنٹ پارک مسجد میں چاقو زنی، ایک شخص گرفتار

مسجد میں پولیس

،تصویر کا ذریعہ@MurshHabib

وقت اشاعت

لندن میں پولیس نے شہر کی مشہور ریجنٹ پارک مسجد میں چھرا گھونپنے کی واردات کے بعد ایک شخص کو قتل کرنے کی نیت سے حملہ کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔

حملہ میں ایک 70 سالہ شخص زخمی ہوئے۔ پولیس اس واقعے کو دہشت گردی کے واقعے کے طور پر نہیں دیکھ رہی۔ زخمی شخص کو ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے جہاں ان کی حالت کو خطرے سے باہر قرار دیا گیا ہے۔

حملہ آور ایک 29 سالہ شخص ہے جسے وہاں موجود لوگوں نے نماز توڑ کر پکڑ لیا اور پولیس کے آنے پر اس کے حوالے کیا۔

مسجد کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ زخمی ہونے والے شخص موذن تھے اور انہیں دوپہر کو نماز کے دوران زخمی کیا گیا۔

مسجد کے ایک اہلکار ایاز احمد نے بتایا کہ اگر نمازی آگے نہ آتے تو یہ حملہ جان لیوا ہو سکتا تھا۔

مسجد کے اندر سے لی جانے والی تصاویر میں سرخ ہوڈ والی جیکٹ اور جینز پہنے ایک سفید فام شخص کو دیکھا جا سکتا ہے جسے پولیس نے پکڑ کر زمین پر لٹایا ہوا ہے۔

ایک ویڈیو میں ایک کرسی کے نیچے چھری بھی پڑی ہوئی نظر آ رہی ہے۔

Police inside mosque

،تصویر کا ذریعہ@MurshHabib

لندن میں تنظیم ’فیتھ فورم‘ کے ڈائریکٹر مصطفیٰ فیلڈ نے صحافیوں کو بتایا کہ حملہ آور نے گردن کے قریب ایک ہی وار کیا تھا جب نمازیوں نے نماز توڑ کر اسے پکڑ لیا۔

انھوں نے بعد میں بتایا کہ ان کی زخمی ہونے والے موذن ٹیلی فون پر بات ہوئی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ وہ ٹھیک ہیں اور بہتر محسوس کر رہے ہیں۔

ایک عینی شاہد نے بتایا کہ حملہ آور کو اس سے پہلے بھی مسجد میں دیکھا جا چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حملہ آور موذن کے بالکل پیچھے کھڑا نماز پڑھ رہا تھا۔ ’وہ میرے خیال میں ان کے نماز شروع کرنے کا انتظار کر رہا تھا‘۔

انسٹھ سالہ عینی شاہد نے بتایا کہ پورے واقعے کے دوران حملہ آور خاموش رہا۔

Map showing location of the mosque

حملے کے بعد برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے ٹویٹ کیا کہ انہیں اس واقعے پر انتہائی افسوس ہوا اور ان ہمدردیاں حملے کا نشانہ بننے والے شخص اور ان تمام افراد کے ساتھ ہیں جو اس سے متاثر ہوئے ہیں۔

ڈاکٹر الدلبیان کا کہنا ہے کہ ’ہم جو کچھ بھی ہوا اس پر اداس ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ صرف ایک واقعہ ہے کسی کے اکسانے یا نفرت کی وجہ سے کیا گیا اقدام ہے۔

پولیس کا خیال ہے کہ یہ ایک ہی واقعہ ہے۔ پولیس نے علاقے میں پیٹرولنگ بڑھا دی ہے جس کا مقصد نمازیوں اور مقامی کمیونٹی کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔